نواز شریف جیل سے لندن پہنچ سکتے ہیں تو عمران کیوں نہیں؟

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ اگر سزا یافتہ مجرم نواز شریف کو جیل سے نکال کر علاج کے لیے بیرون ملک بھجوایا جا سکتا ہے تو عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی بھی کوئی ناممکن بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں عدالتوں کی جانب سے نواز شریف کو ملنے والے ریلیف کو سامنے رکھتے ہوئے آج عمران خان کو ملنے والے عدالتی ریلیف پر مسلم لیگ (ن) کی پریشانی سمجھ سے بالاتر ہے۔

 

حامد میر نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومتی حلقوں کے ردعمل، نواز شریف کے ماضی میں ملنے والے عدالتی ریلیف اور موجودہ سیاسی صورت حال کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

حامد میر کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم سامنے آنے کے بعد حکمران جماعت کے ایک سینیٹر نے اس فیصلے کو نواز شریف کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی سازش قرار دیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما نے یہ وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی کہ عمران خان کو صرف ضمانت ملی ہے، ان کی رہائی نہیں ہوئی۔ ان کے بقول وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کے وزراء اپنی پریشانی چھپانے کے لیے ٹی وی کیمروں کے سامنے بار بار یہ یاد دلا رہے ہیں کہ عمران خان ایک سزایافتہ مجرم ہیں اور اگر ہر سزا یافتہ قیدی کو عدالتوں سے اسی نوعیت کا ریلیف ملنے لگا تو ہسپتالوں میں سزا یافتہ قیدیوں کے لیے بستر کم پڑ جائیں گے۔ اسی لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کر دی ہے جس کا فیصلہ جلد انے والا ہے۔

 

سینئیر صحافی کے مطابق حکومتی وزراء کے بیانات میں بھی ایک دوسرے سے اختلاف دکھائی دیتا ہے۔ انکے مطابق بے شک عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کو بھی العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سزا نہیں سنائی گئی تھی؟ حامد میر کے مطابق آج عمران خان کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے بیانات سن کر انہیں وہ بیانات یاد آ رہے ہیں جو ماضی میں تحریک انصاف کے رہنما نواز شریف کے بارے میں دیا کرتے تھے۔

حامد میر نے یاد دلایا کہ عمران خان اور ان کے متعدد وزراء یہ کہا کرتے تھے کہ نواز شریف ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اور ان کی تصویر ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آنی چاہیے۔ ان کے بقول آج عمران خان کی تصویر بھی ٹی وی اسکرین پر دکھانے کے حوالے سے پابندیاں موجود ہیں اور جب وہ اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے رہنما سخت ردعمل دیتے ہیں۔

 

حامد میر نے کہا کہ پاکستان میں تاریخ ہر لمحے اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔  انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تو کیا نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا نہیں سنائی گئی تھی؟ کیا اس سزا کے باوجود عدالتوں نے نواز شریف کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ اور کیا انہی عدالتوں نے طبی رپورٹس کی بنیاد پر نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی؟

 

حامد میر کہتے ہیں کہ نواز شریف کو عدالت نے ابتدائی طور پر صرف چار ہفتوں کے لیے لندن جانے کی اجازت دی تھی۔ تب ان سے مختلف ٹی وی چینلز پر سوال کیا جاتا تھا کہ کیا نواز شریف چار ہفتوں کے بعد وطن واپس آئیں گے؟ ان کے بقول وہ اس وقت جواب دیتے تھے کہ نواز شریف ضرور واپس آئیں گے، کیونکہ اب وہ پہلے والے نواز شریف نہیں رہے۔ تاہم نواز شریف چار ہفتوں کے اندر واپس نہیں آئے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جن میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی سفارش کی تھی، وہ رپورٹس جنرل فیض حمید نے تیار کرائی تھیں۔ حامد میر نے اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو بھی جوڑا ہے۔

 

ان کے مطابق نواز شریف کے لندن جانے کے بعد کچھ عرصے میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی گئی، جس کے بعد انہیں ماضی کے واقعات کی کڑیاں سمجھ میں آنے لگیں۔ حامد میر نے لکھا کہ نواز شریف اس وقت وطن واپس آئے جب عمران خان وزیر اعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل جا چکے تھے، جبکہ اس کے بعد نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمات کے حوالے سے بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ موجودہ معاملے میں بنیادی حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس عدالتی فیصلے پر بظاہر پریشان نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں سیاسی حالات تیزی سے بدلتے ہیں اور کسی بھی امکان کو قطعی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

 

انکا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی عدالتیں العزیزیہ کیس میں نواز شریف کو ملنے والی سزا ختم کر سکتی ہیں تو ایسا ہی ’’سانحہ‘‘ القادر ٹرسٹ کیس میں بھی رونما ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو عدالتوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ اگر عمران خان کو مزید ریلیف حاصل کرنا ہے تو تحریک انصاف کو وہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جو مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے لیے اختیار کی تھی۔ حامد میر کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو ریلیف دلوانے کے لیے سب سے پہلے بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو ساتھ ملایا اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے اپوزیشن اتحاد تشکیل دیا۔ اس اتحاد نے مختلف شہروں میں جلسے کیے اور مریم نواز نے ان سیاسی سرگرمیوں کے دوران لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے ملاقاتیں بھی کیں۔

عمران خان کو شفا ہسپتال سے واپس اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا

تجزیہ کار کے مطابق بعد ازاں سیاسی حالات نے رخ بدلا اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی، جس میں ان کے بقول آصف علی زرداری کا اہم کردار تھا۔ حامد میر نے موجودہ صورتحال کا موازنہ 2022ء کے سیاسی حالات سے کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم لیگ (ن) خود آصف علی زرداری کو ایوان صدر سے نکالنے کے منصوبے بنا رہی ہے، جبکہ 2022ء اور 2026ء کے سیاسی حالات میں نمایاں فرق موجود ہے۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ 2022ء میں ریاستی ادارے ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے تھے، جبکہ 2026ء میں انہیں ریاستی اداروں کے درمیان اس نوعیت کا تصادم نظر نہیں آتا۔ تاہم ان کے مطابق نئے صوبوں کی بحث نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی کھلبلی پیدا کر دی ہے اور اسی ماحول میں عمران خان کو بھی عدالتی ریلیف ملا ہے۔

 

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو خبردار کیا کہ اسے موجودہ کھلبلی کے دوران ایک واضح سیاسی مؤقف اختیار کرنا ہوگا، بصورت دیگر اس کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس فیصلے کے پیچھے سازش تلاش کرنا شروع کر دی ہے۔ حامد میر نے کہا کہ 2019ء میں شاید کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک سزا یافتہ مجرم نواز شریف جیل سے باہر آ جائیں گے اور ان کی سزا ختم ہو جائے گی۔ حامد میر کے مطابق اگر نواز شریف جیل سے باہر آ سکتے ہیں تو پھر کوئی اور بھی باہر آ سکتا ہے۔

Back to top button