عمران اور اسٹیبلشمینٹ میڈیا کے خلاف بدستور اکٹھے ہیں


ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کے پرکشش نعروں کے ساتھ اقتدار میں آنے والی کپتان حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بقول آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیر اعظم عمران خانPrime Minister Imran khan کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میڈیا کرپٹ ہے، یہ حد سے زیادہ تگڑا ہو چکا ہے اور سیاسی حکومتوں نے اسے سرکاری اشتہارات دے کر ضرورت سے زیادہ مضبوط کر دیا ہے لہذا اسے کمزور کرنا اور نکیل ڈالنا ضروری ہو چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان حکومت نے اپنے ہر وعدے اور ہر دعوے پر تو یوٹرن لیا لیکن میڈیا کو نکیل ڈال کر آزادی صحافت کا جنازہ نکالنے کا اپنا عزم پورا کر دکھایا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان دور میں جس طرح آزاد منش صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ سچی صحافت کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، لیکن اپنے اس مشن میں وہ سوشل میڈیا کی وجہ سے کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
سنیئر صحافی عنبرین فاطمہ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ مین سٹریم میڈیا پر اس قدر سخت سنسر شپ کے باوجود آزاد ۔منش صحافی یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر سچ سامنے لا رہے ہیں، لیکن یہ چیز بھی برداشت نہیں کی جا رہی اور اب سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ انکے مطابق معروف صحافی عامر میر کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جن پر حکومت اور ریاست کے اداروں کو داغدار اور بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اسی طرح سے کچھ عرصہ قبل سینئر صحافی رضوان الرحمٰن عرف رضی دادا کو ٹوئٹر پر عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ’ہتک آمیز اور نفرت انگیز‘ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ عمران شفقت کو بھی انہی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور عمران شفقت کو جس انداز سے گرفتار کیا گیا۔
اینٹی اسٹیبلشمنٹ حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ تمام تر آپسی اختلافات کے باوجود آرمی چیف اور وزیراعظم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میڈیا کرپٹ ہے، یہ بہت تگڑا ہو چکا ہے اور سیاسی حکومتوں نے اسے سرکاری اشتہارات دے کر طاقتور بنا دیا ہے لہذا اسے نکیل ڈالی جائے۔ اسی پالیسی کے تحت موجودہ حکومت نے آتے ہی سب سے پہلے اخبارات کے اشتہارات بند کر دیے جس کے نتیجے میں ہزاروں صحافی بے روزگار ہو گے اور انکے گھروں میں فاقے پڑ گے۔
لیکن ان تمام اوچھے حکومتی اور ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود مین سٹریم میڈیا سے فارغ ہو کر سوشل میڈیا پر چلے جانے والے کچھ نڈر صحافی اب بھی مزاحمت دکھا رہے ہیں حالانکہ انہیں اسکی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ عنبرین فاطمہ کے مطابق، بدقسمتی سے 2021 میں جب دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کے لئے باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے، پاکستان میں تحقیقی صحافت کرنے والوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے لئے زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو تین برس میں پاکستان کے نمایاں صحافیوں کو اس حوالے سے مشکل حالات سے گزرنا پڑا ہے لوگ اغوا ہوئے حملے ہوئے زخمی ہوئے، ملازمتیں ختم ہوئیں آف ائر ہوئے تحریر پر پابندی لگی، نقل و حرکت محدود ہوئی لیکن کسی بھی صحافی پر حملہ کرنے والا یا اغوا کرنے والا تشدد کرنے والا آج تک کوئی شخص گرفتار نہیں ہوا۔ نہ ہی کسی کی ملازمت ختم کرنے، تحریر پر پابندی یا آف ائر کیے جانے کے حوالے سے سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ صحافیوں پر یہ مشکل وقت موجودہ حکومت اور اس کی اتحادی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے آیا ہے۔
عنبرین فاطمہ کے مطابق معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کو آف ائر کیا جانا اس کی سب سے بڑی مثال ہے، اسکے علاوہ طلعت حسین آج تک مین سٹریم میڈیا سے غائب ہیں اور وہ بھی سوشل میڈیا کا رخ کر چکے ہیں۔ صحافیوں کو اپنی جان کا خطرہ ہے ان کا معاشی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، خوف کی فضا طاری ہے اور میڈیا پر کریک ڈاؤن نے کئی صحافیوں کو شعبہ صحافت سے مایوس کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بروقت اقدامات نہ کرنے سے گیس بحران پیدا ہوا

جنرل ضیاءالحق اور پرویز مشرف کے دور کی پابندیوں سے واقف نئی نسل کے زیادہ تر صحافیوں نے اپنی نوکریاں بچانے کے لئے سیلف سنسر شپ نافذ کر لی ہے۔ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ اب تو کسی ایڈوائس کی ضرورت ہی نہیں رہی، قیادت اور یونیز سے محروم صحافیوں نے آزادی صحافت کو خود اپنے لئے حرام قرار دے دیا ہے۔
عنبرین فاطمہ کہتی ہیں کہ یوں تو مہذب معاشروں میں آزادی صحافت کو جمہوریت کا بنیادی جزو قرار دیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سیاست کا پہلا اصول یہ ٹھہرا کہ حکومت پر نکتہ چینی ملک سے بغاوت قرار دی جائے گی اور یہی سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مختلف ادوار میں صحافیوں کو مختلف قسم کی مشکلات درپیش رہیں اور ہر حکومت نے اپنے انداز سے صحافت کو پابند سلاسل کیا۔ لیکن موجودہ دور حکومت آزادی صحافت کے حوالے سے بدترین ثابت ہوا ہے ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی صحافی کو دن دیہاڑے اٹھا لیا جاتا ہے تو کسی کو ایف آئی کے ذریعے نوٹس دلوائے جاتے ہیں۔ کسی کو گولی مار دی جاتی ہے تو کسی کے گھر میں گھس کر اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔
Prime Minister Imran khan بقول عنبرین فاطمہ، موجودہ دور حکومت کو اگر آزادی صحافت کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ جنرل مشرف اور ضیاءالحق کی حکومتوں کا تسلسل ہی ہے کیونکہ آج کے حکمران میڈیا کو اسی طرح ہینڈل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ مارشل لائی ادوار میں کیا جاتا تھا۔ لیکن جب تک ملک میں ایک بھی سرپھرا اور آزاد منش صحافی ذندہ ہے، صحافت کی آبرو سلامت رہے گی۔

Back to top button