عظمی خان بمقابلہ آمنہ عثمان، جانئے اصل کہانی ہے کیا؟

پاکستان کے ارب پتی بلڈر ملک ریاض حسین کی ایک قریبی عزیزہ آمنہ نے اپنے شوہر عثمان کو ڈیفنس لاہور کے ایک گھر میں شوبز کی دو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طور پر رنگ رلیاں مناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ کر ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں جس کے بعد ہر طرف ایک طوفان برپا ہو گیا۔
تاہم اس کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی نے دونوں پکڑی جانے والی لڑکیوں کی وکالت کرنے کا فیصلہ کیا اور تھانہ ڈیفنس لاہور میں ملک ریاض کی دو بیٹیوں پشمینہ ملک اور امبر ملک کے خلاف عظمی خان اور ہما خان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام پر پرچہ درج کروانے پہنچ گئے۔
مشہور پاکستانی فلم "جوانی پھر نہیں آنی” سے شہرت حاصل کرنے والی خوبصورت ایکٹریس عظمیٰ خان نے لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کی دو بیٹیوں کے خلاف اپنے مسلح گارڈز کے ہمراہ ان کے گھر میں زبردستی داخل ہوکر انہیں اور ان کی چھوٹی بہن ہما خان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے، انکی تذلیل کرنے اور بلیک میلنگ کرنے کے الزامات پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کروا دی ہے۔ عظمیٰ خان کی جانب سے مقدمے کی درخواست سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جمع کروائی گئی ہے جس میں عظمی اور ان کی بہن ہما سہمی ہوئی کھڑی نظر آتی ہیں اور ایک عورت ان دونوں کی ویڈیو بناتے ہوئے ان کو دھمکیاں دیتے ہوئے پوچھ رہی ہے کہ کیا تم عثمان کے ساتھ سوتی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ویڈیو بنانے والی خاتون ملک ریاض کی قریبی عزیزہ ہے جس نے عید پر عظمیٰ کے گھر اپنے مسلح گارڈزکے ہمراہ چھاپہ مارا اور اپنے خاوند عثمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عثمان ملک ریاض کی بیوی کی بہن کا بیٹا ہے جبکہ اسکی اہلیہ ملک ریاض کی قریبی ترین عزیزہ ہے۔
تاہم ملک ریاض نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا ان کے خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی عثمان نامی شخص ان کا بھتیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلا کر میرے خاندان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور میں اس پر ایکشن لوں گا۔ دوسری طرف عظمیٰ خان کی طرف سے دی گئی درخواست میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملک ریاض کی بیٹیوں پشمینہ اور امبر نے آدھی رات کے وقت بارہ مسلح گارڈزکے ہمراہ ان کے ڈیفنس والے گھر پر دھاوا بولا اور گھر کی تمام قیمتی اشیاء توڑ پھوڑ دیں۔ اسی دوران ان کی چھوٹی بہن ہما خان کے پاؤں میں شیشے کی کرچیاں لگنے سے شدید زخم بھی آئے جس سے گھر کے فرش پر ہر طرف خون پھیل گیا۔
عظمیٰ نے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی کو اپنا وکیل بناتے ہوئے ٹوئٹر پر ان کے ساتھ تصویر بھی شیئر کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ عظمیٰ نے کہا کہ میں یتیم ہونے کے باوجود انصاف کے حصول کے لیے قانونی جنگ لڑوں گی حالانکہ میں جانتی ہوں کہ ایسا کرنا پاکستان کے طاقتور ترین شخص سے ٹکر لینے کے مترادف ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس جنگ میں میرا اور میرے خاندان کا قتل بھی ہو سکتا ہے۔ عظمیٰ نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ اس کی بہن ہما خان کا فوری میڈیکل چیک اپ کروایا جائے اس سے پہلے کہ اس کے پاؤں کے زخم بھرنا شروع ہوجائیں۔
دوسری طرف عظمی خان کے وکیل اور وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ٹوئٹر پر ایک میسج ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس وقت ڈیفنس تھانے میں ہوں اور پولیس والے عظمی خان کا کیس درج کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حسان نے لکھا کہ میں دعوے کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ عظمی خان کے گھر ہونے والے دہشتگرد آپریشن کی قیادت ملک ریاض کی بیٹی کر رہی تھی۔ حسان نے ثبوت کے طور پر ملک ریاض کی بیٹی کی ایک مبینہ تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کی جس میں انہیں عظمی کے گھر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حسان نے مزید لکھا کہ پورے پاکستان کو ان دونوں یتیم بچیوں کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے۔ ویسے بھی یہ کیس عثمان بزدار کی حکومت اور نئے پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔
