چارج شیٹ!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں ملک کے اقتدار کے مراکز موجود ہیں، جہاں پارلیمنٹ ہے، وزیراعظم ہاؤس ہے، ایوانِ صدر ہے، بڑے بڑے سرکاری دفاتر ہیں، سفارت خانے ہیں اور جہاں ملک کے حکمران اپنے دفاتر میں بیٹھ کر عوام کے مسائل کے حل کے دعوے کرتے ہیں۔
یہ شہر پاکستان کے خوشحال اور ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس شہر کو اشرافیہ کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اسی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں نومولود بچوں کی المناک موت ہمیں ایک ایسا سوال دے گئی ہے جس کا جواب صرف پمز کی انتظامیہ کو نہیں بلکہ حکومت اور پورے نظامِ حکمرانی کو دینا ہوگا۔ پمز کی نرسری میں آگ لگی اور اطلاعات کے مطابق 16 نومولود بچوں میں سے 15 جان کی بازی ہار گئے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں۔ یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کے ہر پہلو کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ آگ کس وجہ سے لگی؟ اگر واقعی ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر سے آگ شروع ہوئی تو کیا اس کی بروقت روک تھام کے لیے ضروری انتظامات موجود تھے؟ نرسری میں آگ بجھانے کا مناسب سامان تھا؟ عملہ تربیت یافتہ تھا؟ ایمرجنسی کی صورت میں بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کوئی مؤثر نظام موجود تھا؟ الارم اور فائر سیفٹی کا نظام فعال تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب آگ لگی تو نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے وہاں کون موجود تھا؟ والدین کی جانب سے جو الزامات سامنے آئے ہیں وہ بہت تشویش ناک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت متعلقہ عملہ موجود نہیں تھا، نرسری میں ڈاکٹرز یا دیگر ضروری عملہ موجود نہیں تھا، جبکہ این آئی سی یو کا دروازہ بھی لاک ہونے کا الزام ہے۔ ریسکیو اور پولیس کے پہنچنے کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان تمام دعووں کی تصدیق یا تردید تحقیقات کے ذریعے ہونی چاہیے، لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر ان میں سے کوئی الزام بھی درست ثابت ہوتا ہے تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ نوعیت کی سنگین کوتاہی ہے، معصوموں کا قتل ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے سرکاری اسپتالوں کی حالت یہاں تک کیسے پہنچ گئی؟ میں ذاتی طور پر بھی کئی مرتبہ حکومت کی توجہ اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال کی طرف دلاتا رہا ہوں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے بھی پمز اور پولی کلینک سمیت سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت پر بات کی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسپتالوں کی عمارتیں بنانا اور ان کے ناموں کے ساتھ نئے منصوبوں کا اعلان کرنا آسان ہے، مگر موجودہ اسپتالوں کو مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا شاید ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ پمز اور پولی کلینک جیسے ادارے کئی علاقوں کے عام شہریوں کے لیے محض اسپتال نہیں بلکہ آخری امید ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ لیکن وہاں کا ماحول اور سہولیات دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے۔ وہاں کے حالات دیکھ کر تو اچھا خاصا انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیا یہ پاکستان کے دارالحکومت کے سرکاری اسپتال ہیں ۔ اگر ملک کے دارالحکومت میں صحت کی بنیادی سرکاری سہولتوں کا یہ حال ہے تو پھر دور دراز علاقوں کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کس حال میں ہوں گے؟ پمز کا یہ سانحہ اسی لیے صرف پمز کا مسئلہ نہیں۔ یہ وفاقی حکومت کیلئے گویا ایک چارج شیٹ ہے۔ یہ صحت کے شعبے کے ذمہ دار حکام کے لیے چارج شیٹ ہے۔ یہ اسپتال انتظامیہ کے لیے چارج شیٹ ہے۔ اور اگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان تمام افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جن کی ذمہ داری تھی کہ نومولود بچوں کی جانوں کی حفاظت یقینی بناتے۔ ہم اکثر نئے اسپتال بنانے، نئی عمارتوں کا افتتاح کرنے اورصحت کےبڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات کو کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ جو اسپتال پہلے سے موجود ہیں، وہاں مریض محفوظ ہوں، ڈاکٹرز اور نرسیں موجود ہوں، ضروری سامان دستیاب ہو، ایمرجنسی کا نظام فعال ہو اور کسی حادثے کی صورت میں قیمتی جانوں کو بچانے کی مکمل تیاری ہو۔ نومولود بچے اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتے۔ وہ نہ آگ سے بچ سکتے ہیں، نہ مدد کے لیے آوازدے سکتے ہیں، نہ کسی دروازے کو کھول سکتے ہیں۔ ان کی حفاظت مکمل طور پر اسپتال کے عملے اور نظام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی لیے نرسری میں بچوں کی ہلاکت عام حادثے کے پیمانے سے نہیں دیکھی جاسکتی۔ اب صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ تحقیقات ہوں گی۔ تحقیقات ایسی ہونی چاہئیں جس سے ذمہ داری کا تعین ہو۔ اگر کسی کی غفلت سامنے آئے تو اسے محض معطل کرکے معاملہ ختم نہ کیا جائے بلکہ قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی فوری طور پر پمز سمیت اسلام آباد کے تمام سرکاری اسپتالوں کا فائر سیفٹی اور ایمرجنسی آڈٹ کے ساتھ ساتھ یہ دیکھا جائے کہ ان اسپتالوں کی مجموعی حالت کیا ہے اور کیا حکمران اپنا اور اپنے خاندان کے افراد کا یہاں علاج کرانا پسند کرینگے؟ آج 15 گھروں کے چراغ بجھ گئے ہیں۔ ان والدین کے لیے کوئی حکومتی بیان، کوئی انکوائری اور کوئی معاوضہ ان کے بچوں کو واپس نہیں لاسکتا۔ لیکن اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نے اپنے اسپتالوں کی حالت نہ بدلی، اگر فائر سیفٹی کے انتظامات بہتر نہ کیے، اگر ذمہ داروں کا تعین نہ کیا اور اگر دوبارہ ایسا واقعہ روکنے کیلئے عملی اقدامات نہ کیے تو پھر یہ صرف 15 بچوں کی موت نہیں ہوگی، یہ ہمارے اجتماعی احساس کی موت بھی ہوگی۔ اسلام آباد کی سڑکیں خوبصورت ہوسکتی ہیں، عمارتیں شاندار ہوسکتی ہیں، سرکاری دفاتر جدید ہوسکتے ہیں، تو ہمارے اسپتالوں کو کیوں ایسی حالت میں رکھا ہوا ہے جہاں نومولود بچوں تک کی جان محفوظ نہیں۔
