آپ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا تھا؟

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
پمز میں جو دل دہلانے والی ٹریجڈی ہوئی ہے وہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری۔ دل کو تسلی دینے کیلئے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا کوئی شخص بھی حادثات سے محفوظ نہیں۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حادثات ہو جاتے ہیں۔ انسان جب سے پیدا ہوا ہے وہ حادثات کا شکار ہوتا آیا ہے۔ لیکن آپ نوٹ کریں کہ انسان نے ہزاروں سال کے اس سفر میں خود کو دھیرے دھیرے محفوظ بنایا ہے۔ اپنا معیارِ زندگی بہتر کیا ہے۔ زندگی اور معاشرے کو لاحق خطرات کو ایک ایک کر کے کم کیا ہے۔ اگرچہ خطرات مکمل طور پر ختم کبھی نہیں ہوں گے لیکن اگر آپ تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کتنا تکلیف دہ سفر کرکے یہاں تک پہنچا ہے مگر پھر بھی حادثات سے مکمل چھٹکارا نہیں پا سکا۔ میں کئی دفعہ اُس کتاب کا حوالہ دے چکا ہوں‘ جسے پڑھ کر میری بہت کونسلنگ ہوئی تھی کہ ہم ایک بہتر دنیا میں رہ رہے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کے تعارف میں لکھا تھا کہ موجودہ دور میں جو سات ارب لوگ جی رہے ہیں‘ وہ انسانی تاریخ کے سب سے سنہرے‘ خوبصورت اور بہترین دور میں زندہ ہیں۔ اس سے بہتر دور انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا۔ مصنف نے بہت شاندار تحقیق کے بعد کتاب لکھی اور کئی نتائج اخذ کیے‘ جن میں سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تشدد کم ہوا ہے‘ خون خرابہ‘ جنگیں کم ہو رہی ہیں۔ مان لیا کہ جنگیں ختم نہیں ہوئیں لیکن ماضی کی نسبت بہت کم ہو رہی ہیں۔ دنیا کے دو سو ممالک میں سے چند ملک اگر جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ انسانی ارتقا ہی کی شکل ہے‘ ورنہ زمانہ قدیم میں ہر وقت ہر قبیلہ‘ قوم‘ نسل‘ ملک اور معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگیں لڑ رہے ہوتے تھے اور ہر وقت خون خرابہ ہو رہا ہوتا تھا۔ اس کتاب کا نام ہے The Better Angels of Our Nature۔ اگرچہ انسان کی تمام تر ترقی اور خود کو محفوظ کرنے کے باوجود حادثات ہو رہے ہیں‘ تاہم وقت کے ساتھ ایک بات جو جدید انسانوں نے سیکھی ہے‘ خصوصاً یورپ اور امریکی معاشروں نے‘ وہ یہ کہ ہر کام اور ہر چیز میں قواعد و ضوابط ڈال دیے کہ کوئی بھی کام ہوگا تو کون سا فارمولہ یا طریقہ کار استعمال ہو گا۔ پہلے سے ہی آپ تیار ہوں‘ کسی مصیبت یا مشکل کا انتظار مت کریں۔ انہوں نے وہ ماڈل بنا کر سب پر لاگو کیا اور پھر ان کی ریگولر مانیٹرنگ کی‘ مشقیں کیں‘ ہر تین ماہ بعد دوبارہ چیک کیا اور یوں ہر ادارے اور ذمہ دار کو پتا ہوتا ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں سب سے پہلے اس نے کیا کرنا ہے اور ہر بندے کا اس حادثے یا مصیبت میں کیا کام ہے۔ لہٰذا وہاں ایمرجنسی یا مصیبت کے وقت لوگوں کے ہاتھ پاؤں نہیں پھولتے۔ وہ ان قواعد و ضوابط کو فالو کرتے اور بڑے نقصان سے بچ جاتے ہیں۔ اب تو بڑے بڑے بزنس مین‘ فیکٹریاں اور ہسپتال تک ان قواعد وضوابط کو فالو کرتے ہیں۔ اس کیلئے ایک عالمی معیار‘ ریٹنگز سرٹیفکیٹ متعارف کرایا گیا جو ہر اُس ادارے کو سرٹیفکیٹ دیتا ہے جو اُس کے طے شدہ معیار پر پورا اترتا ہو۔ یہ ادارہ ISOہے‘ جو اُس ادارے سے اپنی فیس لیتا اور پھر پورے سسٹم کو چیک کر کے بتاتا ہے کہ کہاں کہاں بہتری کی گنجائش ہے اور اگر وہ کمپنی ان کے معیار کو پورا کر لے تو اسے آئی ایس او سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے‘ جو اُس کمپنی کے عالمی سطح پر معیار اور ساکھ کا نشان سمجھا جاتا ہے اور اس کا بزنس راتوں رات اوپر چلا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے معاشروں میں مشینی یا سائنسی انداز میں تیاری کے بجائے ہر بات قدرت کی رضا پر ڈال دی جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کوشش کرو! کوشش سے ہی سب کچھ ملتا ہے۔ خدا کے مبعوث کردہ پیغمبروں تک نے مشکلات اٹھائیں‘ محنت کی اور کام کیا۔ لیکن ہمارے ہاں قدرت کی رضا کے تصور نے بہت سارے معاملات کو مشکل بنا دیا ہے۔ اب جب تک سر پر آسمان نہ گرے‘ ہم حرکت میں نہیں آتے اور مشکل میں ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ دوسری طرف گورا اس کیلئے پہلے سے خود کو تیار کر کے بیٹھا ہے۔ یہ سب باتیں مجھے ملک کے مشہور نیوروسرجن ڈاکٹر خلیق الزماں کے انکشافات سن کر یاد آ رہی ہیں‘ جو پمز میں تیس سال تک سرجن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی باتیں سن کر آپ کے کانوں سے دھواں نکل آئے گا‘ کہ پورے ملک کو چھوڑیں‘ اسلام آباد جیسے چھوٹے سے شہر میں کیا ہو رہا ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کی جو بدترین کارکردگی سامنے آئی ہے‘ وہ آپ کو حواس باختہ کر دے گی۔ وہ بتا رہے تھے کہ اس وقت ملک کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کے پاس ISO سرٹیفکیٹ نہیں ہے‘ جو کسی بھی ادارے کیلئے عالمی معیار کی سروسز اور کارکردگی کا سب سے بڑا ثبوت مانا جاتا ہے۔ البتہ کچھ نجی ہسپتالوں نے آئی ایس او سرٹیفکیٹ لے رکھا ہے۔ آج تک وزیراعظم‘ کابینہ‘ وزرا‘ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی سمیت کسی نے بھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے پاس ISO سرٹیفکیٹ کیوں نہیں ہے‘ جس کے بغیر دنیا کے اچھے ملکوں میں کوئی ہسپتال نہیں چل سکتا۔ شاید ہمارے سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کویہ تک علم نہیں کہ آئی ایس او کس بلا کا نام ہے۔ ہمارے ہاں انسانی جانوں کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی اور جہاں 25کروڑ عوام ہوں‘ وہاں ویسے بھی کسی کو کسی کے مرنے جینے سے فرق نہیں پڑتا۔ فرق صرف ان کے پیاروں کو پڑتا ہے‘ جو عمر بھر اس تکلیف اور دکھ کا سامنا کرتے ہیں‘ جیسے اب پمز میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے والدین ہیں۔ ڈاکٹر خلیق الزماں کا یہ بھی کہنا تھا کہ باقی باتیں ایک طرف‘ اگر اس ہسپتال میں کسی نئے ڈاکٹر نے ہاؤس جاب کرنی ہو تو اس کا ریٹ دو لاکھ روپے ہے۔ اندازہ کریں کہ ایک ڈاکٹر ہاؤس جاب لینے کیلئے پیسے دینے پر مجبور ہے۔ ڈاکٹروں اور پروفیسروں کی الگ سے لڑائیاں اور لابیاں ہیں۔ سب کو یہی فکر ہوتی ہے کہ کوئی قابل بندہ آگے نہ بڑھ سکے‘ لہٰذا سازشیں اور داخلی لڑائیاں ہر وقت جاری رہتی ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہسپتال میں آپ کو ہر لیول کا مافیا ملے گا۔ ہسپتال میں جو توجہ مریض کو ملنی چاہیے وہ ملے یا نہ ملے‘ لیکن اگر وزارتِ صحت سے کوئی آ جائے تو پورا ہسپتال؍انتظامیہ اسے ریسیو کرنے کیلئے باہر سڑک پر موجود ہوتی ہے۔
پمز ہسپتال کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پچھلے چار سال سے اس عہدے پر بیٹھے ہیں لیکن کسی نے ان کو کچھ نہیں کہا‘ مگر سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کر دیا گیا۔ جس ہسپتال کے سربراہ کی نالائقی کی وجہ سے اتنا بڑا حادثہ ہو گیا اس سے کوئی جواب طلبی نہیں۔ سابق وفاقی وزیر صحت اور ممبر قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے میرے پروگرام میں بتایا کہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان کے دور یعنی 2022ء میں بھی ہسپتال کے سربراہ تھے۔ سیکرٹری کی معطلی پر وہ کہنے لگے کہ رسی وہیں سے ٹوٹتی ہے جہاں سے کمزور ہو۔مطلب پمز کے سربراہ کا رسہ مضبوط ہے‘ لہٰذا وہ قائم ہیں اور سیکرٹری کی رسی کمزور تھی لہٰذا وہ ٹوٹ گئی۔
دوسری طرف وزیراعظم نے اس سابق سیکرٹری داخلہ کو پمز حادثہ پر انکوائری کمیٹی کا سربراہ بنایا جس پر خود الزامات ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ گفتگو ایک ٹی وی شو میں مشعال یوسفزئی اور اختیار ولی کے درمیان ہوئی۔ جب پی ٹی آئی کی سینیٹر نے شہباز شریف سے پمز ہسپتال سانحہ پر استعفیٰ مانگا تو اختیار ولی نے جواب دیا کہ کیا پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بچوں کے جاں بحق ہونے پر پی ٹی آئی کے وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نے استعفیٰ دیا تھا؟ اس میں عوام کیلئے یہ پیغام ہے کہ نہ پی ٹی آئی کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا تھا‘ نہ ہی (ن) لیگ کا وزیراعظم استعفیٰ دے گا۔ عوام کے بچوں کے مرنے پر وہ استعفیٰ کیوں دیں؟
