پاکستانی سیاست دان ہمیشہ غلط جرنیل کیوں چنتے ہیں ؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاستدان بار بار کی غلطیوں کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ جس بھی جرنیل کو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے چنتے ہیں، وہی بالآخر ان کے لیے جلاد اور صیاد ثابت ہوتا ہے۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان تینوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے طاقتور فوجی سربراہوں پر انحصار کیا، لیکن بعدازاں یہی جرنیل ان کے لیے مشکلات کا سبب بنے اور ان کے اقتدار کے منصوبے الٹ گئے۔

 

رؤف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ وہ سازشی تھیوریوں پر یقین نہیں رکھتے، کیونکہ جب انسان کسی معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے تو اکثر اسے ’’سازش‘‘ کا نام دے کر اپنی لاعلمی چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں بڑے سیاسی رہنماؤں کی حکمت عملی اور فیصلوں کو سمجھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے، اس لیے وہ ان واقعات کا تجزیہ کرنے پر مجبور ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاست کا رخ متعین کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے حصے میں ایسے جمہوریت پسند سیاستدان ہی کیوں آئے جنہیں ہر وقت عوام کو اپنی مشکلات سے نکالنے کے بجائے خود عوام سے پوچھنا پڑتا ہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں آنے والے شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ اسے ملک، ریاست اور معاشرے کے مسائل کا ادراک اور ان کے حل کا کوئی نہ کوئی منصوبہ معلوم ہوگا، لیکن پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سیاسی قیادت اکثر عوام سے ہی رہنمائی مانگتی دکھائی دیتی ہے۔

 

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ حال ہی میں نئے صوبوں کے موضوع پر ہونے والے سوال و جواب کے دوران ایک طالب علم نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر سیاست میں آنے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ملک کے مسائل کیسے حل کرنے ہیں تو پھر وہ لیڈر کیوں بنتے ہیں۔ کلاسرا کے مطابق اس سوال پر ہال میں موجود افراد نے بھی اتفاق کا اظہار کیا۔ ان کے بقول پاکستانی سیاست نے رفتہ رفتہ کارکردگی کے بجائے ’مظلومیت‘ کو سیاسی کامیابی کا ایک اہم ذریعہ بنا لیا ہے۔ عمران خان کے جیل جانے سے قبل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما اپنے آپ کو مظلوم سمجھتے تھے اور ان کے پاس اس مظلومیت کے لیے مختلف دلائل موجود تھے۔ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کو سیاسی انتقام قرار دیتی رہی، جبکہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) اپنے خلاف مقدمات اور سزاؤں کو انتقامی کارروائیاں قرار دیتے رہے۔

 

کلاسرا کے مطابق عمران خان نے سیاست میں آنے کے بعد اپنے مخالفین کو چالیس سال تک ملک پر حکمرانی اور اسے لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا، تاہم ایک دلچسپ تضاد یہ تھا کہ وہ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار کو بعض اوقات موجودہ دور سے بہتر قرار دیتے رہے۔ رؤف کلاسرا نے یاد دلایا کہ جنرل ضیا کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، جبکہ جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف کو سزا سنائی گئی اور اسی دور میں بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ رؤف کلاسرا نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ہر جماعت کو دوسرے کے دور کا ظلم تو نظر آتا ہے، مگر اپنے سیاسی مفاد کے مطابق ماضی کے اسی نظام کے بعض حصوں کو قابل قبول سمجھ لیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’’جس تن لاگے سو تن جانے‘‘ کے مصداق پیپلز پارٹی کو جنرل ضیا کا دور برا لگتا ہے، نواز شریف کو جنرل مشرف کا دور برا لگتا ہے، جبکہ تحریک انصاف موجودہ دور کو اپنے لیے سب سے زیادہ مشکل سمجھتی ہے۔

 

