نئی ترامیم کے بعد جنرل عاصم منیر اختیارات کا اصل مرکز

ڈیفنس فورسز ایکٹ آف پاکستان میں حالیہ ترامیم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کو آرمی کے علاوہ نیوی اور ایئر فورس کے اہلکاروں کو بھی ملازمت سے فارغ کرنے، ان کا استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے اور انکی سروس کی مدت میں اضافہ یا کمی کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق یہ اختیارات مل جانے کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی طاقت اب صرف ’’کمانڈ‘‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس افسران کی کیریئر مینجمنٹ تک بھی پھیل گئی ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ تینوں مسلح افواج کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنانے کے نام پر ایسا مرکزی عسکری کمانڈ سسٹم تشکیل دیا گیا ہے جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو وسیع آپریشنل، مشاورتی، انتظامی اور مشترکہ دفاعی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ چونکہ اس وقت یہ منصب خود فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ہے اور وہ بیک وقت آرمی چیف بھی ہیں، اس لیے پاکستان کے عسکری نظام میں طاقت اور اختیار کا ایک بڑا حصہ ایک ہی شخصیت میں ضم ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے اعلیٰ عسکری کمانڈ ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی تب سامنے آئی ہے جب پارلیمنٹ نے حال ہی میں ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی۔ یہ قانون سازی گزشتہ سال کی 27ویں آئینی ترمیم کے تسلسل میں ہوئی جس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا منصب ختم کرکے چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا۔
حکومت کی جانب سے نئے قانون کا سرکاری اور ادارہ جاتی جواز یہ بتایا گیا ہے کہ بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں میں بری، بحری اور فضائی افواج کو الگ الگ کمانڈ کے بجائے زیادہ مؤثر مشترکہ نظام کے تحت چلایا جائے، ملٹی ڈومین آپریشنز کو مربوط کیا جائے اور تینوں افواج کی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ دفاعی حکمت عملی میں ضم کیا جائے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ڈفرنس فورسز ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا ہے جو مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت کام کرے گا۔ لیکن طاقت کے توازن کے اعتبار سے اس تبدیلی کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ تینوں افواج کے مشترکہ آپریشنل معاملات کے لیے اب ایک ایسا مرکزی عسکری منصب موجود ہے جو براہ راست فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ہے۔
نئے نظام کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو وزیراعظم کا پرنسپل ملٹری ایڈوائزر قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق معاملات میں وزیر اعظم کو اعلیٰ ترین فوجی مشاورت فراہم کرنے والا مرکزی عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز کا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں تینوں مسلح افواج کی آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول بھی دیا گیا ہے۔ یوں ماضی کے اس نظام کے مقابلے میں نمایاں فرق پیدا ہوگیا ہے جس میں تینوں سروسز کے سربراہ اپنے اپنے اداروں کی کمان کرتے تھے جبکہ مشترکہ معاملات میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا کردار زیادہ تر رابطہ کاری اور مشاورت تک محدود تھا۔
نئے قانون نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے دائرۂ اختیار کو صرف جنگی آپریشنز تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں ’’ملٹی ڈومین انٹیگریشن، کوآرڈی نیشن اور اوور سائٹ‘‘ سے متعلق وسیع ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں بری، بحری اور فضائی افواج کے ایسے معاملات جن کے اثرات تینوں مسلح افواج، قومی سلامتی یا سٹریٹجک سطح پر مرتب ہوتے ہوں، ان کی نگرانی کا مرکزی اختیار چیف آف ڈیفنس فورسز کے پاس آتا ہے۔ اس طرح نیا منصب محض تینوں افواج کے درمیان رابطہ کار نہیں بلکہ مشترکہ عسکری منصوبہ بندی اور آپریشنل ہم آہنگی کا مرکز بن گیا ہے۔
طاقت کے اعتبار سے سب سے اہم اضافہ بری بحری اور فضائی افواج سے تعلق رکھنے والے افسران کے کیریئر سے متعلق اختیارات ہیں۔ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو متعلقہ مسلح افواج کے قوانین کے تحت اہلکاروں کو ریٹائر کرنے، سروس سے فارغ کرنے، استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے، کسی فرد کو سروس میں برقرار رکھنے اور بعض صورتوں میں ریٹائرمنٹ کی عمر یا سروس کی مدت میں نرمی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت ہونے والی بعض تقرریاں اس اختیار سے مستثنیٰ ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ اختیارات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی طاقت اب صرف ’’کمانڈ‘‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ عسکری افرادی قوت اور کیریئر مینجمنٹ تک بھی پھیل گئی ہے۔