یاد رہے کہ عظمی خان نے اردو فلم "وار” سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا تھا جس کے بعد انہوں نے "تیری میری لو سٹوری” اور "یلغار” نامی فلموں میں بھی کام کیا لیکن انہیں اصل شہرت فلم "جوانی پھر نہیں آنی” سے ملی۔
ملک ریاض کے فیملی ذرائع کا کہنا ہے ملک صاحب کی قریبی عزیزہ آمنہ کے شوہرعثمان کا عظمی خان کے ساتھ افیئر ہے اس لیے چاند رات کو جب وہ اسے ملنے اس کے گھر پہنچا تو آمنہ نے اپنے مسلح گارڈز کے ہمراہ چھاپہ مار دیا اور گھر کی دیواریں پھلانگ کر انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ عثمان تو موقع سے فرار ہوگیا لیکن عظمی خان اور ہما خان کو آمنہ نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنالیا۔ اس دوران مسلح گارڈز نے گھر کی تمام قیمتی چیزیں توڑ دیں اور مبینہ طور پر دونوں بہنوں پر مٹی کا تیل چھڑک کر انہیں جان سےمارنے کی دھمکی دیتے ہوئے اعترافی بیان دینے کو کہا۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں آمنہ کی دھمکیاں دینے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی ہیں جن میں وہ یہ کہتی بھی سنی جا سکتی ہیں کہ بلاو آئی ایس آئی والوں کو تاکہ ان دونوں کو اٹھوایا جائے۔ اس دوران دونوں بہنیں روتے ہوئے خاتون کی منتیں کر رہی ہیں کہ ایسا نہ کریں ہم مر جائیں گی لیکن موبائل پر ویڈیو بنانے والی خاتون باز نہیں آتی اور دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ہما خان سے پوچھتی ہے کہ بتاؤ تمہارا عثمان سے کیا تعلق ہے۔ کیا تم اس کے ساتھ سوتی ہو؟ تاہم ہما کوئی جواب نہیں دیتی۔
تاہم اسی دوران آمنہ کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی جس میں انہوں نے بتایا کہ دراصل جس گھر میں جا کر انھوں نے عظمی خان اور اپنے شوہر کو پکڑا وہ ان خواتین کی نہیں بلکہ ان کے خاوند کی ملکیت ہے اور ان کا دوسرا گھر ہے، لہذا ان کے خلاف کسی کے گھر میں داخل ہوکر غنڈہ گردی کرنے کا کیس بنتا ہی نہیں۔ آمنہ نے کہا کہ میں نے یہ انتہائی قدم بار بار کی وارننگز دینے کے بعد اٹھایا ہے اور اب میں نے اپنے شوہر کے ساتھ تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آمنہ نے کہا کہ میں نے جس حالت میں اپنے شوہر کو ان دو لڑکیوں کے ساتھ پکڑا ہے کوئی اور عورت ہوتی تو اس کا ردعمل اس سے بھی زیادہ برا ہوتا اور وہ اور بھی زیادہ توڑ پھوڑ کرتی۔ آمنہ نے اس الزام کی تردید کی کہ انہوں نے لڑکیوں پر مٹی کا تیل پھینک کر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ آمنہ نے کہا کہ دراصل جو شراب وہ لڑکیاں پی رہی تھیں وہی ان کے کپڑوں پر انڈیلی گئی۔
تاہم آمنہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ڈالی گئی اس واقعے کی ویڈیوز نے بظاہر ان کے اپنے لئے ہی مشکلات کھڑی کردی ہیں کیونکہ ان ویڈیوز کو پولیس ان کے خلاف جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کے ثبوت کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہے۔ ان ویڈیوز پر ٹویٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ ایک کرنل کی بیوی نے ہنگامہ کیا تو پورے پاکستان میں زلزلہ آگیا لیکن آج ایک ٹھیکیدار کی بیٹی کے معاملے پر پورا پاکستانی میڈیا منہ میں دہی جمائے بیٹھا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ اب بتاؤ اس ملک میں سب سے بڑا مافیا کون ہے؟ فوج یا ملک ریاض؟ ایک اور ٹویٹر صارف حبیب نے لکھا کہ پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ ملک ریاض ایک دو نمبر بندہ ہے اور یہ دونوں لڑکیاں بھی دو نمبر ہیں ملک ریاض کے پاس ہر مسئلے کا حل اور اس کی قیمت موجود ہوتی ہے۔ انتظار کریں۔ جلد ان دونوں دو نمبر پارٹیوں کا آپس میں سودا طے ہو جائے گا۔ دوسری طرف آخری اطلاعات آنے تک عظمی خان کی جانب سے مقدمے کی درخواست پر ایف آئی آر تو درج کر لی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل نہں لائی جا سکی.
حسان خان نیازی کی آخری ٹویٹ کے مطابق ملک ریاض مقدمے پر اثر انداز ہورہے ہیں اس وجہ سے تاحال پولیس کوئی عملی قدامات کرنے سے گریزاں ہے۔ دوسری طرف آمنہ کا کہنا ہے کہ حسان نیازی عظمی خان کی چھوٹی بہن ہما خان کا بوائے فرینڈ ہے اور یہ سب مل کر ہم سے پیسے بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آمنہ نے الزام لگایا کہ حسان خان نیازی نے معاملہ ختم کرنے کے لیے لڑکیوں کے ایما پر سودے بازی کی کوشش کی جس سے ہم نے انکار کر دیا کیونکہ ہم حق پر ہیں۔آمنہ کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر عثمان کا عظمی خان کے ساتھ پچھلے دو برسوں سے افیئر چل رہا ہے اور انہیں شک ہے کہ کہیں یہ دونوں نے آپس میں شادی نہ کر لی ہو.
