عمران خان اور ان کی بونگیاں،پاکستان کیلئے وجہ شرمندگی

وزیراعظم عمران خان کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ بن چکا ہے کہ وہ جب بھی کسی غیر ملکی ٹی وی چینل یا اخبار کو انٹرویو دیتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسی بڑی بونگی ضرور مارتے ہیں جو دنیا بھر کے میڈیا میں ہیڈ لائنز بنوا دیتی ہے اور ان کے انٹرویو کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی بونگی خان صاحب نے سی این این کے ساتھ اپنے حالیہ انٹرویو میں ماری جب انہوں نے امریکہ پر لاعلم ہونے کا الزام لگاتے ہوئے خود حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کا ایک پشتون قبیلہ قرار دے دیا۔ کپتان کے اس مضحکہ خیز دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے اور موصوف کی درگت بن رہی ہے۔
یاد رہے کہ 15 ستمبر کو سی این این کی بیکی اینڈرسن نے اپنے انٹرویو میں عمران خان سےسوال کیا کہ امریکی وزیرِخارجہ کا پاکستان پر الزام ہے کہ وہ طالبان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں ملوث رہا ہے حالانکہ یہ نیٹ ورک پچھلے 20 برس میں افغانستان میں سب سے ہلاکت خیز حملوں میں ملوث رہا ہے۔ اس نے مذید کہا کہ جنرل مائیک ملن کے بقول حقانی نیٹ ورک پاکستانی انٹیلیجنس کا ایک اہم بازو ہے اور اب اس گروپ کے چار افراد افغانستان کی کابینہ میں شامل ہیں۔ بیکی نے کہا کہ جب یہ سب ہو گا تو کیا کیا پاکستان اور مغرب کے درمیان اعتماد میں کمی نہیں آئے گی؟ اس سوال کے جواب میں عمران نے اپنا علم جھاڑتے ہوئے کہا کہ دراصل امریکیوں کو نہیں پتا کہ حقانی نیٹ ورک کیا ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ حقانی ہوں ہیں۔ اسکے بعد خان صاحب نے ہمیشہ کی طرح ایک اور تاریخی بونگی مارتے ہوئے بڑے اعتماد سے بتایا کہ دراصل حقانی ایک پشتون قبیلہ ہے جو افغانستان میں رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چالیس سال قبل جب افغان جہاد ہو رہا تھا تو ہمارے پاس 50 لاکھ پناہ گزین تھے جس میں کچھ حقانی بھی تھے۔ اور حقانی وہ مجاہدین تھے جو سوویت یونین سے لڑ رہے تھے، وہ پاکستان میں پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہوئے تھے۔ امریکی ہم سے کہہ رہے تھے کہ پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے 30 لاکھ افراد میں چیک کریں کہ کون سے طالبان ہیں اور کون نہیں۔‘
بہرحال حسب توقع خان صاحب کی اس تاریخ ساز بونگی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ کیا حقانی نیٹ ورک کا نام کسی قبیلے کی مناسبت سے ہے؟ اس حوالے سے تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا نام اس کے سربراہ جلال الدین حقانی کی مناسبت سے رخھا گیا جو کہ خیبر پختونخواہ میں قائم مدرسے دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ حقانی لگاتے تھے۔ اصل میں اُن کا تعلق افغانستان کے صوبے پکتیا سے تھا اور پچھلے برس ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ جلال الدین حقانی ی دراصل حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے والد تھے۔
واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق مرحوم کا دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک افغان طالبان سے روابط کے باعث معروف ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا اپنے نام کے آخر میں حقانی لگاتے ہیں۔
معروف محقق عبدالسید کے مطابق جب مولوی عبدالحق نے، جو کہ مولانا سمیع الحق کے والد تھے انڈیا کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے آ کر نوشہرہ کے قریب اپنے گاؤں اکوڑہ خٹک میں جامعہ حقانیہ نامی مدرسہ کے بنیاد رکھی، تو روایات کے مطابق یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا حقانی کہلانے لگے۔انھوں نے بتایا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ دیوبندی مکتبِ فکر کا ایک دوسرا بڑا مدرسہ پاکستان میں جامعہ بنوریہ ہے، جس سے نکلنے والے شاگرد اہنے نام کے ساتھ بنوری لگاتے ہیں۔چنانچہ جلال الدین حقانی کا تعلق بذاتِ خود حقانی نام کے کسی قبیلے سے نہیں تھا بلکہ یہ اُن کی مادرِ علمی کا عکاس ہے۔ مگر جہاں کسی کے نام کے ساتھ حقانی ہونا اُن کے قبیلے کے نام کا عکاس نہیں ہے وہیں حقانی کا لاحقہ ہونے کا مطلب لازماً یہ بھی نہیں کہ وہ دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہی ہوں، بلکہ حقانی نیٹ ورک میں شامل افراد لوگ جلال الدین حقانی کی مناسبت سے بھی یہ نام استعمال کرتے ہیں۔ دراصل حقانی نیٹ ورک طالبان کا ایک ذیلی گروہ ہے جسے نیم خود مختار حیثیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ اپنی عسکریت پسندی کی وجہ سے یہ افغان طالبان کے دوسرے دھڑوں سے زیادہ جنگجو سمجھا جاتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں ہے۔ تاہم یہ افغانستان کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہے۔
اکتوبر 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد طالبان کی حکومت کے خاتمے سے قبل حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی اسلام آباد کے سرکاری دورے پر آنے والے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ اس کے بعد جلال حقانی روپوش ہو گئے اور کئی مہینوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں سامنے آئے جہاں انہوں نے مغربی طاقتوں کے خلاف شدت پسندوں پر مشتمل ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا۔
امریکی فوجی عہدیداران اکثر و بیشتر کہتے رہے ہیں کہ اس گروپ نے جتنا نقصان مغربی افواج کو پہنچایا کسی اور گروپ نے نہیں پہنچایا۔ پاکستان پر بھی اس گروپ کی امداد کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے تاہم اسلا۔ آباد نے اس کی تردید کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے نامہ نگار برائے قومی سلامتی جوناتھن لینڈے کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکہ پر افغانستان کے معاملے میں ‘لاعلمی’ کا الزام لگایا مگر پھر حقانی نیٹ ورک کو ‘پشتون قبیلہ’ قرار دے دیا۔ صحافی حامد میر نے بھی اس حوالے سے رائے دیتے ہوئے لکھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طلبہ حقانی کہلواتے ہیں جن میں خود جلال الدین حقانی بھی شامل ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ خود سی این این کی اینکر کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ حقانی کوئی قبیلہ نہیں ورنہ بات مذید بڑھ سکتی تھی۔ ایک صارف نے عمران خان کے سابقہ بیانات کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے لکھا: ‘میں حقانی قبیلے کو حقانیوں سے زیادہ جانتا ہوں۔’
