علیم اور ترین کا ملکر کپتان کے چھکے چھڑانے کا فیصلہ

عمران خان کے سابقہ دست راست علیم خان اور جہانگیر خان ترین نے ملکر کپتان کے چھکے چھڑانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز جلد پنجاب سے کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان نے ایک ہی پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ہم خیال ساتھیوں سے ہر سطح پر رابطے تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

2023 ملک میں الیکشن کا سال ہے اور اسی وجہ سے تمام سیاسی جماعتیں متحرک نظر آ رہی ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی بقا کی خاطر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری جانب پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اس بات پر بضد ہیں کہ انتخابات وقت سے پہلے کسی صورت نہیں کرائے جائیں گے۔جہاں ہر کوئی اپنی سیاسی چال چل رہا ہے تو ایسے میں سینیئر سیاسی رہنما جہانگیر ترین اور علیم خان بھی میدان میں اتر آئے ہیں جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد حکومت سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا مگر اب کی بار وہ کسی کے لیے ’بے کار‘ محنت کرنے کے بجائے اپنے بل بوتے پر سامنے آنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے جس کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

پیر 29 مئی کے روز سابق سینیئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے جہانگیر ترین کو اپنے گھر ظہرانے پر بلایا اور اس موقع پر ملک کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ۔ پی ٹی آئی سے علیحدگی کے بعد ان دونوں رہنماؤں نے آپس میں میل ملاپ جاری رکھا اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر اپنا وزن حمزہ شہباز کے پلڑے میں ڈالا مگر ان کے گروپ کے ووٹ حمزہ شہباز کے کسی کام نہیں آ سکے تھے۔

اب جب پاکستان تحریک انصاف بکھر چکی ہے تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دوبارہ سے سیاسی سر گرمیاں شروع کر دی ہیں۔ پیر کے روز جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کے دیگر رہنماؤں نے علیم خان سے ان کے گھر پر ملاقات کی اور ایک نئی پارٹی بنانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔جہانگیر ترین چونکہ جنوبی پنجاب میں کافی اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ 2018 میں بھی عمران خان کی پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے جہانگیر ترین نے جنوبی پنجاب سے کافی سارے آزاد امیدوار تحریک انصاف میں شامل کرائے تھے۔

سینیئر صحافی احمد ولید کے مطابق یہ ایک پریشر گروپ ہے۔ پی ٹی آئی کے منحرف ہونے والے لوگوں کو شامل کرنے کے باوجود بھی علیم اور جہانگیر فیکٹر پنجاب میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتا ہوانظر نہیں آتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان بالکل بھی سیٹیں نہیں نکالیں گے۔ ان کی جماعت کو بھی پنجاب میں سیٹیں تو ملیں گی مگر یہ گروپ یا جماعت مسلم لیگ ق کی طرح حکومتی اتحادی کے طور اپنا اثرو رسوخ قائم رکھیں گے۔سینیئر صحافی احمد ولید کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مرتبہ الیکٹیبلز کا بھی اصل امتحان ہوگا کہ عوام ان کو اپنا لیڈر چنتے بھی ہیں یا نہیں۔

