عظمی خان نے کیسے حسان نیازی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا؟

اداکارہ عظمی خان کی محبت میں پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے ٹکر لینے والے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسان نیازی کو عظمی نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا اور ملک ریاض سے 25 کروڑ روپے وصول کر کے حسان کی انتھک کوششوں سے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی۔
یاد رہے کہ ڈیفنس لاہور میں عظمی خان کے گھر پر ملک ریاض کی بیٹیوں کی جانب سے حملے کے بعد سے حسان نیازی بڑھ چڑھ کر عظمی کی حمایت میں سامنے آرہے تھے اور بار بار اس عزم کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے۔ یہ حسان ہی کی کوششیں تھیں جن کے نتیجے میں لاہور کی ڈیفنس پولیس بالآخر ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور ہوگئی۔
تاہم انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جن دو پارٹیوں کا آپس میں میچ پڑا ہے وہ وقت آنے پر ان کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر پھینکیں گی۔ بیچارہ حسان نیازی عظمی کے حق میں روزانہ انٹرویوز دیتا تھا اور ڈھیروں ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتا تھا کہ عظمی کسی بھی صورت میں بکے گی نہیں۔ دوسری طرف عظمیٰ کا بھی یہی موقف تھا کہ اس کی ویڈیو مارکیٹ ہونے کے بعد اس کی عزت کا جنازہ نکل چکا ہے اور اب اس کے پاس کھونے کے لئے اور کچھ نہیں لہذا وہ انصاف کے لیے ملک ریاض کے خلاف آخری حد تک جائے گی چاہے اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ لیکن اس وقت واقعی حد ہوگئی جب عظمی نے اپنے قریب ترین ساتھی اور وکیل حسان نیازی سے چھپ کر ملک ریاض کے ساتھ کیس واپس لینے کے لئے خاموشی سے کروڑوں روپے کی ڈیل کر لی۔
ظلم کی بات یہ ہے کہ جب حسان نیازی بڑھ چڑھ کر عظمی کے حق میں بول رہا تھا تو آمنہ ملک نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ حسان کا اصل مسئلہ پیسے بٹورنا ہے اور وہ اسی لیے بات کو بڑھا رہا ہے۔ اسی لیے بیچارے حسان پر اس ڈیل کے بعد الزام لگنا شروع ہو گیا کہ اس نے بھی ملک ریاض سے پانچ کروڑ روپے وصول کیے ہیں۔ تاہم حسان نے کہا ہے کہ عظمیٰ خان نے ان سے چھپ کر ملک ریاض سے ڈیل کی اور میں اس کا حصہ نہیں ہوں، میں تو ڈیل کے وقت سی سی پی او آفس میں پولیس سے لڑرہا تھا تاکہ ملزمان کی گرفتاری ہو سکے، میں تو عظمیٰ خان اور ان کی بہن کیلئے جدوجہد کر رہا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ عین اس وقت عظمیٰ ڈیل کررہی تھی۔ حسان نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈیل کرتے وقت نہ تو مجھے اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ڈیل کرنے کے بعد عظمی نے میرا کوئی ایک بھی فون سنا ہے۔ حسان نے کہا کہ وہ تو میرے کسی میسج کا بھی جواب نہیں دے رہی اور لوگ الٹا مجھ پر الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے یہ ڈیل کروائی اور اس میں کمیشن وصول کیا۔
تاہم حسان نیازی کا کہنا تھا کہ اس تمام تر معاملے کے بعد بھی میں نے امید نہیں کھوئی، میں سمجھتا ہوں کہ میری جدوجہد سے ایک ٹرینڈ سیٹ ہوا کہ کسی کے گھر کا گیٹ نہیں پھلانگنا اور نہ ہی خواتین کے کمروں میں گھسنا ہے ، حسان نیازی نے کہا کہ قانون سے تو یہ لوگ بچ گئے ہیں تاہم اللہ کی لاٹھی سے نہیں بچ سکتے کیونکہ اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس ڈیل کے بارے میں مختلف طرح کی باتیں چل رہی ہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک ریاض نے عظمی خان کو 25 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کیا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نے لاہور کے بحریہ ٹاؤن میں ملک ریاض سے ایک بڑی کوٹھی اپنے نام کروائی ہے۔ اس سےپہلے عظمی اور ہما خان نے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کے لیے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان حلفی ریکارڈ کروایا جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا تھا۔ اس سے قبل دونوں بہنیں کہتی رہی تھیں کہ انہیں راڈ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم جب ملک ریاض نے عظمی خان کو نوٹ دکھائے تو اس کا موڈ بن گیا اور اس نے قیمت وصول کرکے مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔ یوں عظمی خان کیس میں پھدک پھدک کر نمبر بنانے والے حسان نیازی نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔
اب دونوں طرف سے فارغ ہو جانے کے بعد حسان نیازی نے آمنہ ملک کو بے بنیاد الزامات لگانے پر قانونی نوٹس بھیج دیا، بیرسٹر حسان نیازی نے عظمیٰ خان تشدد کیس میں نامزد آمنہ عثمان ملک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ان پر بے بنیاد الزامات لگا کر انکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ حسان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ”میں نے بے بنیاد الزامات لگانے پر آمنہ ملک کو قانونی نوٹس بھیج دیا اور امید ہے کہ اس نے جو الزامات لگائے ان کو عدالت میں ثابت کرنے کیلئے ثبوت موجود ہوں گے۔
یاد رہے کہ بیرسٹر حسان نیازی تحریک انصاف کی سٹوڈنٹ ونگ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کرتا دھرتا رہے ہیں۔ مشرف دور حکومت میں14 نومبر 2007کو جب عمران خان کو ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران پنجاب یونیورسٹی سے گرفتار کیا گیا تو اس وقت کپتان کو جامعہ پنجاب لانے والے بھی حسان نیازی تھے تاہم جب اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے عمران خان پر تھپڑوں کی بارش کی اور پولیس نے ایمرجنسی کے خلاف ورزی کرنے پر عمران خان کو گرفتار کیا تو حسان نیازی تب غائب ہوگئے تھے۔
