عرب ممالک کے شہزادے شکار کرنے پاکستان پہنچ گئے


متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے حکمران اور ان کے وزرا، فوجی سربراہان اور شاہی خاندان کے ارکان تلور کے شکار کے لیے تین مہینے کے خصوصی اجازت ناموں پر پاکستان پہنچ گئے ہیں اور اب پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر ہو گئے ہیں۔
سول سوسائٹی اور پرندوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی سخت مخالفت کے باوجود پاکستان کی وزرات خارجہ نے عرب مہمانوں کو تلور کے شکار کے خصوصی اجازت نامے جاری کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے دس برسوں میں پاکستان میں تلور کی نسل معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ اس کا وسیع پیمانے پر عرب مہمانوں کی جانب سے کھیلا جانے والا شکار ہے۔ پاکستانی وزرات خارجہ کی جانب سے بنائے گئے رسمی ضابطہ اخلاق کے مطابق تلور کا شکار صرف بازوں کی مدد سے کیا جائیگا اور اس میں بندوق، جال وغیرہ کا استعمال نہیں ہوگا۔ لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا نہیں اور ذیادہ تر شکار بندوق سے ہی کیا جاتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ بحرین کے حکمران خاندان کے سات افراد کو شکار کی اجازت دی گئی ہے، جن میں بادشاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان، ان کے چچا شیخ ابراہیم بن حماد، بحرین کے محکمہ دفاع کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ، بحرین کے بادشاہ کے کزن جنرل شیخ راشد بن عبد اللہ، محکمہ دفاع کے لیے بادشاہ کے مشیر شیخ عبداللہ بن سلمان، بادشاہ کے کزن شیخ احمد بن علی الخلیفہ، بادشاہ کے کزن شیخ خالد بن راشد بن عبد اللہ شامل ہیں۔ یہ شخصیات سندھ کے میدانی علاقوں جامشورو، سجاول، نوشہرو فیروز، ملیر، ٹنڈو محمد خان میں شکار کھلیں گے۔ قطر کے حکمران اور ان کے خاندان و افواج کے 18 افرد کو شکار کی اجازت ہو گی۔ قطری مہمانوں کو پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے مختلف اضلاع میں کیمپ لگا کر شکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے سربراہ اور ابو ظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن الزید النہیان کو پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے ایک درجن کے قریب اضلاع میں شکار کی اجازت دی گئی ہے، جن میں رحیم یار خان، راجن پور، چکوال، سکھر، گھوٹکی، سانگھڑ، نواب شاہ، خیرپور، ژوب، اوڑماڑہ، پسنی، خاران، ڈیرہ بگٹی، پنجگور اور واشک شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ تلور باز عرب مہمانوں کو شکار کی اجازت یکم نومبر سے لیکر 31 جنوری تک ہوگی۔ اس کے بعد 10 روز سے زیادہ قیام کرنے پر ہر شکاری کو ایک لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ عائد ہو سکتا یے۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ پرندوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد اس مرتبہ سندھ بلوچستان اور پنجاب میں عرب مہمانوں کی جانب سے شکار کے دوران محکمہ جنگلی حیات کا سٹاف بھی تعینات ہوگا جو ہر شکار کی گنتی کرے گا، محکمہ جنگلی حیات کے ہر پرمٹ پر 100 تلور کے شکار کی اجازت ہوگی اعر اس سے زیادہ شکار پر فی پرندہ دس ہزار امریکی ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ اسکے علاوہ تلور کے علاوہ کوئی اور شکار نہیں کیا جائیگا۔ شکار کے پرمٹ جن کے نام جاری کیے گئے ہیں صرف وہ لوگ شکار کرنے کے اہل ہوں گے، اگر ان کے علاوہ کوئی شکار کا خواہشمند ہے تو متعلقہ سفارتخانے کو وزارت خارجہ کو مطلع کرنا ہوگا۔
وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب مہمانوں کی روانگی کے سات روز کے اندر انکے لگائے گے کیمپ ختم کر دیے جائیں گے، اور ان جگہوں کو اصل حالت میں بحال کیا جائے گا، کیمپوں کا تصویری ریکارڈ شکاری ٹیمیں اور محکمہ جنگلی حیات اپنے طور پر محفوظ رکھے گا۔ تلور کے شکار کے لیے بازوں کے استعمال کے عارضی اجازت نامے بھی جاری کیے جائیں گے جو بین الاقومی کنوینشن سائیٹس کے مطابق ہوں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں خلیجی ممالک کے سربراہان کی شکار کے لیے آمد کا باقاعدہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دور حکومت سے شروع ہوا تھا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے اس شکار کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیر سماعت رہا جہاں وزرات خارجہ کا موقف تھا کہ یہ ان کا ایک اہم ترین سفارتی محاذ ہے۔
اس دوران کراچی میں ناظم جوکھیو نامی نوجوان کی ایک شکاری ٹیم کو روکنے اور پھر تشدد سے ہلاکت کے بعد ایک بار پھر سوشل میڈیا پر عرب شکاری زیر بحث ہیں۔ اس سلسلے میں ایک پٹیش بھی جاری کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام غیر ملکی شکاریوں کے شکار کے پرمنٹ منسوخ کیے جائیں۔ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ غیر ملکی شکاری شخصیات کو انتہائی درجے کا پروٹوکول حاصل ہوتا ہے، اور ان کے محکمے کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ ان کی سرگرمی کی نگرانی کر سکیں جبکہ ان میں سے کچھ با اثر شکاری تو فیس بھی ادا نہیں کرتے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہر شکاری کے لیے ایک لاکھ امریکی ڈالر شکار کی فیس متعین کی ہے جس کا 50 فیصد مقامی ترقی کے لیے مختص ہے، 35 فیصد تلور کے آماجگاہ کی بہتری کے لیے اور 15 فیصد سکیورٹی کے مد میں ہوتا ہے۔ شکار کے ہر علاقے کے لیے ایک لاکھ امریکی ڈالر فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ بازوں کی عارضی آمد اور روانگی کی مد میں ایک ہزار فی باز فیس دینا ہوتی یے۔

Back to top button