کیاعلیم خان PTI میں فارورڈ بلاک بنا رہے تھے؟

پنجاب کے سابق سینئر وزیر علیم خان کی پنجاب کابینہ میں واپسی کا بنیادی مقصد صوبے میں تحریک انصاف کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے خصوصا جب کپتان نے اپنے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کی بھی چھٹی کروا دی ہے۔ علیم خان کی کابینہ میں واپسی سے چند روز پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ ان کا رانا ثنااللہ خان سے رابطہ ہوا ہے اور پنجاب میں تحریک انصاف کا فارورڈ بلاک بنانے کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے خواجہ سعد رفیق نے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ لہذا ان تمام ملاقاتوں کے بعد کپتان نے یہ فوری فیصلہ کیا کہ علیم خان کو کابینہ میں واپس لایا جائے اس سے پہلے کہ وہ جہانگیر ترین یا نون لیگ کے ساتھ ہاتھ ملا لیں۔
یاد رہے کہ ایک زمانے میں علیم خان عمران خان کے بہت قریب تصور کیے جاتے تھے اور اسی بنا پر انہیں پنجاب کی پہلی کابینہ میں سینئر وزیر بنایا گیا تھا تاہم بعد ازاں احتساب کے ادارے نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام میں انہیں گرفتار کر لیا۔ علیم خان کو وزارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ دو ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ گذشتہ برس مئی کے مہینے میں ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔ تاہم علیم خان صوبے کے سیاسی منظرنامے سے اوجھل رہے اور جماعت کے معاملات میں بھی زیادہ نظر نہیں آئے۔
اب لگ بھگ ایک برس بعد عبدالعلیم خان کے لیے وقت ایک مرتبہ پھر بدلا ہے۔ وہ ایک مرتبہ پھر پنجاب کی کابینہ میں بطور وزیر واپس آ گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار بھی وہاں موجود تھے جن کے ساتھ ماضی میں بطور سینئر وزیر ان کے معاملات اچھے نہیں تھے کیونکہ بزدار کو یہ شک تھا کہ علیم خان انکی جگہ وزیر اعلی بننا چاہتے ہیں۔
عبدالعلیم خان ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں اور تحریکِ انصاف کے اندر اثرورسوخ بھی رکھتے ہیں۔ تو کیا ان کی واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ پنجاب کی کابینہ کو ان کے تجربے کی ضرورت تھی؟ اگر ایسا تھا تو ان کی ضمانت پر رہائی کے بعد دس ماہ تک انتظار کیوں کیا گیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترین کی فراغت کے بعد اب وزیرِاعظم اور ان کی جماعت کو پنجاب میں علیم خان کی ضرورت ہے جو گذشتہ دس ماہ میں محسوس نہیں ہوئی تھی؟
سیاسی مبصرین ان کی واپسی کو حالیہ واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں جب چینی بحران کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ وزیرِاعظم عمران خان کے حکم پر منظرِ عام پر لائی گئی اور اس میں ان کے دیرینہ ساتھی جہانگیر ترین اور اتحادیوں کے نام مبینہ منافع خوری کے حوالے سے سامنے آئے۔
مبصرین کا استدلال ہے کہ اس رپورٹ کے سامنے لانے سے جہاں عمران خان کو سیاسی طور پر فائدہ ہوا وہیں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ وہ ترین جیسا تجربہ کار ساتھی اور فنانسر کھو چکے ہیں اور اب علیم خان کو کھونا نہیں چاہتے جو بھلے وقتوں سے ان کے اسپانسر اور فنانسر ہیں۔
پنجاب میں کپتان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مونس الٰہی کا نام بھی شوگر تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے بعد دونوں اتحادیوں میں خلیج بڑھ سکتی ہے۔ ق لیگ پہلے ہی عثمان بزدار کے طرزِ حکومت پر اعتراضات اٹھا چکی ہے۔
تاہم ان حالات میں پنجاب سے ایک اور خبر سامنے آئی کہ علیم خان کا ٹیلی فون پر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ سے رابطہ ہوا تھا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں عمران خان اور ان کے جماعت خصوصاً صوبہ پنجاب کے اندر عدم استحکام کے متحمل نہیں ہو سکتی اور علیم خان اور رانا ثنا اللہ کے درمیان رابطہ ایک دھماکہ خیز خبر تھی۔ علیم خان اس خبر کی تردید کر چکے ہیں اور رانا ثنا اللہ کی جانب سے کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاست پر بات نہیں ہوئی۔ تاہم سچ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔ لہذا عمران خان نے مناسب سمجھا کہ پنجاب حکومت کو بچانے کے لیے وہ اپنی صفیں درست کریں ورنہ دس سے بیس اراکین پنجاب اسمبلی کا کوئی فارورڈ بلاک بنانا علیم خان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور ایسی صورت میں بزدار حکومت فوری ختم ہوسکتی ہے خصوصاجب قاف لیگ بھی کپتان سے ناراض ہے اور کپتان بخوبی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر پنجاب میں اقتدار باقی نہ رہے تو پھر وفاق میں اقتدار بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ویسے بھی یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ جہانگیر ترین اور وزیرِاعظم عمران خان کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہوں اور اسی وقت عبدالعلیم خان اور رانا ثنا اللہ کے رابطے کی خبر بھی سامنے آئے اور پھر علیم خان کابینہ میں واپس بھی آ جائیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد اور جزبِ اختلاف کی جماعت کے ساتھ پی ٹی آئی اور اس کے بعد ان کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی حالیہ ملاقاتوں کے بعد کپتان اپنی حکومت کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے اور نہیں چاہے گا کہ جہانگیر ترین بھی جائے اور علیم خان بھی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button