عمران بینظیر پروگرام کا نام بدلنے پر زیر تنقید

وزیراعظم عمران خان سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنقید کی زد میں ہیں جس میں انکی محترمہ بے نظیر بھٹو سے پرخاش کا اظہار ہوتا ہے۔ اس ویڈیو میں وزیراعظم ایک غریب عورت کو بتا رہے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں نے ختم کردیا ہے اور اب اسکا نام احساس پروگرام ہے۔
سینئرصحافی اور اینکر حامد میر نے اٹھارہ سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم کی معاون برائے سماجی بہبود ثانیہ نشر کچھ لوگوں کے درمیان موجود ہیں، ایک خاتون وزیراعظم کو کہتی ہیں کہ پیسے نہیں مل رہے بے نظیر انکم سپورٹ کے، جس کے جواب میں وزیراعظم اور ثانیہ نشتر کچھ وضاحتیں کرتے ہیں جن کو انہوں نے ویڈیو کا کیپشن بنایا ہے۔ حامد میر نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ ’بیچاری غریب عورت کو تو بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کا نام ہی یاد تھا اُس نے وزیراعظم کے سامنے بھی بے نظیر کا نام لیا تو خان صاحب نے بتایا کہ یہ وہ والا پروگرام نہیں ہے، یہ احساس پروگرام ہے، یہ میرا ہے اور ثانیہ نشتر صاحبہ نے بتایا کہ آپکا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال کر نئے پروگرام میں ڈال دیا ہے۔‘اس وقت یہ ویڈیو ٹوئٹر پر دھڑا دھڑ شیئر ہو رہی ہے اور صارفین اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اقتدار میں آنے کے کچھ عرصہ بعد چھوٹے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے شہید بی بی کے سے منسوب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یعنی بی آئی ایس پی کا نام تبدیل کر کے احساس پروگرام رکھ دیا تھا۔ یعنی انہوں نے کوئی نیا پروگرام شروع کرنے کی بجائے بی بی کے نام پر چلنے والے غریب عورتوں کے فلاحی پروگرام کا نام بدل دیا جس پر انہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کہ پہلی خاتون وزیراعظم کا نام پروگرام سے ہٹانا ایک پاگل پن ہے اور یہ گری ہوئی حرکت کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بی آئی ایس پی ایک ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے وجود میں آیا تھا، تاہم نئے پاکستان میں سیاسی انتقام کی بدترین مثالیں قائم کرتے ہوئے نام بدل دیا گیا۔ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ‘کم ظرف دشمنوں کو بھٹو خاندان کے کارنامے ہضم نہیں ہوتے، بننظیر انکم سپورٹ پروگرام بی بی شہید کی قومی خدمات کا اعتراف ہے جنہوں نے اس ملک کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا، بلاول کے مطابق یہ چھوٹے لوگ کارڈ سے بینظیر شہید کا نام تو مٹا سکتے ہیں لیکن عوام کے دلوں اور ذہنوں سے یہ نام کیسے مٹاپائیں گے؟
ید رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے شروع کیا تھا جس کا مقصد ملک سے غربت کا خاتمہ اور بالخصوص خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنا تھا۔ پروگرام کے تحت ملک بھر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تقریبا 52 لاکھ افراد کو سہ ماہی بنیادوں پر مالی امداد کی جاتی ہے۔ حال ہی میں اس امداد کو کابینہ نے افرط زر سے منسلک کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک میں مہنگائی بڑھنے پر امداد میں 500 روپے اضافہ کیا جائے گا۔
اس پروگرام کے تحت خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والی خواتین کی پانچ ہزار روپے کیش امداد کے علاوہ بعض مستحق افراد کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے پر 750 روپے کیش معاوضہ بھی فراہم کیا جاتا تھا۔ ایسے بچوں کی تعداد 23 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک بھر کی قومی و سماجی معاشی رجسٹری بھی تیار کی گئی تھی۔ دستاویزات کے مطابق، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا 2018-19 کے لئے سالانہ بجٹ 124 ارب روپے سے زائد رکھا گیا تھا۔ تاہم عمران خان حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام بدل کر احساس پروگرام رکھ دیا تھا۔
