عامر میر کی گرفتاری، سیاسی و صحافتی تنظیموں کی مذمت

سینئر صحافی عامر میر کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پرRelease Amir MirاورJournalism Not Crimeٹرینڈ کر رہا ہے اور سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے سینئر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سچ لکھنے اور بولنے والوں کی زبان بندی کافی عرصے سے جاری ہے عامر میر کی گرفتاری آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف ہے۔
سینئر صحافی عامر میر کی گرفتاری کے بعد حامد میر نے ٹوئٹر پر خبر دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی عامر میر کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے علی الصباح گرفتارکیا گیا۔ انہوں نے ان کا لیپ ٹاپ اور فون بھی قبضے میں لے لیا جبکہ ہمیں بھی ان کے بارے میں معلومات پانچ گھنٹوں بعد ملی ہیں۔
FIA Cyber Crimes Wing Lahore kidnapped journalist Amir Mir in Lahore this morning, snatched his phone and laptop. We came to know about his location after 5 hours. FIA also arrested another journalist Syed Shafqat Imran this morning from Lahore. #PressFreedom
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 7, 2021
انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل صحافی عمران شفقت کو بھی لاہور میں ایف آئی اے نے انکی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا تھا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ جو بھی ہو رہا ہے پاکستانی عوام کے سامنے ہے ایف آئی اے نے عامر میر کو حراست میں لیکر ایک دفعہ پھر سب کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کا میڈیا کتنا آزاد ہے ؟
جو بھی ہو رہا ہے آپکے سامنے ہے ایف آئی اے نے عامر میر کو حراست میں لیکر ایک دفعہ پھر سب کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کا میڈیا کتنا آزاد ہے ؟ https://t.co/ZNYXjDa75P
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 7, 2021
حامد میر نے پریس فریڈم کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا کہ صحافی عمران شفقت نے کچھ عرصہ قبل میرے حق میں ایک وی لاگ کیا تھا اور عامر میر کا اتنا جرم کافی ہے کہ وہ میرا بھائی ہے دونوں کو آج ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے اگر مقصد مجھے خاموش کرانا ہے تو انشأاللہ میری آواز آپ زیادہ زور سے سنیں گے۔ پکڑنا ہے تو آؤ مجھے آ کر پکڑو ۔
صحافی عمران شفقت نے کچھ عرصہ قبل میرے حق میں ایک وی لاگ کیا تھا اور عامر میر کا اتنا جرم کافی ہے کہ وہ میرا بھائی ہے دونوں کو آج ایف آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے اگر مقصد مجھے خاموش کرانا ہے تو انشااللہ میری آواز آپ زیادہ زور سے سنیں گے پکڑنا ہے تو آؤ مجھے آ کر پکڑو #PressFreedom
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 7, 2021
چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے سینئیر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافی عامر میر اور عمران شفقت کو بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لینا قابل مذمت ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ جو اس حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف آواز بلند کرے، اس کے خلاف جبر کے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں،
Strongly condemn the arrest of journalists #AmirMir and #ImranShafqat . Imran Khan continues victimization of political opponents and media critics to hide his incompetence and failures. Demand release immediately.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) August 7, 2021
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ عامر میر لاہور کے ایک بہادر صحافی ہیں، ایف آئی اے ان کو اپنی بیجا حراست سے فوری رہا کرے،انھوں نے کہا کہ اگر یوٹیوب کے ایک وی لاگ سے سرکار کو خطرہ محسوس ہورہا ہے تو اس حکومت کی بنیادیں بہت کمزور ہیں، بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان عوام کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو کچلنا بند کریں، یہ جمہوریت ہے، کوئی آمرانہ دور نہیں
ایک ہی دن میں دو صحافیوں کا اغوا نہایت ہی تشویشناک ہے۔صحافی برادری کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اس میں کوتاہی مجرمانہ ہے۔ تنقید کرنے پر کسی کو غائب کردینا غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ کس کس کو چپ کرائیں گے؟ اب تو پورا ملک بول رہا ہے۔یہ حرکتیں آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ افسوس! pic.twitter.com/aYWZlK7MJo
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) August 7, 2021
نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے سینئیر صحافی عامر میر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں دو صحافیوں کا اغوا نہایت ہی تشویشناک ہے۔صحافی برادری کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اس میں کوتاہی مجرمانہ ہے۔ تنقید کرنے پر کسی کو غائب کردینا غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ کس کس کو چپ کرائیں گے؟ اب تو پورا ملک بول رہا ہے۔یہ حرکتیں آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گی۔ افسوس!
