نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کی افواہیں کیوں اڑنے لگیں؟

وفاقی دارالحکومت میں اب یہ افواہ چل رہی ہے کہ اگر تحریک انصاف نے اپنی روش نہ بدلی اور احتجاج کی سیاست جاری رکھتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پیدا کی تو ایک مخصوص عرصے کے لیے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ یا گھیراؤ کی کوشش، وفاق اور صوبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات ایسے عوامل ہیں جنہیں حکومت قومی ہنگامی حالت کے لیے بنیاد بنا سکتی ہے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ ایک صوبے کی حکومت یا وہاں کی حکمران جماعت کا وفاقی دارالحکومت کا گھیراؤ موجودہ حالات میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اسلام آباد آنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی اس معاملے کو معمول کی سیاسی سرگرمی کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد مارچ کی تاریخ آگے بڑھا کر 4 اکتوبر کرنے کے بعد صورت حال کو سنبھالنے کے لیے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی راستے کی تلاش کا سوال مزید اہم ہوگیا ہے لیکن اب حکومت مذاکرات کے موڈ میں نظر نہیں آتی اور یہ ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے کہ عمران خان کی جماعت ایک مرتبہ پھر ناکامی کا شکار ہو گئی ہے۔
اس دوران اسلام آباد میں یہ افواہ بھی گرم ہے کہ اگر تحریک انصاف نے چار اکتوبر کو دوبارہ احتجاج کی کوشش کی تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس معاملے پر وفاقی حکومت اور بعض دیگر حکام کے بیانات میں فرق نمایاں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 23 ستمبر کو واضح کیا تھا کہ وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے 25 ستمبر کو کہا کہ گورنر راج کے امکان پر مشاورت ہوئی ہے اور آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر گورنر راج کو وفاقی حکومت کا حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
آئینی ماہرین کے مطابق نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے آئین کا آرٹیکل 232 بنیادی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ آئین کے مطابق اگر صدر اس بات سے مطمئن ہوں کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی وجہ سے سنگین ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ آئینی متن کے مطابق اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ہنگامی حالت کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے، جبکہ اگر صدر اپنی طرف سے اعلان کریں تو اسے دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔
ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں وفاق کے اختیارات بھی معمول کے مقابلے میں وسیع ہوجاتے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت پارلیمان کو بعض حالات میں صوبے کے ایسے معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے جو عام حالات میں صوبائی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی طرح وفاقی انتظامیہ صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتی ہے اور مخصوص آئینی شرائط کے تحت وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے بعض اختیارات یا فرائض اپنے پاس لے سکتی ہے یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتی ہے۔
تاہم ہنگامی حالت اور گورنر راج ایک ہی آئینی اقدام نہیں ہیں۔ گورنر راج آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اس صورتحال سے متعلق ہے جب کسی صوبے میں آئینی مشینری اس انداز میں ناکام ہوجائے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چل سکتی، جبکہ آرٹیکل 232 جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی سنگین اندرونی بدامنی کی ہنگامی صورتحال سے متعلق ہے جس پر صوبائی حکومت قابو پانے سے قاصر ہو۔ اس لیے سیاسی گفتگو میں دونوں اقدامات کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا آئینی اعتبار سے درست نہیں ہوگا۔
موجودہ بحران کی اہمیت اس سوال میں ہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف کس حد تک بڑھتا ہے اور تحریک انصاف 4 اکتوبر کے اعلان کردہ مارچ کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ اس سے قبل 27 ستمبر کے مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی بھی 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک کی گئی تھی، جس سے وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان کے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا اندازہ ہوتا ہے۔
اگر سیاسی مذاکرات کا راستہ کھلتا ہے تو وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان کشیدگی کو سیاسی سطح پر محدود رکھنے کی کوشش ہوسکتی ہے، لیکن اگر اسلام آباد میں تصادم، سرکاری املاک کو نقصان یا بڑے پیمانے پر امن و امان کی خرابی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو وفاق کے پاس موجود آئینی اور قانونی اختیارات پر بحث دوبارہ شدت اختیار کرسکتی ہے۔ تاہم کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کے لیے محض سیاسی کشیدگی کافی نہیں بلکہ متعلقہ آئینی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی افواہوں میں تیزی کیوں ؟
تحریک انصاف کی جانب سے مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کیے جانے کے بعد آنے والے دن اس معاملے میں اہم ہوں گے۔ اگر فریقین کے درمیان بات چیت یا سیاسی رابطے کا کوئی قابل عمل راستہ نکلتا ہے تو صورتحال کو مزید کشیدگی سے بچانے کی کوشش ہوسکتی ہے، جبکہ احتجاج دوبارہ شدت اختیار کرنے کی صورت میں وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی اور انتظامی اختلافات مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ اس لیے فی الحال قومی ہنگامی حالت کو حکومت کا طے شدہ فیصلہ قرار دینے کے بجائے ایک زیر بحث آئینی و سیاسی امکان سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
