عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں، انہیں قتل کیا گیا ہے


سیکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہو جانے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک فیس بک پوسٹ نے ان الزامات کو مزید تقویت دی ہے کہ سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔
ان شکوک و شبہات کو تب مزید تقویت ملی جب احسان اللہ احسان نے فیس بک پر ایک صحافی کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عثمان کاکڑ کی موت حادثاتی نہیں تھی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے اور یہ کہ ماضی میں خود ان کو بھی ایک ایسی ہٹ لسٹ دی گئی تھی، جس میں سینیٹر عثمان کاکڑ کا نام بھی شامل تھا۔ احسان اللہ احسان کے بقول اس مبینہ لسٹ میں عثمان کاکڑ کے علاوہ ڈاکٹر سید عالم محسود اور افرسیاب خٹک کے نام بھی شامل تھے۔ یاد رہے کہ سکیورٹی اداروں کی حراست سے فرار ہونے کے بعد احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ الزام لگایا تھا کہ ان کو ایک ڈیتھ سکواڈ تشکیل دینے کے لیے کہا گیا تھا اور ساتھ میں ایک ہٹ لسٹ بھی فراہم کی گئی تھی، تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
احسان اللہ احسان کی تازہ فیس بک پوسٹ کے بعد سیاسی کارکنوں اور قوم پرست پختون سیاست دانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ نے بھی یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کے والد کو نہ تو برین ہیمرج ہوا تھا اور نہ ہی وہ گر کر زخمی ہوئے تھے بلکہ ان کے سر پر کسی تیز دھار آلے سے وار کیے گئے جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ عثمان کاکڑ کی سی ٹی سکین رپورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ برین ہیمرج کا شکار نہیں ہوئے تھے۔
دوسری جانب ڈاکٹر سید عالم محسود نے عثمان کاکڑ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کچھ ملکی اور غیر ملکی صحافیوں سے اس بات کی تصدیق کرائی ہے کہ یہ اکاؤنٹ احسان اللہ احسان کا ہے بھی یا نہیں۔ لیخن انہوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ اکاؤنٹ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان ہی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ کی زندگی کو خطرات لاحق تھے اور انہوں نے سینیٹ میں ان خطرات کا تذکرہ بھی کیا تھا۔ انکا۔کہنا تھا کہ جس نوعیت کے خطرات انہیں لاحق تھے، ویسے ہی مجھے بھی لاحق ہیں۔ مجھے بھی تقریباﹰ 13 ماہ سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ میں نے اپنی سرگرمیاں بہت محدود کردی ہیں جس کی وجہ سے میری پروفیشنل زندگی بالکل تباہ ہوگئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اب میں میڈیکل پریکٹس بھی نہیں کر سکتا اور گھر تک محدود ہو کر رہ گیا ہوں۔ میں نے اپنی سکیورٹی کے لیے پرائیویٹ گارڈز رکھے ہوئے ہیں، جن کو بھاری تنخواہ ادا کرتا ہوں۔ اگر حکومت مجھے سکیورٹی دے بھی دے، تو مجھے یہ یقین نہیں کہ وہ کس طرح کی سکیورٹی ہوگی۔‘‘ ڈاکٹر سید عالم محسود کا مزید کہنا تھا کہ وہ دھمکیوں سے ڈریں گے نہیں، کیوں کہ وہ کوئی غیر آئینی بات نہیں کرتے۔ ہم پختون قوم کے حقوق کی بات کرتے ہیں، آئین کی بالا دستی کی بات کرتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت کی سربلندی کی بات کرتے ہیں اور موت کے خوف سے اس طرح کی باتیں کرنا نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
دوسری جانب احسان اللہ احسان کے بیان کے بعد پختون قوم پرست حلقے عثمان کاکڑ کی موت میں ریاستی اداروں کو ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم حکمران جماعت پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوس اور شرم کی بات ہے کہ پختون قوم پرست ٹی ٹی پی کے ایک دہشت گرد کے بیان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور اس پر یقین کر رہے ہیں جب کہ وہ اپنے ملک کے اداروں پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما اور رکن قومی اسمبلی اقبال خان آفریدی کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے فوری بعد پاکستانی ادارون کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے پیچھے غیر ملکی دشمن قوتیں ہیں۔ اسی طرح حکومت نے بھی احسان اللہ احسان کے بیان کو مضحکہ خیز اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ عثمان کاکڑ اپنے گھر کے غسل خانے میں پھسل کر گر گئے تھے، جس سے ان کے سر پر چوٹ آئی تھی اور انہیں کوئٹہ کے ایک اسپتال میں لے جایا گیا تھا۔ بعد ازاں انکے دماغ کے آپریشن کے بعد انہیں کراچی لے جایا گیا، جہاں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ تاہم میڈیا رپورٹس نے پوسٹ مارٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا جبکہ جو زخم موجود ہیں وہ تشدد یا مزاحمت کے نہیں ہیں۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی موت کا سبب کچھ اور ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہو سکےگا جن کے نتائج آنے میں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب پختون قوم پرستوں کا اصرار ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں تھی۔ اس حوالے سے سب سے پہلے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بتایا تھا کہ وہ عثمان کاکڑ کے ڈاکٹروں سے رابطے میں تھے جن کا خیال ہے کہ کاکڑ کے سر پر اتنی شدید چوٹ محض گرنے سے نہیں لگ سکتی تھی۔ پارلیمان کے ایوان بالا میں بھی کچھ اراکین نے ان دھمکیوں اور خطرات سے ایوان کو آگاہ کیا تھا، جو عثمان کاکڑ کی جان کو لاحق تھے اور اسی لیے ان کی موت کی پارلیمانی چھان بین کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری ہونا چاہیے۔ کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عثمان کاکڑ کی موت کی پوری چھان بین ہونا چاہیے جبکہ ڈاکٹر سید عالم اور افراسیاب خٹک کو مکمل سکیورٹی فراہم کی جانا چاہیے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عثمان کاکڑ کی فیملی متاثرہ فریق ہے، تحقیقات ایسی ہونا چاہیے، جس سے انکے خاندان کو بھی تسلی ہو اس لیے کاکڑ کی موت کی جوڈیشل انکوائری کروانا ضروری ہے۔

Back to top button