پمز سانحہ! میری فدویانہ صبر سے دل کو تسلّی دینے کی کوشش

 

 

 

 

تحریر: نصرت جاوید

بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت

 

 

بدھ کی صبح اٹھتے ہی اسلام آباد کے مرکزی ہسپتال-پمز- میں 14نومولود بچوں کی آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے جاں  بحق ہوجانے کی خبر دیکھی تو اس شہر کا 1975ء سے رہائشی ہوتے ہوئے یاد آیا کہ بنیادی طورپر یہ ہسپتال جاپانی حکومت کی مدد سے 1985ء میں تعمیر ہوا تھا۔ اس کے قیام کا واحد مقصد بچوں کی پیدائش کی نگرانی کے علاوہ انہیں لاحق دیگر امراض کی جدید ترمشینوں کی مدد سے تشخیص اور علاج تھا۔ اسی وجہ سے ہم اسے چلڈرن ہسپتال کے نام سے پکارتے تھے۔ بچوں کے صدقے شہر ہی نہیں پاکستان کے ہر نوعیت کے امراض کے لئے ہمہ وقت پھیلتے ہسپتال میں 26اگست 2026ء کی صبح 14نومولود بچوں کا انتہائی نگہداشت کے لئے مختص وارڈ میں جاں بحق ہوجانے کی خبر نے مذکورہ پس منظر میں مزید اداس کردیا۔

ٹی وی سکرینوں پر پمز میں بھڑکی آگ کے حوالے سے جاری بریکنگ نیوز دیکھتے ہوئے یاد یہ بھی آیا کہ جولائی کے غالباََ پہلے ہفتے میں یہاں نرسوں کے لئے مختص رہائشی عمارت کے ایک حصے میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ خوش نصیبی سے اس پر بروقت قابو پالیا گیا۔ حادثے کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے مگر دریافت ہوا کہ پمز کے وسیع وعریض رقبے میں آگ پر قابو پانے کے لئے نصب ہوئے ہنگامی حالات میں درکار ا?لات وانتظامات ناکافی ہیں۔

سوشل میڈیا کی بدولت پھیلائے ہیجان کی وجہ سے ہر بری خبر سننے کے بعد فوری طورپر مشتعل ہوجانے والی قوم شاید یہ حقیقت بھی بھول چکی ہوگی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودحکومت نے اڈیالہ جیل میں مقید سابق وزیر اعظم کے بلڈپریشر سے جڑے مسائل کی تشخیص کے لئے انہیں شہر کے نجی ہسپتال کے بجائے پمز ہی لانے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹروں نے وہاں ان کا بلڈپریشر ان کی سگی بہن کے بقول ان کی موجودگی میں معمول کے مطابق پایا۔ ان کی آنکھوں کو دوا اگرچہ درکار تھی۔ اس کی فراہمی کے بعد انہیں جیل واپس بھیج دیا گیا۔

عمران خان کی 20 اور 21اگست کی درمیانی رات پمز ہسپتال موجودگی کے دوران چند صحافیوں کے بقول جدید ترین آلات سے لیس شہر کے مرکزی ہسپتال میں 2022ء میں خریدی وہ مشین موجود نہیں تھی جو بلڈپریشر کے مریض کے دل کی حالت کا سی ٹی انجیوگرافی کے ذریعے جائزہ لیتی ہے۔ بعدازاں تحقیقی صحافیوں کے ایک گروہ نے مگر دریافت کیا کہ مذکورہ مشین پمز میں موجود تھی۔ اس کے استعمال کے لئے مگر دل کے معا لجین کو ریڈیالوجی کے شعبے سے رجوع کرنا ہوتا ہے اور بانی تحریک انصاف کی پمز ہسپتال موجودگی کے دوران اس مشین سے رجوع کرنے کی تیاری نظر نہیں آئی۔