انہوں نے پاکستانی سیاست کا موازنہ دنیا کے دیگر جمہوری معاشروں سے کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر سیاسی رہنما عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے بنیادی انسانی حقوق، معاشی مفادات اور ریاستی تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ ان کے مطابق کامیاب جمہوریت میں سیاسی رہنما یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے تو انہیں اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔ کلاسرا نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں وہاں کئی وزرائے اعظم تبدیل ہوئے، بعض نے خود استعفیٰ دیا اور بعض کو اپنی جماعت کے دباؤ پر عہدہ چھوڑنا پڑا، مگر ریاستی نظام چلتا رہا۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسا تاثر پیدا کردیا گیا ہے کہ اگر نواز شریف، آصف علی زرداری یا عمران خان میں سے کوئی ایک سیاسی منظرنامے میں موجود نہ ہو تو شاید ملک کا نظام ہی رک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنے اپنے ’کلٹ‘ Cult بنا لیے ہیں اور ان کے حامی دن رات اپنے رہنما کی عظمت، مظلومیت اور سیاسی اہمیت بیان کرتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جن سیاستدانوں کو عوام کے مسائل حل کرنے تھے، ان کے مسائل حل کرنے کے لیے خود عوام کو سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کارکن اپنے رہنماؤں کے لیے جیل جاتے، مقدمات بھگتتے، تشدد برداشت کرتے اور اپنی زندگیاں مشکلات سے دوچار کرتے ہیں، جبکہ سیاسی رہنما خود کو مظلوم ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

 

رؤف کلاسرا نے ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان کے سیاسی سفر میں ایک مشترکہ نکتہ یہ بتایا کہ  تینوں رہنماؤں کی خواہش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں ایسے فوجی سربراہ درکار تھے جو ان کے سیاسی منصوبوں میں مددگار ثابت ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ بھٹو نے جنرل ضیا الحق کو فوج میں ساتویں نمبر سے اوپر لا کر آرمی چیف بنایا اور ان کے ذہن میں جنرل ضیا کی وفاداری اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے اپنے سیاسی مفادات موجود تھے۔ تاہم بعد میں جنرل ضیا نے اقتدار سنبھال کر بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور بالآخر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

کلاسرا کے مطابق نواز شریف نے بھی جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے کے فیصلے کے ذریعے یہ تصور کیا کہ وہ ان کے لیے قابل اعتماد ثابت ہوں گے اور ان کے سیاسی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد کریں گے۔ بعدازاں دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے اور اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کردی۔ انہوں نے مزید لکھا کہ جنرل مشرف کے بعد جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کی کوشش بھی اسی سیاسی سوچ کا حصہ تھی جس کے تحت نواز شریف اقتدار کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق عمران خان نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دے کر ایک ایسا سیاسی منصوبہ بنایا جس میں وہ 2022ء میں جنرل فیض حمید کو آرمی چیف مقرر کرنے کے خواہاں تھے۔ ان کے بقول عمران خان کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگلا عام انتخابات صرف حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقتور فوجی حمایت کے ذریعے جیتا جائے گا، تاہم حالات نے ان کے منصوبے کو بھی ناکام بنا دیا۔ کلاسرا نے نتیجہ اخذ کیا کہ بھٹو، نواز شریف اور عمران خان تینوں نے جس فوجی قیادت کو اپنے اقتدار کو مضبوط اور طویل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، وقت آنے پر وہی طاقت ان کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ وہ طاقتور اداروں اور ان کے سربراہوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، مگر طاقت کے یہ مراکز بالآخر اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی سازش کون کر رہا ہے؟

رؤف کلاسرا کے مطابق جمہوریت کا مطلب کسی ایک سیاسی رہنما کا تاحیات اقتدار میں رہنا نہیں بلکہ اقتدار کی پرامن منتقلی، عوامی احتساب اور سیاسی عمل کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور عمران خان اس بنیادی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے طاقتور جرنیلوں پر انحصار کرتے رہے، لیکن جنہیں وہ اپنے سیاسی اقتدار کے محافظ سمجھ رہے تھے، وہی بالآخر ان کے لیے ’’جلاد اور صیاد‘‘ ثابت ہوئے۔

Back to top button