پی ٹی آئی واضح کرے وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ ؟ وفاقی وزرا

 

 

 

 

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگاکہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ رہنا ہے۔

 

اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت خراب ہے اور وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ صوبے میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔

عطا تارڑ نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دےچکی ہے،صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے،ایسا کیوں ہے؟ انہوں نےالزام عائد کیاکہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں، حتیٰ کہ موٹر سائیکلوں پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں،پی ٹی آئی صوبے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لارہی اور یہی گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں،گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبے میں اربوں روپے جمع ہوسکتے تھے،لیکن رجسٹریشن نہیں کی گئی تاکہ دہشت گردوں کا سراغ نہ مل سکے۔

انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی بھی قائم نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے بنانے کی خواہش نظر آتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہاکہ ڈی آئی خان میں شہید ہونےوالے بچوں کا خون کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ہاتھوں پر تلاش کیاجائے؟ انہوں نےکہا کہ سیاست اپنی جگہ،لیکن دہشت گردی کے معاملے پر واضح فیصلہ کرناہوگا کہ افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔؟

عطا تارڑ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے تک حکومت کی ہے، لیکن صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت بتائے کہ صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا پولیس کےلیے جدید گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی لیکن صوبائی حکومت نے یہ گاڑیاں لینے سے انکار کردیا، پی ٹی آئی قیادت نے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کا پختہ عزم ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے گا اور اس مقصد کےلیے سکیورٹی اداروں کو ہرممکن تعاون فراہم کیاجائے گا۔

نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کی افواہیں کیوں اڑنے لگیں؟

 

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردی کے واقعہ میں خواتین اور بچوں سمیت شہری شہید ہوئے،جب کہ دہشت گردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ دہشت گرد کارروائیوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر اور فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں، ڈی آئی خان حملے میں ایک دہشت گرد کی تصویر فوری طور پر سسٹم میں ڈال کر نادرا اور دیگر ریکارڈ سے چیک کی گئی تاہم اس کی کوئی شناخت نہیں ملی،اوپن سورس معلومات سے معلوم ہواکہ وہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔

طلال چوہدری نے کہاکہ افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلیں آتی ہیں اور ان میں سے تقریباً 70 فیصد دہشت گرد افغانستان کے رہائشی ہوتےہیں،ہم نے ڈوزیئرز،مذاکرات اور دیگر ذرائع سمیت ہر طرح سے افغان حکام سے رابطے کرکے دیکھ لیا،لیکن ہمارا ہمسایہ اپنا وطیرہ بدلنےکو تیار نہیں۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہاکہ دہشت گرد ڈالرز کے عوض کارروائیاں کرتے ہیں، دہشت گردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہےاور افغانستان اس معاملے میں ایک ’سپر پراکسی‘ کا کردار ادا کررہا ہے،افغانستان اور دہشت گردوں کا کھل کر نام کیوں نہیں لیاجاتا؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آخرکار ڈی آئی خان گئے اور پریس کانفرنس بھی کی،لیکن افغانستان کا نام کیوں نہیں لیاگیا۔

سینیٹر طلال چوہدری نے کہاکہ وفاقی وزرا اور دیگر حکومتی نمائندے دہشت گردی کے شکار افراد کےگھروں میں گئے،جب کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بھی واقعہ کےبعد ڈی آئی خان پہنچے،واقعہ پر سب لوگ آئے لیکن احتجاج کرنےوالے وہاں نہیں آئے۔

وزیر مملکت داخلہ نےکہا کہ خیبرپختونخوا کی سیاسی قیادت گزشتہ 14 برس کے دوران سکیورٹی فورسز کے پیچھے کھڑی نہیں ہوئی،صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے،آج تک پورے خیبرپختونخوا میں فورسز کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو دہشت گردی کےخلاف جنگ کےلیے درکار ہیں۔

طلال چوہدری نے کہاکہ سکیورٹی فورسز کو نہ قیادت دی گئی اور نہ وسائل فراہم کیےگئے،سی ٹی ڈی،بلٹ پروف گاڑیوں اور ہتھیاروں کےبغیر دہشت گردی کےخلاف جنگ نہیں لڑی جاسکتی۔سکیورٹی فورسز کو فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کےلیے واپس کردی گئیں،جب کہ پولیس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے پولیس کے اختیارات واپس لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہاکہ سکیورٹی کے معاملات پر ہونےوالے اجلاسوں میں صوبائی حکومت کےنمائندے شریک نہیں ہوتے،تاہم این ایف سی کے پیسے لینے کےلیے آجاتے ہیں،نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر اتفاق رائےتھا اور دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ان پر عملدرآمد ضروری ہے۔

طلال چوہدری نے کہاکہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے 800 ارب روپے کا حساب مانگا ہے،خیبرپختونخوا کی قیادت کی نااہلی کے باعث صوبہ بدامنی کا شکار ہےاور اگر پاکستان میں بدامنی ہےتو اس میں صوبائی حکومت کی ناکامی بھی شامل ہے۔

Back to top button