سی ٹی انجیوگرافی مشین کی سابق وزیر اعظم کی پمز موجودگی کے دوران عدم موجودگی یا اس کے استعمال کی تیاری نہ ہونے کی خبروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو فوری طورپر ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے کو مجبور کیا۔ میری عاجزانہ رائے میں عمران خان کی پمز موجودگی کے دوران دریافت ہوئی کوتاہی اس امر کی متقاضی تھی کہ اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی کے ذریعے پمز ہسپتال کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا۔ جس جائزے کا ذکر ہے وہ ہر صورت درکار تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے ’’سزا یافتہ‘‘ ہوتے ہوئے بھی ایک سابق وزیر اعظم کو تفصیلی طبی معائنے کے لئے اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل (Shift)کرنے کا حکم دیا تھا۔ نظر بظاہر حکومت نے مذکورہ حکم پر عملدرآمد سے گریز کرتے ہوئے انہیں پمز لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے فیصلے کے دفاع میں بانی تحریک انصاف کی سکیورٹی یقینی بنانے کے علاوہ یہ موقف بھی اختیار کیا کہ پمز میں ہر نوعیت کے مرض کی تسلی بخش تشخیص کے لئے پمز میں ماہرمعالج اور جدید ترین آلات میسر ہیں۔ بانی تحریک انصاف کی بہن اپنے بھائی کو شفا ہسپتال کے بجائے پمز لے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرچکی ہیں۔ ان کی درخواست کی سماعت  16ستمبر کو متوقع ہے۔ مجھے خبر نہیں کہ حکومتی وکلاء  بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کے بعد کن بنیادوں پر پمز ہسپتال میں سکیورٹی اور علاج سے جڑی سہولیات کا دفاع کرپائیں گے۔

بدھ کی صبح بھڑکی آگ پر قابو پانے کے لئے اسلام آباد کے سی ڈی اے نے جو عملہ بھیجا تھا اس کی ابتدائی رپورٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں آگ پر قابو پانے کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔ وہاں تعین حفاظتی عملے نے آگ بجھانے والوں کی مدد کی بجائے ان سے بحث وتکرار میں وقت ضائع کیا۔ نومولود بچوں کے لواحقین ٹی وی کیمروں کے روبرو بھرائی آوازوں سے دہائی مچاتے رہے کہ آگ بھڑک اٹھنے کے بعد نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت کے لئے مختص وارڈ میں عملے کی بہت کم تعداد موجود تھی۔ ان میں سے ایک دو کے علاوہ تمام افراد آگ کو پھیلتا دیکھے ہی وہاں سے مبینہ طورپر ’’فرار‘‘ ہوگئے۔ بچوں کے والدین نے اپنے تئیں بچوں کو انتہائی نگہداشت کے کمرے سے باہر نکالنے کی کوشش کی تو خارجی راستوں پر تالے نصب تھے۔

صحت عامہ کے لئے تعمیر ہوئے پمز جیسے وسیع وعریض ہسپتالوں میں ہنگامی حالات میں عمارتوں سے بحفاظت نکل جانے کے لئے خصوصی خارجی راستے بنائے جاتے ہیں۔ پمز میں وہ راستے موجود تھے۔ انہیں مگر تالے لگاکر بند کردیا گیا تھا۔ انہیں ہم ٹی وی کیمروں کی بدولت سارا دن دیکھتے رہے۔ تالوں کے نصب ہونے کا جواز چند واقعات ہیں جو نومولود بچوں کے اغواء  سے جڑے ہوئے ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے دور میں لیکن اب کسی بھی مقام کی 24/7نگرانی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ میری اطلاعات کے مطابق نومولود بچوں کی انتہائی نگہداشت کے لئے مختص وارڈ میں غیر متعلقہ لوگوں کے داخلے کو مختلف اقدامات کے ذریعے تقریباََ ناممکن بنادیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور مذکورہ انتظامات کے ہوتے ہوئے ہنگامی حالات میں عمارت سے نکلنے کے لئے خصوصی طورپر بنائے خارجی راستوں پر تالوں کی تنصیب ہر حوالے سے احمقانہ سفاکی کا اظہار ہے۔ اس کی بابت ہسپتال انتظامیہ اور ان کے سیاسی اور غیر سیاسی نگران ہرگز شرمندہ نظر نہیں آئے۔

جو واقعہ ہوا اس نے میرا دل دہلادیا ہے۔ اس واقعہ کے بے شمار پہلو محض ایک کالم میں زیر بحث لائے نہیں جاسکتے۔ جو حقیقت خطِ کشیدہ کے ذریعے اجاگرکرنا لازمی سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ چندحکومتی نمائندے اور سرکاری ادارے مذکورہ واقعے کے حوالے سے پرخلوص ندامت کے اظہار کے بجائے ڈھٹائی سے بدھ کی صبح ہوئے واقعہ کو محض ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کاوشوں میں مصروف ہیں۔ بے بس رعایا کارکن ہوتے ہوئے میں فدویانہ صبرہی سے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرسکتا ہوں۔

 

Back to top button