یہ اختیار اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ فوج میں سینئر افسران کی تقرری، ترقی، ریٹائرمنٹ اور سروس میں برقرار رہنے کے فیصلے کسی بھی آرمی چیف یا اعلیٰ عسکری کمانڈر کے ادارہ جاتی اثر و رسوخ کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ اب جب یہی شخصیت بیک وقت چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہے تو اس کا اثر صرف پاکستان آرمی تک محدود نہیں رہتا بلکہ مشترکہ دفاعی نظام میں بھی پھیل جاتا ہے۔ یوں ایک ہی منصب آپریشنل کمانڈ، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور اہم عسکری انتظامی معاملات کے بڑے حصے کو باہم جوڑ دیتا ہے۔
نئے قانون کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مزید اختیارات بھی تفویض کرسکتی ہے، جبکہ قانون پر عمل درآمد کے لیے حکومت اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو ہدایات اور قواعد وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس شق کی اہمیت یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات کو ایک جامد فہرست تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ قانونی فریم ورک میں مزید انتظامی ذمہ داریاں منتقل کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ اختیار بھی وفاقی حکومت کے قانونی دائرۂ اختیار کے اندر ہے؛ اس لیے اسے وزیراعظم کے تمام اختیارات کی براہ راست منتقلی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی بھی جنرل عاصم منیر کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا منصب ختم ہونے کے بعد نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا، جس کے پہلے سربراہ جنرل سید عامر رضا مقرر ہوئے۔ وزیراعظم نے ان کی تقرری چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کی، جس سے اس نئی اسٹریٹجک کمانڈ میں بھی CDF کے کردار کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ملک کی سٹریٹجک فورسز کے آپریشنل انضمام سے متعلق ہے۔ تاہم یہاں ایک بنیادی آئینی حد برقرار ہے: وزیراعظم کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو جوہری پالیسی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا حتمی اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نئے قانون نے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا اختیار بھی براہ راست جنرل عاصم منیر کو منتقل کردیا ہے۔ البتہ سٹریٹجک فورسز کے آپریشنل کمانڈ ڈھانچے میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا مرکزی کردار ان کی مجموعی عسکری اہمیت میں نمایاں اضافہ ضرور کرتا ہے۔
نواز شریف جیل سے لندن پہنچ گئے لیکن عمران جیل واپس
یہ پورا نظام دراصل نومبر 2025ء میں ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد شروع ہونے والی عسکری کمانڈ کی ازسرنو تشکیل کو مکمل کرتا ہے۔ اس ترمیم نے پرانے نظام میں موجود چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کو ختم کیا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو ایک نئے مرکزی منصب کے طور پر متعارف کرایا۔ اس کے بعد جنرل عامر رضا کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کے طور پر تقرری اور اب ڈیفنس فورسز ایکٹ کی منظوری نے اس نئے ڈھانچے کو عملی اور قانونی بنیاد فراہم کردی ہے۔
اس قانون کا اصل مقصد، حکومتی مؤقف کے مطابق، کسی ایک فرد کو غیر معمولی طاقت دینا نہیں بلکہ تینوں افواج کو جدید جنگ کے تقاضوں کے مطابق ایک مربوط کمانڈ سسٹم میں لانا ہے۔ لیکن اس قانونی ڈھانچے کا سیاسی اور ادارہ جاتی نتیجہ اس مقصد سے آگے نکل جاتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں جس شخصیت کے پاس چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب ہے وہی فیلڈ مارشل اور آرمی چیف بھی ہیں۔ چنانچہ آرمی کی براہ راست کمان، تینوں افواج کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ، وزیراعظم کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر کا کردار، مشترکہ اور سٹریٹجک معاملات کی نگرانی اور فوجی اہلکاروں کے کیریئر سے متعلق وسیع اختیارات ایک ہی شخصیت کے منصب سے منسلک ہوگئے ہیں۔
اسی لیے جنرل عاصم منیر کی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں تین بنیادی حوالوں سے مضبوط ہوتی ہے: اول، وہ اب صرف پاکستان آرمی کے سربراہ نہیں بلکہ تینوں افواج کے مشترکہ آپریشنل کمانڈر ہیں؛ دوم، وہ وزیراعظم کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر کی حیثیت سے قومی سلامتی اور دفاعی معاملات میں سب سے مرکزی فوجی مشاورتی کردار رکھتے ہیں؛ اور سوم، انہیں عسکری افسران کی سروس، ریٹائرمنٹ اور برقرار رکھنے جیسے معاملات میں ایسے اختیارات حاصل ہیں جو ان کے ادارہ جاتی اثر و رسوخ کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ان تینوں عناصر کا ملاپ چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کو ماضی کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور فعال بنا دیتا ہے۔
