عدلیہ پر تنقید کرنے والے یوتھیوں کی ٹھکائی کا فیصلہ

بلا چھن جانے کے بعد عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ کھولنے والے عمرانڈوز کی ٹھکائی ہونے والی ہے۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر ججز کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات اکھٹی کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تمام حقائق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر عدلیہ کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے حساس اداروں کے افسران نے پلان آف ایکشن سربراہ جے آئی ٹی کو پیش کردیا ہے۔جے آئی ٹی نے پی ٹی اے کو نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کی معلومات جمع کرنے کی ہدایت کردی جس میں کہا گیا ہے کہ مواد اپ لوڈ، شیئر اور کمنٹ کرنے والوں کی تمام تفصیلات حاصل کی جائیں۔ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے میں عدلیہ مخالف مواد پھیلانے والوں کی گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

یاد رہے کہ 16 جنوری کو عدلیہ مخالف مہم کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی تھی، تاکہ ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرکے انھیں نشان عبرت بنایا جا سکے۔ تاکہ آئندہ کسی بھی فرد کو ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی جرات نہ ہو۔

واضح رہے کہ چند روز قبل طویل سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان نہ دینے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔سیاسی اور قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تاہم اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ اور اس کے ججز کے خلاف باقاعدہ مذموم مہم شروع کردی گئی تھی اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ نے جے آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ’سوشل میڈیا مہم‘ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی روک تھام اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق چھ رکنی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ہوں گے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق دیگر ارکان میں انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی اور انٹر سروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے دو نمائدے جن کا رینک 20ویں گریڈ سے کم نہیں ہو گا، اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی، پی ٹی اے کا ایک نمائندہ اور ایک منتخب کردہ رکن شامل ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے مطابق جے آئی ٹی ’ججز کے خلاف مہم کے پیچھے مذموم مقاصد تلاش کرنے کے علاوہ اس میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسی مہمات کی روک تھام کے لیے تجاویز دے گی۔‘نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی اپنا کام 15 دنوں میں مکمل کر کے رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کروائے گی۔

Back to top button