علی افضل شوبز چھوڑ کر دین کی طرف مائل کیسے ہوئے؟

معروف پاکستانی سٹار علی افضل نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز چھوڑ کر دین کا راستہ اپنانا ان کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اس میں مرحوم نعت خواں جنید جمشید نے انہیں اس راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔علی افضل اعوان نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف سوالوں کے جوابات دیئے ہیں اور بتایا کہ میں نے 20 سے 22 سال تک شوبز انڈسٹری میں خدمات انجام دیں، میری اداکاری کے دوران ہی جنید جمشید بھی اسی شعبے سے منسلک تھے اور ان سے اکثر و بیشتر بیٹھک ہوتی تھی۔پاکستانی سٹار نے کہا کہ میں نے میزبانی کے دوران قرآنی تعلیمات کو سمجھنا شروع کر دیا تھا اور پھر جنید جمشید دعوت تبلیغ کی طرف لے آئے، ’میں نے دعوت تبلیغ والوں کے ساتھ پہلے 3 اور پھر 40 دن لگائے، نماز باقاعدگی سے ادا کرتا تھا، اس کے بعد میں نے سوچا کہ اب 2 ہی راستے ہیں کہ شوبز یا دین، تو میں نے فیصلہ کرتے ہوئے دین کے راستے کی طرف آ گیا۔علی افضل نے مزید کہا کہ کسی بھی اداکار کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ کیریئر چھوڑ دے لیکن میں نے تہیہ کر لیا تھا اور پھر یہ ممکن بھی ہوگیا، میں نے 20 سے 22 سال تک انڈسٹری میں کام کیا، اپنے طویل کیریئر کے دوران میں نے بطور اداکار و میزبان کئی پراجیکٹس کیے، اسی دوران چونکہ معروف نعت خواں جنید جمشید سنگر تھے اور میں ایکٹر تھا ہماری اکثر وبیشتر ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ سابق اداکار کے مطابق میزبانی کے دوران قرآن کو جاننا اور سمجھنا شروع کر دیا تھا لیکن اس کے بعد جب ذاتی اختلافات کی بنا پر میزبانی چھوڑی تو جنید جمشید نے تبلیغ کی طرف مائل کر دیا، اس دوران پہلے تین اور پھر 40 دن کا چلا کاٹا، نماز باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر دی، اس کے بعد میرے پاس دو راستے تھے شوبز سے دوری یا پھر دین سے لگاؤ، میں نے شوبز سے کنارہ کشی کر کے دین کا راستہ منتخب کر لیا، سابق اداکار کے مطابق وہ اداکار جو اپنے کیریئر کی بلندی پر ہو اس کے لیے اپنا کیریئر چھوڑنا آسان نہیں ہوتا لیکن میں نے شوبز چھوڑنے سے 8 سے 9 ماہ پہلے تہیہ کر لیا تھا کہ میں شوبز چھوڑ دوں گا، اس کے بعد میں نے کنٹریکٹس کرنا بند کر دیئے۔

Back to top button