عمران اپنی مرضی کا ڈی جی ISI لانے پر کیوں تلے بیٹھے ہیں؟


معلوم ہوا ہے کہ 1948 میں آئی ایس آئی کے قیام سے لیکر اب تک کی 7 دہائیوں کے دوران اس اہم ترین خفیہ ایجنسی کے ڈی جی کا تقرر وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان زبانی مشاورت سے ہوتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم ہاؤس نے ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کے لیے جرنیلوں کے نام شارٹ لسٹ کرنے اور پھر امیدواروں کے انٹرویوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم آفس، داخلہ ڈویژن یا پھر وزارت دفاع میں شاید ہی کوئی ایسا ریکارڈ موجود ہوگا جس میں باضابطہ طور پر وزیراعظم کیلئے ناموں کی کوئی سمری ارسال کی گئی ہو جس میں آئی ایس آئی کے چیف کے عہدے کیلئے شارٹ لسٹ کیے گئے افسران کا پینل پیش کیا گیا ہو۔
انصار عباسی کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر ہونے والے حالیہ تنازع کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر بحث ہی نہیں کی گئی اور اس پہلو سے وزیر اعظم آفس کی بیوروکریسی کی نا اہلی بے نقاب ہوتی ہے۔ ذرائع کا اصرار ہے کہ جن لوگوں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ وہ شارٹ لسٹ کیے گئے افسران کا پینل اور فوج سے سمری طلب کریں، انہیں اصل میں طے شدہ روایت کا علم ہی نہیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو کیسے تعینات کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی طرح کی گڑ بڑ تب بھی ہوئی تھی جب آرمی چیف جنرل باجوہ کو عہدے میں توسیع دی گئی تھی اور اس معاملے میں بھی یہ بیوروکریسی ہی ہوتی ہے جو سیاسی آقائوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ اصل ضابطہ اور طریقہ کار کیا ہے، لیکن تب بھی یہی بیوروکریسی تھی جو ایک معمولی نوٹیفکیشن کا مسودہ لکھنے میں ناکام رہی جس سے عمران خان کی حکومت کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی۔ ذرائع کا کہنا ہے ماضی میں یہی کام کامیابی سے ہوتا رہا ہے اور اس میں کبھی کوئی تنازع بھی پیدا نہیں ہوا لیکن جو کچھ اب ملک میں ہو رہا ہے اس کی وجہ ماضی میں کی گئی تقرریوں کے طریقہ کار اور ضابطوں سے لاعلمی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عمومی طور پر طریقہ کار یہ ہے کہ آرمی چیف ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے حوالے سے زبانی وزیراعظم سے بات کرتے ہیں جس کے بعد وزیراعظم اثبات میں اپنی منظوری دیتے ہیں جس کے بعد آرمی چیف آفس ایک نوٹ جاری کرتی ہے جو وزیراعظم کو بھیجا جاتا ہے جو اس پر دستخط کر دیتے ہیں یا پھر ڈی جی آئی ایس آئی کےعہدے پر تقرر کیلئے افسر کے نام کے آگے نشان لگا دیتے ہیں۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی زبانی بات چیت کے بعد عموماً ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کا اعلان آئی ایس پی آر ہی کرتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ ایک فوجی افسر کی تقرری سے متعلق ہوتا ہے۔ اس معاملے میں وزارت دفاع یا داخلہ یا کسی اور وزارت کی جانب سے کوئی سمری ارسال نہیں کی جاتی اور اس میں کوئی وزارت شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم آفس نے ملٹری کی تقرریوں کے حوالے سے پی ایم آفس میں ماضی میں پیش کردہ سمریاں تلاش کیں لیکن انہیں کچھ نہیں ملا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تقرر کیلئے کوئی سرکاری مشاورت نہیں کی جاتی مثلاً سیکریٹریوں یا وزارتوں کو شامل کرنا وغیرہ۔ ایسی بھی کوئی مثال نہیں کہ ڈی جی کے عہدے پر تقرر کیلئے افسران کے پینل کو شارٹ لسٹ کیا جائے اور اُن میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جائے۔
یاد رہے کہ آزادی کے ایک برس بعد 1948 میں آئی ایس آئی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایک گورے جرنیل نے قائم کی تھی۔ اس ادارے کے حوالے سے کبھی کوئی قانون سازی کی گئی اور نہ ہی اس کے کردار کے حوالے سے کچھ تحریری طور پر طے کیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس ادارے کا اصل مینڈیٹ غیر ملکی دشمن ایجنسیوں کی پاکستان مخالف سازشوں کا پتہ لگانا اور ان کو ناکام بنانا تھا لیکن افسوس کہ جنرل فیض حمید کے دور میں یہ ایجنسی عمران خان کی مخالف اپوزیشن جماعتوں اور ان کے قائدین کو کاونٹر کرنے میں مصروف رہی۔
افغان جنگ کے تناظر میں آئی ایس آئی کے کردار اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوا خصوصاً جب اس نے امریکی سی آئی اے کی زیر نگرانی روسی افواج کو افغانستان سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ یہ اور بات کہ بھارت کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں آئی ایس آئی کا کردار مایوس کن رہا۔ بدقسمتی سے، جب ملک میں باوردی حکمرانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو آئی ایس آئی کا کردار سیاسی ہو گیا۔ اب اس ایجنسی کو سیاسی جوڑ توڑ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور شاید اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان اپنی مرضی کا ڈائریکٹر جنرل لانے کے لیے آخری حد تک جا رہے ہیں تاکہ وہ جنرل فیض حمید کی طرح ان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا سکے۔
دوسری جانب نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر جاری دیڈ لاک بارے تبصرہ کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق وزیراعظم سیاسی طور پر سوچ رہے تھے، جبکہ فوج کا اپنا طریقہ کارہے۔ انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا ہے کہ سب چیزیں باہمی طور پر طے ہوں گی۔ تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ باہمی رضامندی کا یہ سلسلہ طویل تر ہوتا جا رہا ہے۔

Back to top button