پنجاب میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے علاج کیلئے دوا منظور

حکومت پنجاب نے صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں کووِڈ 19 کے باعث اموات میں اچانک اضافے کو دیکھتے ہوئے اس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کےلیے ایکٹیمرا نامی زندگی بچانے والی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی۔
400 ملی گرام کی انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی یہ دوا ان مریضوں کو تجویز کی جائے گی جنہیں پھیپھڑوں کی پیچیدگیاں لاحق ہوں اور خون میں آئی ایل-6 کی سطح غیر معمولی ہو،
خیال رہے کہ آئی ایل-6 ایک ایسا کیمیکل ہے جو سوزش کا سبب بنتا ہے۔
اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’دوا کی ایک خوراک (انجیکشن) کی قیمت 60 ہزار روپے ہے جو انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زندگی کی تشویشناک حالت میں داخل مریضوں کو 2 مرتبہ دی جائےگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
ساتھ ہی محکمہ صحت نے لاہور میں سرکاری تربیتی اسپتالوں کو اس دوا کی 20 خوراکیں خریدنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
اجلاس میں میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز، میڈیکل کالجز کے پرنسپل، حکومت کے کورونا ایڈوائزری گروپ (سی ای اے جی) کے اراکین، ماہر امراض سانس اور میڈیسن کے پروفیسرز بھی موجود تھے۔
لاہور کے میو اسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر اسد اسلم خان نے اس دوا کے آئی سی یو میں زیر علاج تشویشناک مریضوں کے علاج کےلیے استعمال کے حوالے سے ایک تحقیق پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اسپتال میں ڈاکٹروں نے کورونا وائرس کے ان مریضوں کو یہ دوا تجویز کی جن کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچایا شدید نمونیہ تھا جس کے نتیجے میں صحت یابی کی شرح 80 سے 90 فیصد رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن مریضوں پر یہ دوا استعمال کی گئی ان میں شاہدرہ ٹیچنگ اسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے میڈیسن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پرسنل اسٹاف آفیسر شامل تھے۔
دونوں مریض میو اسپتال میں زیر علاج تھے اور دوا کا اثر اتنا ہوا کہ نہ صرف وہ صحتیاب ہوئے بلکہ آئی سی یو سے بھی نکل گئے۔ دوسری جانب میڈیکل اداروں کے سربراہان نے بھی ایکٹیمرا کے استعمال کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اسپتالوں میں اسے کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کےلیے استعمال کیا جارہا ہے۔
اجلاس میں ماہرین صحت کو بتایاگیا کہ نمونیا کا شکار کووِڈ مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جس سے پنجاب میں اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اجلاس کے دوران صوبے میں آئی سی یو کی سہولت کی توسیع کا ایک اور اہم فیصلہ بھی کیا گیا۔
صوبے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں متوقع اضافے پیشِ نظر ٹیچنگ اسپتالوں کے سربراہاں کو آئی سی یو اور ہائی ڈپینڈینسی یونٹس میں بستروں کی گنجائش میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔
