پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی سازش کون کر رہا ہے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی کو دیوار کے ساتھ لگانے کا منصوبہ بنا لیا ہے، لیکن وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو ملک میں سیاسی بحران بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق 2018ء سے متعارف کرایا گیا سیاسی نظام ایک بار پھر کروٹ لینے کے لیے تیار دکھائی دے رہا ہے اور اس مرحلے پر پہلی ترجیح پیپلز پارٹی سے سندھ چھیننا محسوس ہوتی ہے، تاہم ایسا تحریک انصاف کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

 

حفیظ اللہ نیازی نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک سال سے یہ رائے قائم تھی کہ موجودہ سیاسی نظام 2028ء میں کوئی بڑی کروٹ لے گا، لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ 2026ء ہی میں اس تبدیلی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوجائیں گے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ سیاسی نظام میں تبدیلی کا عمل توقع سے کہیں پہلے شروع ہوسکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد فوج سے لاتعلق ہوچکی ہے جبکہ عوام کا ایک بڑا حصہ فوج کے ذاتی مخالف بن جانے والے عمران خان کی حمایت میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بقول عمران خان کی مقبولیت نے انہیں عوام کے ایک بڑے طبقے کے لیے سیاسی عقیدت کی علامت بنا دیا ہے اور ایسے حالات میں حکومت زمین سے زیادہ ہوا میں معلق نظر آتی ہے۔ حفیظ اللہ نیازی کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد ریاستی معاملات سے اس لیے بھی لاتعلق دکھائی دیتی ہے کہ ان کا محبوب سیاسی رہنما پابند سلاسل ہے اور اس کے چاہنے والے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول مقبول سیاسی قیادت کو طویل عرصے تک قید رکھنا آسان کام نہیں، کیونکہ عوامی مقبولیت کو جیل کی دیواروں میں مستقل طور پر قید نہیں کیا جاسکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس کا سیاسی سرمایہ تیزی سے ختم ہوچکا ہے، جو اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ انکے مطابق اگر ملک کی مقبول ترین سیاسی قوت کو دوبارہ سیاسی نظام کا حصہ بنانے کا فیصلہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان کے مطابق حکومتی وزراء کی جانب سے بار بار یہ کہنا کہ ’’جوڑی سلامت تو اقتدار سلامت‘‘ دراصل ایک دفاعی اور وضاحتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

 

حفیظ اللہ نیازی نے ماضی کے ہائبرڈ نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان کی جوڑی کے چرچے عام تھے اور تحریک انصاف کے حلقوں میں عمران خان پر تنقید تو ممکن تھی، لیکن جنرل باجوہ کا نام لینا بھی ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اسی ہائبرڈ نظام نے عمران خان کو اقتدار تک پہنچایا، لیکن جب مقتدرہ کا اس نظام سے دل اچاٹ ہوا تو وزیراعظم کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ نیازی نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو کسی یونین کونسل یا ٹاؤن کمیٹی کی طرح نہیں چلایا جاسکتا۔ ان کے بقول 25 کروڑ لوگوں کو ایک ریوڑ سمجھ کر ہانکنے کی کوششیں قوموں کو کمزور اور بالآخر منتشر کردیتی ہیں۔ نواز شریف کو زبردستی اقتدار سے ہٹا کر عمران خان کو لانا، پھر عمران خان سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد انہیں اقتدار سے نکالنا اور اب دوبارہ عمران کی طرف دیکھنا کسی بلی چوہے کے کھیل سے زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے۔

 

انہوں نے پیپلز پارٹی کی سیاست کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بھٹو مخالف عناصر اس جماعت کی سیاست سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن اس کی سیاسی حکمت عملی کو سراہنے والے کروڑوں میں ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کے تعلقات کبھی مستقل اعتماد کی بنیاد پر قائم نہیں ہوسکے۔ حفیظ اللہ نیازی نے ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری تک پیپلز پارٹی اور فوج کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان ابتدا ہی سے موجود رہا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور اور بعد کے سیاسی واقعات کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو کی سیاسی واپسی اور 1988ء کے انتخابات کے پس منظر میں امریکی کردار کا بھی ذکر کیا۔

 

انہوں نے 2007ء میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری کی جانب سے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگانے کو بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کا اہم واقعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق زرداری کی برداشت اور سیاسی تدبر کو سراہا گیا، تاہم ان کے اس نعرے سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس کے برعکس نعرہ لگانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی نے عمران خان کے دور حکومت کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2019ء میں پلڈاٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران جنرل باجوہ نے نواز شریف کو محب وطن قرار دیا تھا، تاہم آصف علی زرداری کی وفاداری کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق اس واقعے سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کے باہمی تعلقات میں اعتماد کا عنصر کتنا پیچیدہ رہا ہے۔

 

ان کے مطابق جب بھی فوج اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی سیاسی مفاہمت یا گٹھ جوڑ ہوا، اس میں اصولی اعتماد کے بجائے مفادات اور موقع پرستی کا عنصر نمایاں رہا۔ تاہم پیپلز پارٹی نے فوج کے مقابلے میں اپنے سیاسی کارڈز ہمیشہ انتہائی مہارت سے استعمال کیے۔ حفیظ اللہ نیازی نے فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا قیام ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق صدر ور چیئرمین سینیٹ کے عہدے پیپلز پارٹی کو دینا بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسان فیصلہ نہیں تھا، تاہم سیاسی ضرورت کے تحت یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ جب سیاسی نظام کا آغاز ہی باہمی اعتماد کے فقدان سے ہو تو مستقبل میں مسائل پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور فوج کو امید تھی کہ پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ، پانی کی تقسیم اور دیگر بڑے قومی منصوبوں میں تعاون کرے گی، مگر کئی اہم معاملات پر اختلافات سامنے آگئے۔

 

عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے پنجاب اور سندھ کے علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے پیش کیے گئے بڑے نہری منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو ابتدا میں ایک بڑے قومی منصوبے کے طور پر دیکھا گیا، لیکن پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث یہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کے مطابق چھ نہروں کے معاملے پر ریاست کو جو سیاسی پسپائی اختیار کرنا پڑی، اس کا غصہ شاید ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے حوالے سے بھی جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں، انہیں ابھی تک کسی بڑی سیاسی جماعت کی واضح حمایت حاصل نہیں۔ ان کے مطابق ہائبرڈ نظام کے نمائندوں یا ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ایسے معاملات پر بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) سمیت کسی بڑی سیاسی جماعت نے کھل کر ان منصوبوں کی حمایت نہیں کی۔

 

حفیظ اللہ نیازی نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ سیاسی رویے کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری ریاست اور حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات میں دباؤ کی سیاست کو آگے بڑھا رہے ہیں اور انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد واضح طور پر کہا کہ کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو ان کی جماعت حکومت کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی اتحادی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہے تو کیا وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپنا اعتماد برقرار رکھ سکیں گے؟ ان کے مطابق یہ سوال موجودہ سیاسی نظام کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ حکومت کی پارلیمانی اکثریت میں پیپلز پارٹی کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Back to top button