نظام منہدم، نظم تتر بتر

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پمز ہسپتال میں 14نومولود بچوں کا جل کر راکھ ہو جانا، ناقابل یقین و جانکاہ سانحہ، پورے حکومتی نظام اور نظم و نسق کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ سرکاری اسپتال کا جگر سوز واقعہ انتظامی نااہلی، بے حسی اور انسانی جان کی بے توقیری کی دلخراش داستان بن چکا ہے۔ وزیر داخلہ نے چند ہفتے پہلے اسی نظام کے منہدم ہونے کی خبر دی تھی ۔
ایک زمانہ تھا، مجھے وطنی گورننس میں گراوٹ، بے ترتیبی، طبقاتی افراط و تفریط وغیرہ بہت ستاتے تھے۔ ایسے موضوعات پر لکھنے کا شوق رہا، بہت سارے کالم لکھے بھی۔ بدقسمتی، بات بہت بڑھ گئی ہے۔ زمانہ قدیم یا جدید حکومتیں، کام ایک ہی، شہریوں کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرنا اور انکو تعلیم اور صحت کی سہولیات سے یکساں آراستہ و پیراستہ رکھنا ہے۔ وطن عزیز میں ان 3بنیادی مدوں میں تانک جھانک کریں توذہن سُن ہو جائیگا ۔ آج مملکت کا ہر شہری اپنی جان، مال، آبرو کی حفاظت اپنے ذمہ لے چکا ہے کہ حکومت اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر ہے۔ صحت اور تعلیم کے بارے توجہ دیں تو 90% سے زیادہ آبادی کو معمولی تعلیم کا حصول ، بیماری کے،سلیقہ سے، علاج کی عیاشی میسر نہیں ۔
مملکت خداداد کی کُل آبادی 25کروڑ،12 کروڑ لوگوں کی آمدنی 30ہزار سے کم۔ یعنی دو وقت کی روٹی کھا لیں تو تعلیم اور صحت فضول خرچی کے زمرے میں آئیں گے۔ وطن عزیز میں 16سال سے کم عمر بچوں کی تعداد ساڑھے 9کروڑ،8کروڑ بچے اسکول جانے چاہئے تھے۔ بدقسمتی کہ آٹھ کروڑ میں سے اڑھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں۔ 2026ء کے اعداد و شمار کےمطابق پاکستان، کشمیر، GB میں 45لاکھ بچے میٹرک کے امتحان میں شریک ہوئے، مدرسوں کے 6لاکھ بچے ثانویہ عامہ شامل کرلیں تو کُل 50لاکھ بچے بنتے ہیں ۔ 2026ء میں کیمبرج ) O لیول ( کے امتحان میں لگ بھگ 60ہزار بچے شریک ہوئے۔
اجمالاً اتنا بتانا ہے کہ ہائی اسکول لیول ( میٹرک + مدرسہ ) میں 98.8% جبکہ کیمبرج (O لیول ) کے بچے 1.2% امتحان دیتے ہیں۔ جب نوکریوں کی باری آئے گی تو میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کو اَن پڑھ سمجھا جائے گا۔
اردو کی زبوں حالی کے تناظر میں اس موضوع پر ماضی میں کئی کالم لکھے جو اگرچہ صدا بہ صحرا رہے مگر ضمیر کی خلش دور ہوئی، دل کی بھڑاس نکالی۔ صحت کے شعبہ کی جانب، 25کروڑ آبادی کا ہر شہری سال می ںکم وبیش دو چار دفعہ طبعی علاج کا ضرورتمند ہے۔ 12کروڑ لوگ جو خط غربت سے نیچے ہیں، معمولی سے بیماری بھی آجائے تو ان میں معدودے چند جو جرأت ہمت سے سرکاری اسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں، غریبوں کا جم غفیر دم درود پر اکتفا کرتا ہے، اگر کبھی جاں بلب ہوں تو چارپائی پر لیٹے لیٹےجان جانِ آفریں کے سپرد کرنے کا شدت سے منتظر ، یہ ہے 21ویں صدی کا پاکستان ۔
کیا زمانہ تھا کہ وہی سرکاری اسکول اور ہسپتال جو آج میسر نہیں ، بہت بہتر حالت میں موجود تھے۔ پنجاب حکومت رہی سہی کسر پوری کر رہی ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں سے حکومت پنجاب اپنی جان چھڑوانے پر تُل چکی ہے ۔ اگر میں دور کی کوڑی لاؤں اور اوپر درج اعداد و شمار سے اپنی مرضی کاسچ نکالنے کی کوشش کروں تو سوچ و بچار رکھنے والے پاکستانی لرز اُٹھیں گے۔ Oلیول ، میٹرک مدرسہ وغیرہ تمام طلباء و طالبات 10/11سال کی ہائی اسکول تعلیم لیتے ہیں ۔ جو نوجوان O لیول کرتے ہیں وہ معاشرے کا فقط 1.2فیصدحصہ جبکہ سرکاری اسکولوں اور مدرسوں سے فارغ التحصیل 98.8 فیصد ہیں۔ ان میں سے دو چار فیصد، جو سیلف میڈ، کچھ مقام پاتے ہیں ، باقی کثیر تعداد گوشہ گمنامی میں بسر اوقات ،معاشرے کی تلچھٹ ترتیب دیتے ہیں، اپنے ملک میں اجنبی کہلاتے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں ،کالجوں کے فارغ التحصیل کو ایک سبقت اور بھی ،چپراسی ، سپاہی بھرتی ہونے کیلئے لمبی قطاروں کا حصہ بننا انکی زندگی کا لازمہ بن جاتا ہے ۔
