ڈاکو سندھ پولیس سے زیادہ تگڑے کیوں ہیں؟


سندھ کے علاقے شکار پور سے متصل کچے کے علاقے میں اغوا شدہ افراد کی بازیابی کے لیے پولیس آپریشن کے دوران ڈاکووں کے ہاتھوں بم پروف بکتر بند گاڑی یعنی آرمرڈ پرسونل کیرئیر کے اندر تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سندھ حکومت نے فوج اور رینجرز کی مدد سے کچے کے علاقے میں آپریشن کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کچے کے اس علاقے میں ہمیشہ ڈاکو پولیس والوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ شکار پور پولیس مقابلے کے دوران بکتر بند میں پناہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی ایک آخری ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ ایس پی سے فوری نفری بھجوانے کی اپیل کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ وہ شدید حملے کی زد میں ہیں اور انکے کچھ ساتھی پہلے ہی مارے جا چکے ہیں۔ تاہم یہ ویڈیو تو وائرل ہو گئی لیکن نفری بروقت نہ پہنچ پائی اور بکتر بند میں موجود پولیس اہلکار ایک راکٹ حملے کے بعد ہلاک ہو گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ آخر پولیس کے زیر استعمال بکتر بند گاڑیوں کا معیار اتنا گھٹیا کیوں ہے کہ ڈاکو ان کے اندر موجود پولیس والوں کو بھی مارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اتوار کو پولیس کی جانب سے شکار پور کے علاقے گڑھی تیغو میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پولیس کی بکتر بند پر ڈاکوؤں نے راکٹ حملہ کیا جس سے اندر موجود دو پوليس اہلکار اور ایک فوٹو گرافر سميت تین افراد ہلاک ہو گٸے تھے۔ ڈی آٸی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے بتایا کہ 12 افراد کو اغوا کیا گیا تھا جن کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا جا رہا تھا۔ ’اب تک چھ مغوی بازیاب کرا لیے گئے ہیں، جب کہ تین اغوا کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک علاقے کو مکمل طور پر کلیئر نہیں کروا لیا جاتا تب تک آپریشن جاری رہے گا۔
لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ شکار پور میں دریائے سندھ سے متصل کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں پولیس کا جانی نقصان ہوا ہو۔ گزشتہ برس اسی علاقے میں آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے تسلیم کیا کہ پولیس کے پاس ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے معیاری ہتھیار اور بکتر بند گاڑی نہیں، اس حوالے سے حکومت کو متعدد بار آگاہ بھی کیا جا چکا ہے تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ مقامی صحافی شہزاد خان نے بتایا کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنز موجود ہیں، اور پولیس کا اشارہ اس طرف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بکتر بند کو نشانہ بنانے کے لیے یہی اینٹی ایئر کرافٹ گنز استعمال کی جاتی ہیں جو کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف ضلع شکار پور میں ڈاکوؤں کے پاس نو ایسی گنز موجود ہیں۔ ان کے جواب میں پولیس کے پاس اس معیار کا اسلحہ موجود نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکوؤں نے اس پولیس مقابلے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس ایس ایم جی کے ساتھ ساتھ جی تھری بندوق بھی موجود ہے جو لانگ رینج فائر کرسکتی ہے۔ کچے کے علاقوں میں برسر پیکار یہ ڈاکو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، اور بسا اوقات آپس کے اختلافات میں مخالف قبیلے کے افراد کو اغوا اور قتل کر کے کچے میں پناہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان ان کا پیشہ بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق موجودہ اغوا اور اس کے بعد کی کارروائی ایک ایسے جھگڑے کا شاخسانہ ہے جو 2017 میں تیغانی اور اوگاہی قبائل کے مابین چار بھینسوں کو مارنے سے شروع ہوا جس کے بعد 60 افراد قتل ہو چکے ہیں۔ تیغانی قبیلے کے سربراہ تیغو خان اور اوگاہی قبیلے کے مولوی میر محمد کے درمیان اس معاملے کو سلجھانے کے لیے جرگہ بھی منعقد ہو چکا ہے لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تیغانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں نے ہی مخالف قبیلے کے افراد اور دیگر کو اغوا کر کے یرغمال بنایا ہوا ہے جن کی بازیابی کے لیے پولیس نے آپریشن کیا تھا جس میں اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی۔
اس تازہ واقعے کے بعد شکار پور پولیس نے تیغو خان تیغانی کے خلاف ڈاکوؤں کی سرپرستی کے الزام میں مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ شکار پور پولیس نے سردار تیغو خان تیغانی کو دو بیٹوں اور بھتیجے سمیت گرفتار کیا ہے۔ شکارپور مقابلے میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا مقدمہ مقامی سردار تيغو خان تیغانی سمیت 56 افراد کے خلاف تھانہ ناپر کوٹ میں درج کیا گیا۔ ایف آٸی آر میں 36 ملزمان نامزد اور 20 نامعلوم ملزمان شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سردار تیغو خان تیغانی لوگوں کو اغوا کروانے میں ملوث ہیں۔ پولیس مقابلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر پٹھان نے بتایا کہ ’ہمارا ٹارگٹ وہی ایریا تھا جہاں سے لوگوں کو اغواء کیا جاتا ہے۔ انتہائی سخت صورتحال میں ہمارے جوانوں نے مقابلہ کیا اور ہمارا آپریشن کامیاب رہا۔ اے پی سی کی چین ٹوٹ گئی جس پر راکٹ فائر کیا گیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’پولیس آپریشن میں آٹھ ڈاکو مار دیے گئے ہیں اور 12 شدید زخمی ہوئے ہیں۔‘ ڈاکٶوں کے فاٸرنگ سے چھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جو شکار پور ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
مقابلے کے دوران ڈاکٶوں کی جانب سے پولیس کی بکتر بند گاڑی بھی اپنے قبضے میں لے لی گئی تھی اور اس پر چڑھ کر وڈیوز بنائیں جس میں پولیس کو للکارا گیا۔ اس واقعے کے تناظر میں سندھ حکومت نے ڈاکوؤں کے خلاف سکھر، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد اور نوشہروفیروز سے متصل کچے کے علاقے میں گرینڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گرینڈ آپریشن کی منظوری دے دی۔ یہ آپریشن پولیس، رینجرز، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے کیا جائے گا جس کی نگرانی آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سکھر کریں گے۔ پولیس ترجمان کے مطابق گرینڈ آپریشن کے لیے ایڈیشنل آئی جی سکھر سے پلان طلب کرلیا گیا ہے جبکہ ایڈیشنل آئی جی سکھر کو شکارپور میں کیمپ قائم کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے۔

Back to top button