پاکستانیوں نے کرونا پھیلانے میں چین کو پیچھے چھوڑ دیا

https://www.youtube.com/watch?v=HypZdplxcTo&t=1s
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چین سے زیادہ ہو گئی جہاں سے کہ یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا ہے.۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ پاکستان میں رپورٹ ہونے والے یومیہ کیسز کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں پہلی مرتبہ ایک ہی دن میں 4 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کرونا متاثرین کی مجموعی تعداد 85 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ یوں اب ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد اس موذی وائرس کے مرکز چین سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
یاد رہے کہ لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں پاکستان کی طرح پہلا مریض 26 فروری کو شناخت ہوا تھا اور پاکستان کی طرح وہاں پہلی ہلاکت 18 مارچ کو ہوئی لیکن اس کے بعد وہاں حالات تیزی سے خراب ہوتے گئے اور اس وقت برازیل دنیا میں سب زیادہ سے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ وہاں کرونا سے متائثر لوگوں کی تعداد 526000 سے زیادہ جبک مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہے۔ یعنی اگر پاکستان میں بھی کرو نا وائرس کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو اگلے چار ہفتوں میں متاثرین اور مرنے والوں کی تعداد میں برازیل کی طرح کئی سو گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔
لیکن زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جس ملک یعنی چین سے یہ وائرس پھیلا اس نے اسے کنٹرول کر لیا ہے اور وہاں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کرونا کا صرف ایک نیا مریض دیکھا گیا ہے جبکہ پاکستان میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کرونا کے چار ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگر مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ قدرے تیزی سے ہونے کے باوجود خوش قسمتی سے اموات کی شرح ابھی تک صرف 2.12 ہے جبکہ عالمی طور پر شرح اموات تقریباً چھ فیصد ہے۔ لیکن اگر توجہ صرف مئی کے 31 دنوں پر مرکوز کی جائے تو اس مہینے کے اعداد و شمار کی روشنی میں آنے والے دنوں میں آثار اچھے نظر نہیں آتے۔
اپریل کے اختتام پر پاکستان میں 359 اموات تھیں جبکہ اگلے 31 دنوں میں پاکستان میں یومیہ 37 اموات کی اوسط سے کل 1158 اموات ہوئیں جن میں سے مئی کی 30 تاریخ کو ریکارڈ 88 ہلاکتیں درج کی گئیں۔ اسی طرح 16 ہزار کُل متاثرین کے ساتھ مئی کا مہینہ شروع ہوا تو ختم ہوتے ہوتے یومیہ 1800 نئے متاثرین کی اوسط کے ساتھ صرف ان 31 دنوں میں 55643 نئے متاثرین سامنے آئے۔
اپریل کے پہلے ہفتے میں وفاقی وزیر اسد عمر، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کووڈ 19 سے مقابلے میں حکومتی حکمت عملی کے روح رواں ہیں، اور وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، دونوں کا کہنا تھا کہ مئی کے آغاز تک پاکستان میں یومیہ ٹیسٹس کی صلاحیت 20 سے 25 ہزار تک پہنچا دی جائے گی۔
تاہم سرکاری اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ پاکستان میں مئی کے آخر تک کسی بھی دن 16 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس نہیں ہوئے ہیں۔ صرف مئی کے مہینے میں ٹیسٹس کی کُل تعداد 375862 ہے جو کہ اوسطاً فی دن 12 ہزار ٹیسٹس کے لگ بھگ بنتا ہے۔ گویا مئی کے مہینے میں پاکستان کا انفیکشن ریٹ 14.80 رہا یعنی ہر سو ٹیسٹس پر تقریباً 15 مریضوں کی شناخت ہوئی۔
واضح رہے کہ اسد عمر کا مئی میں ایک بیان سامنے آیا تھا جس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یومیہ 30 ہزار ٹیسٹس کافی ہوں گے۔ اگر مئی کے مہینے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو پاکستان میں متاثرین اور اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حکومتی حکمت عملی کے درمیان ایک ربط نظر آتا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے کورونا وائرس سے نپٹنے کی مرکزی ذمہ داری نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کو سونپی گئی ہے جس نے 31 مئی کو با ضابطہ طور پر ‘لِوونگ وِد دا پینڈیمک’ یعنی وبا کے ساتھ ہی رہنا ہے کو بطور حکمت عملی اپنایا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر زور دیا کہ پاکستان میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ نہیں رکے گا اور ‘ہمیں اب اسی کے ساتھ گزارا کرنا ہے ‘ اور ملک میں پھیلی ہوئی غربت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہونی چاہیے اور لاکڈاؤن ختم ہونا چاہیے۔ مئی کے آغاز میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے ‘سیلف بیلیف’ یعنی خود پر اعتماد اور بھروسہ کرنا ضروری ہے اور پھر سات مئی کو میڈیا بریفنگ میں لاکڈاؤن کو مزید نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان پہلے دس دونوں کے دوران پاکستان میں یومیہ کورونا متاثرین، یومیہ اموات اور یومیہ ٹیسٹنگ میں اوسطاً 1400، 28 اور دس ہزار کا بالترتیب اضافہ ہوا۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں اکثر علامات دو سے تین ہفتوں میں سامنے آتی ہیں، اور کئی ایسے بھی متاثرین ہیں جنھیں کسی قسم کی کوئی علامات نہیں ہیں۔ مئی کی 11 سے 20 تاریخ تک دوران ایک بار پھر وزیر اعظم نے اپنے بیان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ غربت و افلاس کورونا سے زیادہ بری ہے اور اب قوم کو اس وائرس کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔ اسی عرصے میں پاکستان کی عدالت عظمی نے بھی مختلف مواقعوں پر ملک کے دیگر حصوں میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری سرگرمیوں اور شاپنگ مالز کے بند ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انھیں بحال کرنے کا بھی حکم دیا۔
ان دس دنوں کے دوران یومیہ 1700 نئے متاثرین، یومیہ 35 اموات اور یومیہ 13 ہزار ٹیسٹس کی اوسط دیکھنے میں آئی۔ اور مئی کے آخری دس دنوں میں گذشتہ اقدامات کا نتیجہ سامنے آیا اور پاکستان میں یومیہ اموات کا اوسط بڑھ کر 48 ہو گیا اور اوسط یومیہ متاثرین کی تعداد بھی 2200 سے بڑھ گئی۔ بالخصوص عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد صرف مہینے کے آخری چار دنوں میں 283 اموات ریکارڈ کی گئیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے اپریل اور پھر مئی میں کم از کم پانچ مرتبہ واضح طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے یا کبھی ‘سمارٹ لاک ڈاؤن’ کی حکمت عملی اپنانے کے حوالے سے دیے گئے مختلف بیانات کے باعث ایک ابہام سا پیدا ہو گیا کہ آیا ملک میں لاک ڈاؤن ہے بھی یا نہیں۔ اس سے بھی لوگوں میں کرونا کے حوالے سے ذہن تبدیل ہوا اور وہ سڑکوں اور بازاروں میں نکل آئے۔ تاہم ملک میں کرونا کے حوالے سے ابتر ہوتی صورتحال کے بعد جو سوال ذہن میں اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان برازیل بننے سے بچ پائے گا؟