اس حوالے سے عمران خان اپنی تازہ ویڈیو کلپ کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی اس حوالے سے گفتگو قابل مذمت ہے اور انکے بی بی شہید کے بارے میں بغض اور ذاتی پرخاش کی غماز ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد لاکھوں غریب خواتین کے نام بے نظیر انکم پروگرام سے نکال دیے اور اپنوں کو نوازنے کے لیے اس کی جگہ نئے نام ڈال دیے۔ کیوں دوسری جانب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ سے زائد لوگوں کے نام خارج کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ یہ افراد پروگرام کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ تاہم اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے، پیپلز پارٹی نے اسے وفاق میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی مبینہ ’’عوام دشمن پالیسی‘‘ قرار دیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے کپتان حکومت اب تک مجموعی طور پر 8 لاکھ 65 ہزار لوگوں کے نام خارج کر چکی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ پروگرام معاشرے کے غریب ترین خاندانوں، بالخصوص خواتین کی معاشی کفالت کے لئے ہے، جس پر نکالے گئے افراد اس پروگرام کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ حکام کا۔کہنا ہے کہ اسکروٹنی سے پتا چلا ہے کہ پروگرام سے خارج کئے گئے افراد میں سے 1 لاکھ 53 ہزار افراد وہ ہیں جو کسی بھی مقصد کےلئے ملک سے باہر سفر کر چکے تھے۔ 1 لاکھ 95 ہزار سے زائد ایسے افراد پائے گئے جن کے شریک حیات نے بیرون ملک سفر کیا تھا۔ اور دس ہزار سے زائد لوگ ایسے بھی پائے گئے جنہوں نے ایک سے زائد بار ملک سے باہر سفر کیا۔ لیکن، وہ اس کے باوجود بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وظیفہ حاصل کر رہے تھے۔ اسی طرح، بعض افراد چھ ماہ تک 1 ہزار روپے سے زائد ٹیلی فون یا موبائل کے بل بھی ادا کرتے رہے، جبکہ اس پروگروام سے مستفید ہونے والے 692 افراد کے نام گاڑیاں بھی رجسٹرڈ پائی گئیں۔ اسی طرح اس ان افراد کو بھی خارج کیا گیا ہے جنہوں نے قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنانے کے لئے ایگزیکٹو سینٹرز کی خدمات حاصل کی ہوں۔
وزیر اعظم کی خصوصی مشیر برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق، اس پروگرام میں 1 لاکھ 42 ہزار سے زائد ایسے سرکاری ملازمین کی بھی نشاندہی ہوئی جو خود یا ان کے شریک حیات وظائف لیتے رہے۔ ان میں حکومت کے مختلف محکموں کے علاوہ بڑی تعداد ریلوے اور پوسٹ آفس کے ساتھ انکم سپورٹ پروگرام میں ملازمت پیشہ ملازمین بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق، ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے جنہوں نے سسٹم کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پروگرام سے جن لوگوں کو نکالاگیا ہے حکومت ان افراد کی جگہ اصل مستحق لوگوں کو اس کا حصہ بنا رہی ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام غربت کی شکار خواتین پر حملے کے مترادف ہے۔ حکومتی پالسیوں کا فائدہ صرف امرا کو پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق، یہ پروگرام کئی خواتین کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے۔
پیپلز پارٹی کے رہنماوں کے مطابق، حکومتی وزرا اور رہنماؤں نے اس سے قبل بھی کئی بار دعوے کئے جو بعد میں جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیاب پروگرام پر دنیا بھر میں پاکستان کی غربت کے خلاف کاوشوں کو سراہا جا رہا تھا اور عالمی مالیاتی ادارے بھی کھل کر اس پروگرام کی حمایت کرتے رہے، حکومت کو اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت تھی۔ لیکن، اسے سمیٹا جا رہا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان افراد کے نام کے اخراج میں سیاسی پسند ناپسند کا عمل دخل بالکل نہیں بلکہ خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے افراد کے اخراج سے حکومت کو 16 ارب روپے سالانہ کی بچت ہوگی، جبکہ پروگرام کو مزید شفاف بنانے اور اس پروگرام کے تحت وظائف حاصل کرنے والوں کی اسکروٹنی مزید سخت کرنے کے لئے پروگرام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد، بقول حکام، بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ہی مستحقین کو وظائف دئیے جا سکیں گے۔
