کیا عمران کا بھی صدر مرسی کی طرح کھڑکنے کا امکان ہے؟

 

 

 

 

عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنے بھائی کی پمز ہسپتال سے اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا موازنہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی سے کرتے پوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں عمراان بھی دورانِ قید انتقال نہ کر جائیں۔ تاہم محمد مرسی کے آخری ایام اور عمران کی  قید کے حالات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دونوں میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان کو جیل میں فراہم کردہ طبی اور غذائی سہولیات کے حوالے سے وہ ابتر حالات درپیش نہیں جو مرسی کو درپیش تھے۔

 

ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پمز ہسپتال میں اپنے بھائی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بار بار اس بات کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے اور انہیں ذہنی ٹارچر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عظمیٰ کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران جیل حکام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کئی مرتبہ مرسی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں بتایا کہ وہ جیل حکام کو اپنی طبی اور جسمانی صورتِ حال سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں یہ بھی کہتے رہے کہ محمد مرسی کے ساتھ بھی قید کے دوران اسی نوعیت کے حالات پیش آئے تھے، لیکن ان کے بقول ان کی شکایات کے باوجود مناسب علاج نہیں کروایا گیا۔

 

عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے انہیں اپنی قید تنہائی اور علاج معالجے سے متعلق مشکلات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا کہ درخواستوں کے باوجود ان کی طبی ضروریات پر مناسب توجہ نہیں دی جا رہی تھی اور وہ مسلسل جیل حکام کو اپنی حالت کے بارے میں بتاتے رہے۔ تحریک انصاف طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ عمران کو اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کا سامنا ہے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پی ٹی آئی نے اسی مؤقف کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم کو ہسپتال منتقل کرکے طبی معائنہ اور علاج فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

 

تاہم حکومت عمران خان کے بارے میں پی ٹی آئی کے اس مؤقف کو مسترد کرتی رہی ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں بھی ضرورت کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے حکام غافل نہیں رہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے یہی مؤقف دہرایا ہے کہ عمران خان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی جب انہیں ضرورت ہوگی، انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

 

ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس کے بعد محمد مرسی کا نام ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ کی جانب سے اپنے بھائی کے حالات کا مرسی سے موازنہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سابق وزیراعظم کو پمز ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ محمد مرسی مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر تھے۔ وہ 2012 میں صدارتی انتخابات جیت کر اقتدار میں آئے، تاہم ان کی حکومت صرف ایک سال قائم رہ سکی۔ 3 جولائی 2013 کو مصر کی فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، جس کے بعد انہیں گرفتار کرکے قید کر دیا گیا۔

 

اقتدار سے برطرفی کے بعد محمد مرسی کو ابتدائی طور پر کئی ماہ تک نامعلوم مقامات پر رکھا گیا اور بعدازاں ان کے خلاف مختلف مقدمات قائم کیے گئے۔ ان پر اپنے سیاسی مخالفین اور مظاہرین کے خلاف کارروائی، خفیہ معلومات افشا کرنے، غیر ملکی عناصر سے روابط اور دیگر الزامات عائد کیے گئے۔ محمد مرسی نے اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا تھا۔ مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے خود کو مصر کا آئینی صدر قرار دیا اور کہا تھا کہ انہیں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹا کر زبردستی قید کیا گیا ہے۔

 

صدر مرسی کو بعدازاں مختلف مقدمات میں سزائیں بھی سنائی گئیں۔ تاہم ان کی قید کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں، ان کے اہل خانہ اور سیاسی جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل یہ الزامات عائد کیے گئے کہ انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، قید تنہائی میں رکھا گیا اور اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں تک ان کی رسائی انتہائی محدود کر دی گئی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق محمد مرسی کو قید کے دوران اپنے رشتہ داروں سے صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں وکیل اور ڈاکٹر تک بھی مناسب رسائی حاصل نہیں تھی۔ تنظیم کے مطابق طویل قید تنہائی نے ان کی جسمانی اور ذہنی حالت پر نمایاں اثر ڈالا تھا۔

 

صدر مرسی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس سمیت مختلف طبی مسائل کا شکار تھے اور ان کی صحت کے بارے میں خاندان کو مناسب معلومات اور رسائی حاصل نہیں تھی۔ ان کی بیٹی نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ جیل حکام نے ان کے والد کی بیماریوں کا مناسب علاج نہیں کیا۔ تاہم یاد رہے کہ عمران خان کو کوئی ایسی بیماری درپیش نہیں اور وہ جیل میں خالص دیسی خوراک بھی کھاتے ہیں اور روزانہ ورزش بھی کرتے ہیں۔

 

جہاں تک سابق صدر محمد مرسی کا تعلق ہے تو 17 جون 2019 کو مرسی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے ایک ساؤنڈ پروف پنجرے سے تقریباً پانچ منٹ تک گفتگو کی، جس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر گر گئے اور انتقال کر گئے۔ مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی تھی۔ مرسی کی موت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے خاندان کی جانب سے جیل میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان کی موت کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے طویل عرصے تک قید تنہائی میں رکھے جانے کے طبی اور انسانی نتائج قابلِ تشویش تھے۔

 

اسی پس منظر میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے عمران خان کا محمد مرسی سے موازنہ سیاسی طور پر خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم دونوں شخصیات کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ محمد مرسی کو طویل عرصے تک انتہائی محدود حالات میں رکھا گیا، اہل خانہ اور وکلا تک ان کی رسائی پر شدید پابندیاں رہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے بھی مسلسل تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا۔

 

اس کے برعکس عمران خان کی موجودہ قید کے دوران ان کے خاندان اور وکلا کو قانونی ذرائع سے ان تک رسائی حاصل ہوتی رہی ہے، ان کی طبیعت کے بارے میں طبی معائنوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں اور عدالت عظمیٰ نے بھی ان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔ اسی لیے محمد مرسی کے انجام کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

 

تاہم ڈاکٹر عظمیٰ خان کے خدشات نے عمران خان کی صحت، جیل میں ان کے حالات اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کے مؤقف میں اس معاملے پر واضح تضاد موجود ہے اور آنے والے دنوں میں عمران خان کی طبی صورتِ حال اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد اس بحث کی سمت کا تعین کرے گا۔

Back to top button