عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملے، متعدد افراد زخمی

عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کے بعد ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں کئی افراد زخمی ہوگئے، جب کہ سعودی عرب نے حفاظتی اقدام کے طور پر اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی۔
سعودی حکام کے مطابق حملوں کے بعد پائپ لائن کو محفوظ بنانے کےلیے ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔
ریاض کا کہنا ہےکہ عراق کے وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائےگی،تاہم سعودی عرب نے اپنی خودمختاری، شہریوں اور تنصیبات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت توانائی کے مطابق ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ڈرون حملوں کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
سعودی وزارت توانائی کا کہنا ہےکہ پائپ لائن کی بندش احتیاطی اقدام کے طور پر کی گئی ہے، جب کہ صورت حال میں کسی بھی نئی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن کو عراق سے داغے گئے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایاگیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کی درخواست پر سعودی عرب اس مرحلے پر کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔
وزارت نے عراق کی کوششوں کی حمایت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مملکت ’برادر عراقی حکومت کو مملکت اور پڑوسی ممالک کےخلاف عراقی سرزمین سے کیےجانے والے حملوں کو روکنے کےلیے ضروری اقدامات کرنےکا موقع دے گی۔‘
تاہم اس نے کہاکہ مملکت اپنی سکیورٹی، خودمختاری، تنصیبات، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
اس کے جواب میں عراق نے کہاکہ وہ جوابی کارروائی مؤخر کرنے کے سعودی عرب کے فیصلے کو سراہتا ہے،جب کہ عراقی وزیر اعظم نے حملوں کے پیچھے موجود ملیشیا اور ان کی حمایت کرنےوالے فریقوں کےخلاف فوری تحقیقات کا حکم دے دیاہے۔
بغداد نے سعودی سکیورٹی اور استحکام کےلیے خطرہ بننےوالے کسی بھی حملے کی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیاکہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کےلیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہیں ہوں گی۔
بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف صورت حال مزید کشیدہ
سرکاری ترجمان نے کہاکہ ریاست ایسی کسی بھی سرگرمی کو برداشت نہیں کرےگی جو عراق یا برادر اور دوست ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کو خطرے میں ڈالے۔حکومت ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔عراقی حکومت مملکت کے مؤقف اور صورت حال پر قابو پانے کی عراقی کوششوں پر اس کے ردعمل کی قدر کرتی ہے۔
