علی ظفر اور میشا شفیع کیس کا فیصلہ محفوظ ہو گیا


لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس میں گلوکار علی ظفر کو جانب سے دائر مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جسے اگلے ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے۔ میشا نے کیس خارج کرنے کی درخواست چند ہفتے قبل دائر کی تھی۔ میشا کے خلاف علی ظفر نے سوشل میڈیا پر خود کو بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس کی سماعتیں لاہور کی ٹرائل کورٹ میں جاری ہیں۔
علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی۔ ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گزشتہ برس دسمبر میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی۔ عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی جس کے بعد کیس لاہور کی ٹرائل کورٹ میں جاری ہے اور اس کی درجنوں سماعت ہو چکی ہیں۔
لہکن اس کیس سے متعلق میشا نے رواں برس اکتوبر میں لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔ میشا کی درخواست پر جسٹس طارق سلیم نے درخواست کی، جس دوران میشا شفیع کے وکلا حنا جیلانی اور ثاقب سلیم اور علی ظفر کے وکلا نے دلائل دیے۔ دوران سماعت میشا شفیع کی وکیل حنا جیلانی نے مقدمے کی قانونی حیثیت پر اعتراض اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اداکار علی ظفر نے اس لیے ایف آئی اے میں مقدمہ درج کروایا تاکہ سیشن کورٹ میں ہتک عزت کے دعوے پر اثر انداز ہوا جا سکے. گلوکارہ کے وکلا عدالت کو آگاہی دی کہ میشا شفیع کا موقف سنے بغیر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
میشا شفیع کے وکلا کے دلائل پر علی ظفر کے وکلا نے عدالت کو آگاہی دی کی مخالف فریق کے وکلا غلط بیانی کر رہے ہیں۔ دوران سماعت دونوں فریقین کے وکلا نے دلائل مکمل کیے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت کو موسم سرما کی تعطیلات تک ملتوی کردیا، خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ جنوری کے وسط تک عدالتی تعطیلات ختم ہونے کے بعد کورٹ فیصلہ سنائے گی۔

Back to top button