عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کی تیاریاں تیز

بانی تحریک انصاف عمران خان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے تنازع میں شدت آنے کے بعد پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریاں تیز کر دی ہیں، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ اس بار 20 لاکھ کی بجائے 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا اور عمران خان کو رہائی دلوا کر ہی دم لیا جائے گا۔
دوسری جانب پارٹی کارکنوں نے وفاقی دارالحکومت میں طویل قیام کی تیاریوں کے ساتھ ممکنہ رکاوٹوں، گرفتاریوں اور آنسو گیس سے نمٹنے کے لیے بھی حکمت عملی بنانا شروع کر دی ہے۔
عمران خان کی صحت اور علاج کے معاملے پر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں تب اضافہ ہوا جب سپریم کورٹ نے انہیں علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق حکم جاری کیا۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے عمران خان کو شفا ہسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز منتقل کیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب سکیورٹی انتظامات کے تحت پمز منتقل کیا گیا، جہاں شفا ہسپتال کے ڈاکٹروں سمیت ماہر امراض چشم، امراض قلب اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق طبی معائنے کے بعد عمران خان کو ’’میڈیکلی فٹ‘‘ قرار دیا گیا۔ حکومت کے مطابق پمز میں عمران خان کی آنکھ کا علاج بھی جاری رکھا گیا اور انہیں آنکھ میں مطلوبہ انجیکشن دیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ چونکہ طبی معائنے کے بعد عمران خان کی صحت تسلی بخش اور وہ طبی طور پر فٹ قرار دیے گئے تھے، اس لیے انہیں ہسپتال میں مزید رکھنے کی کوئی طبی ضرورت نہیں تھی۔
عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی اس دوران ان کے ساتھ موجود رہیں۔ انہوں نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کا بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیل میں طویل قید اور تنہائی کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا، جس پر ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ حکومت کی جانب سے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے درخواست دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو 16 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ یوں عمران خان کی صحت اور علاج کا معاملہ ایک طرف عدالتی کارروائی کا موضوع بن گیا ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف نے ان کی رہائی کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے واضح اعلان کے بعد صوبے میں پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو میں سٹریٹ موومنٹ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ضرور ہوگا اور اب 20 لاکھ کے بجائے 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ لانگ مارچ کی قیادت وہ خود کریں گے اور کارکن مکمل تیاری کے ساتھ نکلیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں نے اسلام آباد میں طویل قیام کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کارکنوں کی جانب سے کپڑوں، بستر، خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ اگر لانگ مارچ کے شرکا کو دارالحکومت میں کئی روز قیام کرنا پڑا تو انہیں بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر احتجاجی راستوں میں رکاوٹوں اور پولیس کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے بھی مختلف منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ آنسو گیس سے بچاؤ کے لیے ماسک، پانی اور نمک سمیت دیگر اشیا ساتھ رکھنے کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ بعض کارکنوں کی جانب سے آنسو گیس کی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں بھی کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشاور سے پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے وقت ممکنہ پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کے پیش نظر بھی متبادل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔ صوابی سے اٹک تک ممکنہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خیبرپختونخوا سے کرینیں ساتھ لے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
تحریک انصاف اس سے قبل بھی احتجاجی مارچوں کے دوران کرینیں اپنے قافلوں کے ساتھ لے جا چکی ہے اور پارٹی کارکنوں نے کنٹینرز سمیت دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے ان کا استعمال کیا تھا۔ اب بھی پارٹی ذرائع کے مطابق اسی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق گرفتاریوں سے بچنے کے لیے بھی کارکنوں کو مختلف ہدایات دی جا رہی ہیں اور ضلعی سطح پر ذمہ داریاں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے وزیراعلیٰ اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما عوامی رابطہ مہم اور اسٹریٹ موومنٹ میں شریک ہو رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو متحرک کرنا ہے۔
ہنگو میں خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس دفعہ ہم نے کشتیاں جلا دی ہیں‘‘ اور 27 ستمبر کو کامیاب ہو کر واپس آنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود لانگ مارچ کی قیادت کریں گے اور کارکنوں کو بھی مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد پہنچنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ’’تیسرا کوئی راستہ نہیں‘‘۔
تاہم دوسری جانب سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کے دعووں اور زمینی صورتحال کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ پشاور میں فی الوقت 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے ایسی غیر معمولی گہما گہمی دکھائی نہیں دے رہی جس سے 40 لاکھ افراد کے بڑے اجتماع کی تیاری کا اندازہ لگایا جا سکے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں تحریک انصاف کی جانب سے ریلیاں اور عوامی رابطہ مہم جاری ہے اور وزیراعلیٰ آفریدی خود ان سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما ان اجتماعات کو لانگ مارچ کی تیاریوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں، تاہم بعض مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ریلیوں میں شرکا کی تعداد پارٹی کے دعووں کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتی ہے۔
میدان میں ساتھ کھیلنے والے دنیائے کرکٹ کے 21 سابق کپتان عمران خان کےلیے میدان میں کیوں آگئے؟
ایک طرف تحریک انصاف عمران خان کی صحت، ان کے علاج اور سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے معاملے کو 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے مرکزی سیاسی نکتہ بنا رہی ہے، تو دوسری جانب حکومت عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیے جانے کو اپنے مؤقف کی بنیاد بنا رہی ہے۔ مختصر یہ کہ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت اور 27 ستمبر کو مجوزہ لانگ مارچ، دونوں واقعات سیاسی منظرنامے میں خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