ایک واقعہ جو پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔ آج سے 24سال پہلے عمران خان اور میں میانوالی کے سنگلاخ پہاڑی علاقے سے گزر رہے تھے۔ میں گاڑی چلا رہا تھا جبکہ عمران خان میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے تھے۔ راستے میں ایک معمر شخص نے ایک نوجوان کے ہمراہ ہمارا راستہ روکا اور ایک درخواست پیش کی کہ گھر کے برتن بیچ کر بیٹے کو بی اے تک تعلیم دلائی ہے، مگر یہ اب میرے ساتھ جانوروں کا چارہ کاٹ رہا ہے۔ خان صاحب ! اسے کہیں نوکری دلوا دیں۔
عمران خان نے درخواست لی اور روایتی سرکاری جواب دیا کہ ضرور، مگر میرٹ پر کام ہوگا۔
میں نے عمران خان سے طنزیہ پوچھا :میرٹ کیا ہوتا ہے ؟آج میرا بیٹا ایچی سن کالج میں پڑھ رہا ہے، مہنگی ٹیوشن لے رہا ہے ۔ پیسے کے زور پر اس کی تعلیم کیلئے ہر سہولت فراہم کر رکھی ہے ۔ یہ BA پاس نوجوان میرے بیٹے کا کیسے مقابلہ کرے گا ؟ ظاہر ہے میرٹ میرے بیٹے ہی کا بنے گا۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے ہی یہی کہ یہاں میرٹ کا تعین قابلیت نہیں، پیسہ طے کرتا ہے، حکومت یکساں مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
شعبہ صحت کو پھرولیں، تو تصوراتی تخیلاتی دائرہ بڑھاتے ہیں، میرا تخمینہ کہ پاکستان میں ہر سال کروڑوں افراد کا موسمی بیماریوں، وائرل وائرس سے لیکر پیچیدہ بیماریوں سے پالا پڑتا ہے، اس میں سے پرائیوٹ ہسپتالوں میں ہر سال بمشکل 50لاکھ مریض رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ 4/5 کروڑ غریب بیمار کسی طور بنیادی صحت یونٹ تک رسائی پاتے ہیں ۔ غریب لوگوں کی حد رسائی دیہی ہیلتھ سنٹر یا تحصیل و ضلع اسپتال ،اسلام آباد ، راولپنڈی ، لاہور، کوئٹہ، کراچی کے ٹاپ سرکاری ہسپتال جہاں معمولی تعداد بمشکل سما پاتی ہے۔ اس کا مطلب 90% بیمار افراد صحت کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں ۔ لاہور کے 4بڑے ہسپتال میو ، سروسسز ، جناح ، جنرل ہسپتال کے اندر داخل ہو جائیں ، گندگی، بے ترتیبی، بے توجہی دم بخود کر دے گی ، دم گھٹے گا ۔ شوکت خانم ، انڈس، CMH جیسے ہسپتالوں سے مقابلہ کریں تو لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتال کوڑادان لگیں گے ۔ جب لاہور کے ہسپتالوں کا یہ حال تو پنجاب کے باقی ہسپتالوں کا کیا حال ہوگا ۔
قوم، افراد سے بنتی ہے اور افراد تعلیم اور اچھی صحت سے پروان چڑھتے ہیں، بدقسمت وطن کے افراد دونوں مدوں میں سہولتوں سے محروم ہیں ، چنانچہ قوم کیا خاک بنتی ۔ ایک ڈارک ہیومر ! چشم تصور میں اگر کل عمران خان پمز ہسپتال میں داخل ہوتے تو مملکت جو آج انتظامی بحران کی گرفت میں ہے ، سیاسی بھونچال نے اَت مچا دینی تھی ۔
دُکھ اتنا کہ پمز ہسپتال پر غم و غصہ ایسے ہی تھم جائیگا جیسے ماضی میں سینکڑوں دفعہ تھم چکا ۔ دو حرفی خلاصہ ، آئین پاکستان اپنے ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت کی گارنٹی دیتا ہے جو حکومت ادا کرنے سے یکسر قاصر ہے ۔
آئین پاکستان 25کروڑ لوگوں کو تعلیم اورصحت کی سہولیات سے مستفید کرنے کا حکم دیتا ہے۔ میرے ہم وطنو ! آئیں حلف اُٹھائیں اور حکومت کو بتائیں کہ جان، مال، آبرو کی حفاظت، تعلیم، صحت کی سہولت جو حکومت نے پوری کرنی تھی، ایک بھی نہیں جس سے وہ عہدہ برآ ہو رہی ہو ۔ تو کیا یہی سمجھا جائے کہ حکومت جمہور کی نہیں ، قابضین اور دھونس دھاندلی کی ہے ۔
