اپوزیشن کا حکومت کو قانون سازی پر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ
حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ میں شرکت کے دوران حکومت کو قانون سازی میں ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔ بلاول بھٹو کے ہمراہ پی پی پی اراکین پارلیمان بھی شہباز شریف کی جانب سے دئیے گئے عشائیے میں موجود تھے۔اس دوران بلاول نے اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین سے ملاقات کی، بلاول اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔شہباز شریف کی دعوت پر عشائیے میں اسعد محمود، امیر حیدر ہوتی سمیت اپوزیشن جماعتوں کےدیگر رہنما بھی شریک ہوئے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں متحد ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیپلزپارٹی مکمل تعاون کرے گی۔اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام لیگی اراکین پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حاضری یقینی بنائیں۔ حکومت نے 22 کروڑ عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، فیصلہ کیا مہنگائی کے خلاف اور نیب آرڈیننس کے خلاف کمر کس لی ہے، عمران نیازی این آر او لینا چاہتا ہے، متحدہ اپوزیشن پارلیمان میں اور پارلیمان سے باہر بھرپور احتجاج کرے گی، مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی، حکومت کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ چکمہ دے کر مشترکہ اجلاس سے قانون سازی کرے، پارلیمان میں بھی اور عدالت کے ذریعے نیب آرڈیننس کو ہر صورت روکیں گے ، عوامی قوت کے ساتھ ملک کو صحیح معنوں میں آگے لیکر جائیں۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن شہباز شریف کی قیادت میں متحد ہے، مشترکہ اجلاس میں پیپلزپارٹی مکمل تعاون کرے گی، ہمارے تمام اراکین مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے، بے روزگاری اور مہنگائی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں آپ کا شکر گزار ہوں آپ وقتاً فوقتاً مشاورت کرتے رہتے ہیں۔
قبل ازیں اپوزیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین زبردستی منظور کرائے تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی اقدامات روکنے کیلئے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔کمیٹی میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، بی این پی سمیت دیگراپوزیشن جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات اور نیب قوانین زبردستی منظور کرائے تو سپریم کورٹ سےرجوع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اسٹیئرنگ کمیٹی کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے نمبرپورے کرنا بھی اولین ذمہ داری ہوگی۔
اجلاس کے دوران حکومت کی قانون سازی کو ناکام بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی ، حکومت 30 بلز مشترکہ اجلاس میں منظور کرانے کی خواہشمند ہے جس کو روکنے کے لیے اپوزیشن پوری طرح متحرک ہو گئی ہے۔اجلاس کے دوران اپوزیشن نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم عمران خان کو خود کواور انکی کرپٹ حکومت کو این آراو نہیں لینے دیں گے ، حکومتی عوام دشمن عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی، مولانا اسعد محمود سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔
