عالمی ادارے نے لاہور کو آلودہ ترین شہر قرار دے دیا

ماحولیات پر کام کرنے والے سوئٹزرلینڈ کے ایک معروف ادارے نے لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سردیاں شروع ہوتے ہی فضائی آلودگی ایک مرتبہ پھر آخری حدوں کو چھونے لگی ہے جس کی وجہ سے لاہور کے باسی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے ماحولیات پر کام کرنے والے تھنک ٹینک آئی کیو ایئر یا آئی کوالٹی انڈیکس کی جانب سے لاہور کی ہوا میں آلودگی ’خطرناک‘ قرار دے دی گئی ہے اور لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔ ماہرین نے لاہور میں سموگ کی آمد سے قبل ہی فضا کو خطرناک حد تک آلودہ قرار دے دیا ہے اور یہ انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں اس وقت 22 فیصد تک اموات فضائی آلودگی کے باعث ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق لاہور میں آلودگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہوا کی کوالٹی کے حوالے سے گائیڈ لائنز سے 30 گنا زیادہ آلودگی لاہور میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
چنانچہ اب سوال یہ یے کہ لاہوریے شہر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے کیا کریں؟ سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ لاہور کے باسی وہ کریں جو انہوں نے شاید کووڈ 19 کے عروج پر بھی نہیں کیا، یعنی ماسک پہن کر باہر نکلیں، دوسرا یہ کہ گھروں کے اندر فضا کو صاف کرنے کے لیے air purifier کا استعمال کریں۔ گھروں کے دروازے کھڑکیاں بند رکھیں اور کھلی فضا میں ورزش کرنے سے اجتناب کریں۔ ویسے بھی آج کل شہر میں ڈینگی مچھر کا راج ہے لہذا صبح اور شام کے اوقات میں کھلی فضا میں جاکر ورزش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لاہور کی فضا میں اتنی آلودگی کب سے ہے یہ بتانا تو مشکل ہے کیونکہ پاکستان میں فضا میں آلودگی کو جانچنے کا آغاز ہی 2017 میں ہوا۔ یہ کام بھی حکومت وقت نے نہیں بلکہ عام افراد نے شروع کیا اور جب پہلی بار آلودگی کے حوالے سے رپورٹ سامنے آئی تو اس پر بات ہونا شروع ہوئی۔ لیکن پنجاب حکومت اس حوالے سے پھر بھی لمبی تان کر سوئی رہی۔ حکومتی ایوانوں میں فضائی آلودگی کے حوالے سے ہلچل تب مچی جب لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو احکامات دیئے کہ سموگ سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ چنانچہ حکومت پنجاب کی ماحول تحفظ کونسل نے سموگ ایکشن پلان منظور کیا اور فضا میں آلودگی کو جانچنے کے لیے ایئر کوالٹی انڈیکس کا نظام مرتب کیا۔
آسان الفاظ میں عالمی سطی پر ایئر کوالٹی انڈیکس اگر 50 یا اس سے کم ہو تو اسے محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔ ائیر کوالٹی انڈیکس اگر 100 اور ڈیڑھ سو کے درمیان ہو تو بچوں اور دل کے عارضے میں مبتلا افراد کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایئر کوالٹی انڈیکس 150 سے زیادہ ہو جائے تو سب کے لیے مضر ہے لیکن اگر انڈیکس 300 سے تجاوز کر جائے تو اس کو خطرناک ترین قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں عالمی ادارے فضا میں آلودگی کو نہایت مضر صحت قرار دیتے ہیں وہاں پنجاب حکومت کا اے کیو آئی نظام اس کو moderately polluted یعنی تھوڑی سے آلودگی قرار دیتا ہے۔
تازی ترین ڈیٹا کے مطابق اس وقت عالمی معیار کے مطابق لاہور میں آلودگی خطرناک ترین حد تک پہنچی ہوئی ہے جبکہ پنجاب کے اے کیو آئی کے مطابق شہر کی فضا صرف ’خراب‘ قرار دی جا رہی ہے۔ لیکن ایسے میں زیادہ دیر تک باہر رہنے والے لوگ سانس میں تکلیف محسوس کرتے ہیں اور دل کے عارضے میں مبتلا افراد کو بے چینی محسوس ہوتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد اپنی جان گنواتے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد کم اور متوسط آمدن کے افراد ہوتے ہیں جو اس آلودگی کا زیادہ سامنا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی دس اموات میں سے ایک موت کی وجہ آلودگی ہے۔ پاکستان میں ہر سال سوا لاکھ سے زیادہ افراد فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں کے باعث اپنی جان کھوتے ہیں۔ زیادہ دیر تک فضائی آلودگی سے سانس کی تکلیف ہو جاتی ہے اور پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں، اسکے علاوہ حلق کا انفیکشن، دل کی بیماریاں اور اوسط عمر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں سموگ کا سیزن اکتوبر سے دسمبر تک کا ہوتا ہے جس دوران کم معیار کا ایندھن استعمال ہوتا ہے اور فصلوں کو آگ لگائی جاتی ہے جس کے باعث فضائی آلودگی انتہائی زیادہ ہو جاتی ہے۔تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر برس 22 فیصد اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔ کم آمدنی والے مزدور وغیرہ اس فضائی آلودگی کی زد میں زیادہ آتے ہیں کیونکہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ سارا دن کھلی فضا میں کام کرتے ہیں۔