دوسری جانب ترین گروپ کہ سینیئر ممبر اسحاق خاکوانی کا موقف ہے کہ علیم خان قابل اعتبار شخص نہیں ہیں وہ ایک مرتبہ پہلے بھی ہمیں دھوکا دے چکے ہیں جس پر جہانگیر ترین سخت ناراض بھی ہوئے تھے اور ان کا فون سننا ہی بند کر دیا تھا، علیم نے لندن میں جہانگیر ترین سے ملاقات کی بھی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔اسحاق خاکوانی نے بتایا کہ جب پنجاب حکومت گرانے پر حامیوں نے ترین گروپ کے ساتھ اجلاس کیا تو ایک دن اچانک سے علیم خان میرے گھر آ گئے اور کہا کہ میں عمران خان سے بدلا لینا چاہتا ہوں جو آپ کہیں گے میں کروں گا اور ہمارا لیڈر جہانگیر ترین ہوگا لیکن اگلے ہی روز علیم خان ہمیں بتائے بغیر نواز شریف سے ملنے لندن چلے گئے جس پر ہمارے ساتھی ناراض ہوئے کہ جب طے ہوا تھا کہ مل کر چلنا ہے تو علیم خان بتائے بغیر کیسے ملاقات کے لیے چلے گئے۔اسحاق خاکوانی کے مطابق اس دن سے ہماری راہیں جدا ہو گئی تھیں لیکن آج کی جو ملاقات ہوئی یہ علیم خان نے اپنے گھر پر ہمیں بلایا اور کہا کہ آپ لوگ جو فیصلہ کرو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن ہمارا پہلا تجربہ علیم خان کے ساتھ ٹھیک نہیں رہا یہ اُس وقت بھی نواز شریف سے اپنی اور اپنے گروپ کے 3 یا 4 ممبران کی ڈیل کر کے آگئے تھے لیکن اب ہم بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔ سینیئر سیاست دان اسحاق خاکوانی کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی جماعت میں ون مین شو ہے۔ جو فیصلہ نواز شریف، شہباز شریف یا مریم نواز کر لیتی ہیں وہ پوری پارٹی کو ماننا پڑتا ہے دوسروں کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ عمران خان نے بھی 2018 میں حکومت بننے کے بعد ایسا ہی رویہ اختیار کر لیا تھا جو نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا اب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2022 کے ضمنی انتخابات میں ہمارے لوگ ن لیگ کا ٹکٹ لینے کی وجہ سے ہارے حالانکہ وہ لوگ ناقابل شکست تھے۔ ہم نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا مگر شہباز شریف کا رویہ ہمارے گروپ کے ساتھ ٹھیک نہیں رہا، اب نواز شریف کی جماعت سے ہماری راہیں جدا ہیں ہم ایک نئی سیاسی قوت بن کر ابھریں گے۔اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ سیاست میں داؤ پیچ چلتے رہتے ہیں۔ جہا نگیر ترین اس بار اچھی سیاست کرنے کے موڈ میں جبکہ علیم خان نے ابھی تک اس بات کا کھل کر ذکر نہیں کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کی نااہلی کے حوالے سے نظر ثانی کی اپیل جلد سپریم کورٹ میں دائر کر دی جائے گی۔

دوسری جانب سینیئر سیاستدان جہانگیر ترین اور سابق سینیئر وزیر پنجاب عبدالعلیم خان کے درمیان لاہور میں ہونے والی ملاقات بارے ذرائع کا دعوی ہے کہ جہانگیر ترین نے نئی پارٹی بنانے کے حوالے سے علیم خان سے مشاورت کی۔اس موقع پر شرکا نے تجویز دی کہ ہمیں کوئی پریشر گروپ بنانے کے بجائے نئی سیاسی پارٹی بنانی چاہیے کیوں کہ نئی پارٹی بنانے سے ہم عوام کے حقوق کا بہتر تحفظ کر سکیں گے۔اس موقع پر عون چوہدری نے بھی نئی سیاسی جماعت بنانے پر اصرار کیا۔شرکا کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بہت سے مزید رہنما پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں اس لیے انہیں ایک پلیٹ فارم ملنا چاہیے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 روز میں نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کر دیا جائے گا اور امکان ہے کہ اگلے 72 گھنٹوں میں جہانگیرترین اہم سیاسی رہنماؤں کےساتھ پریس کانفرنس کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پریس کانفرنس میں جہانگیرترین کےہمراہ تحریک انصاف سےلاتعلقی کرنے والےسیاست دان بھی موجود ہوں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سینیئر سیاستدان جہانگیر ترین جلد ہی الیکشن کمیشن میں نئی پارٹی کی رجسٹریشن کی درخواست بھی جمع کروائیں گے۔

واضح رہے کہ کچھ روز سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جہانگیر ترین نئی سیاسی پارٹی بنانے جا رہے ہیں اس حوالے سے انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے والے رہنماؤں کے ساتھ رابطے بھی شروع کر دیے ہیں۔

Back to top button