عدالت کا ساجد گوندل کو 10 روز میں بازیاب کرانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس سی سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی بازیابی کےلیے حکام کو دس روز کی مہلت ہوئے معاملی وزیر اعظم اور کابینہ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے.
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل بازیابی کیس کی سماعت کی۔ساجد گوندل کی اہلیہ اور بچے، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، آپریشنز وقار الدین سید، آئی جی اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار خان عدالت میں پیش ہوئے۔ ساجد گوندل کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ فراہم نہیں کر سکتے تو پھر یہ آئینی عدالت بند کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لائیں اور آئندہ کسی وضاحت کے ساتھ نہ آئیں۔ سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو کوئی ایک مثال بتائیں جس میں لاپتہ شہری کو بازیاب کرایا گیا ہو، ہرشہری عدم تحفظ کا شکار ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے، کسی کو تو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، ایف آئی اے، پولیس اور وزارت داخلہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں شریک ہیں۔ وزیراعظم کو انفارم کریں کہ اداروں کا ریئل اسٹیٹ کاروبار کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے، یہ معاملہ آپ وفاقی کابینہ کے نوٹس میں بھی لائیں۔ کیا آپ نے وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کیا ہو رہا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے علم میں یہ معاملہ لائیں، اسلام آباد میں کوئی قانون کی حکمرانی نہیں؟ ایسا ایک رات میں نہیں ہوا، مس گورننس نے اس صورتحال کو پہنچایا، سرکاری افسر اٹھایا گیا اور ریاست نے تین دن کچھ نہیں کیا۔
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کیس کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات درست نہیں کہ سرکاری محکمے کاروبار میں شریک ہیں۔ ہم اس کیس کے حوالے سے تفتیش کر رہے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے؟ اس پر سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ ‘ابھی اس سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔’چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معلوم ہوا ہے کہ لاپتا افراد کے کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، پولیس کی تفتیشی ٹیم کو چیئرمین کمیشن سے پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا ان کے پاس کوئی ذاتی معلومات ہیں؟، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت سے تین عوامی نمائندے منتخب ہوئے ہیں۔ تین دنوں سے صرف اجلاس ہی ہو رہے ہیں۔اگر کسی وزیر کا بیٹا اغوا ہوتا تو آپ کیا کرتے؟
سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کو اس حوالے سے مطلع کیا جائے گا اور آئندہ کابینہ اجلاس میں بھی یہ معاملہ رکھا جائے گا۔ سیکرٹری داخلہ نے استدعا کی کہ ‘ریاستی اداروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے‘وزیراعظم کو مطلع اور آئندہ کابینہ اجلاس میں یہ معاملہ رکھا جائے گا۔ عدالت نے ساجد گوندل کو10 روز میں بازیاب کرانے اور کیس وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد ہے، وزیراعظم اسلام آباد میں رول آف لا کی بحالی یقینی بنائیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ عدالت اس حوالے سے آرڈر پاس کرے گی جو کل کے کابینہ اجلاس کے سامنے رکھا جائے۔