سینئر صحافی عامرمیر اور ولاگر سید عمران شفقت کو اغوا کرکے لیجانا ایف آئی آئی اے کی کھلی غنڈہ گردی ہے جو ا انتہائی قابل مذمت، تشویشناک اور باعث افسوس ہے۔ عمران صاحب کے براہ راست حکم پرگرفتاریاں ہونا ثبوت ہے کہ یہ حکومت غیرجمہوری ، آمرانہ و فسطائی سوچ کی مالک ہے
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) August 7, 2021
مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سینئر صحافی عامرمیر اور ولاگر سید عمران شفقت کو اغوا کرکے لے جانا ایف آئی آئی اے کی کھلی غنڈہ گردی ہے جو انتہائی قابل مذمت، تشویشناک اور باعث افسوس ہے۔ عمران صاحب کے براہ راست حکم پرگرفتاریاں ہونا ثبوت ہے کہ یہ حکومت غیرجمہوری ، آمرانہ و فسطائی سوچ کی مالک ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی وصحافتی ناقدین کو دباو میں لانے کے لئے اپنے اختیارات کا غیرقانونی استعمال کیاجارہا ہے۔ فاشسٹ حکومت میں صحافیوں، قلم کاروں اور اظہار رائے کے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے سچ بولنے پر ڈٹے باضمیر افراد کا غائب کیاجانا، گھروں کے باہر صحافیوں کو گولیاں مارنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عامر میراور عمران شفقت کو فوری رہا کیاجائے۔ عمران صاحب اور ان کے کرائے کے ترجمان سچ بولنے والے صحافیوں پر غصے میں ہیں۔ عمران صاحب کتنے سچ بولنے والوں کو گھروں سے اٹھائیں گے، ہر گھر سے سچ کی آواز بلند ہورہی ہے۔ حکومت اپنی آئینی وقانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔
The disappearance of two reputed journalists today is another blot on this hybrid regime. At a time when the country is in the eye of a gathering storm at home and in the region, why are we recklessly bent on portraying ourself as a rogue regime? #FreeAmirMirShafqatImran
— Najam Sethi (@najamsethi) August 7, 2021
اس سے قبل صحافی اسد علی طور نے لکھا تھا کہ عمران شفقت کے اغواء کے بعد گوگلی نیوز کے سی ای او عامر میر کی گمشدگی کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ جو کہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے غائب ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔ اہل خانہ کے مطابق انہوں نے ممکنہ تمام ذرائع سے رابطہ کیا مگر ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
Journalists being “picked up” in this manner is unacceptable. What crimes are they charged with? Where is the due process of law? Weekend pickups mean they will stay in lockup until Monday. We expect clarity in law on why Amir Mir and Imran Shafqat have been summarily arrested https://t.co/YklxrsLOVV
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) August 7, 2021
واضح رہے کہ قبل ازیں سینئرصحافی اور وی لاگر عمران شفقت کو بھی لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے اغواء کر لیا گیا۔عمران شفقت ایک صحافی ہیں جو مختلف چینلز کے ساتھ بطور رپورٹر بھی منسلک رہ چکے ہیں جبکہ آج کل وہ اپنے یوٹیوب چینل ‘ ٹیلنگز وی عمران شفقت’ پر تجزئیے اور تبصرے پیش کرتے تھے۔ اپنی خبروں اور تبصروں کی بنیاد پر انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بھی سمجھا جاتا ہے۔سینئیر صحافی ابصار عالم نے توئٹ کیا کہ پاکستان کے دل لاہور سے آج صبح دو سینئر صحافیوں عامر میر اور شفقت عمران کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔دونوں کو سچی خبریں دینے کا بہت شوق تھا۔
Abduction of two prominent journalists Imran Shafqat and Amir Mir is a condemnable attack on whatever remains of media freedom. Abduction replacing arrests (even under the blackest of laws) reflects the nature of unconstitutional regime ruling the country.#JournalismIsNotACrime
— Afrasiab Khattak (@a_siab) August 7, 2021
صحافی رضوان رضی نے سینئر صحافی عامر میر کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عامر میر، جو پاکستان کے ہر اغوا ہونے والے فرد کے لئے آواز اٹھایا کرتے تھے، آج ان کے لئے ٹویٹ کرتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ عامر میر پر ریاستی تشدد کا یہ سفر ان کے والد پروفیسر وارث میر سے جاری ہے۔
The abduction and arrest of senior journalists Amir Mir and Imran Shafqat is utterly shameful. The curbs on fundamental freedoms, specially freedom of expression, continue to increase under the current hybrid regime. Demand their immediate release. #JournalismIsNotACrime
— Mohsin Dawar (@mjdawar) August 7, 2021
راجہ وسیم نے لکھا کہ ظالمو،باز آ جاؤسرکاری دہشتگردی بند کروسرکاری اغواء بند کروقوم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تو تمہیں کوئی جائے پناہ نہیں ملے گیعمران شفقت اور عامر میر کو رہا کرو
عمران شفقت اور عامر میر دونوں کا اغوا قابل مذمت-جھوٹ اور ناکامی کو آواز بند کر کے سچ اور کامیابی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا-
— Pervaiz Rashid (@SenPervaizRd) August 7, 2021
