پی ٹی آئی کا بھرم ٹوٹ گیا، عمران کی رہائی کی امید ختم

 

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لانگ مارچ موخر کرنے کے اعلان نے نہ صرف ان کا سیاسی مستقبل دھندلا دیا ہے بلکہ تحریک انصاف کا رہا سہا سیاسی بھرم توڑتے ہوئے عمران خان کی رہائی کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ ادھر وفاقی حکومت کے ترجمان عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا کہ عمران خان کی جماعت کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور اب وہ حکومت کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔

 

اب صورتحال یہ ہے کہ سہیل آفریدی اپنی پسپائی کی تاویلیں دیتے نظر آتے ہیں اور پارٹی کی مرکزی قیادت منہ چھپا رہی ہے۔ چند روز پہلے تک جس احتجاج کو پارٹی کی سیاسی قوت، عمران خان کی رہائی اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کی بڑی مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، وہ اچانک ایک ہفتے کے لیے مؤخر ہوگیا اور اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید اب لانگ مارچ مکمل طور پر ہی منسوخ کر دیا جائے۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سیاسی کمیٹی کی آڑ میں چھپتے ہوئے یہ تاویل پیش کی ہے کہ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر کیا ہے اور اب یہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع ہوگا۔

تاہم پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے بغیر ہوم ورک کے لانگ مارچ شروع کرنے کا جذباتی اعلان کیا تھا جو ان کے گلے پڑ گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ احتجاج کی ناکامی نوشتہ دیوار بن چکی تھی۔ ایسے میں ان کے پاس پسپائی اختیار کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا تھا۔

 

پارٹی ذرائع نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی وجوہات گنواتے ہوئے بتایا کہ لوگوں کو اسلام آباد لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی، اسکے علاوہ راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے لیے درکار مشینری بھی حاصل نہیں کی جا سکی تھی، جبکہ بعض ذرائع نے سہیل آفریدی اور طاقتور فیصلہ سازوں کے مابین پس پردہ رابطوں کو لانگ مارچ موخر کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے تک سکیورٹی انتظامات میں مصروف رکھنا بھی تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی یے۔

 

لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ سے پسپائی نے پی ٹی آئی کی قیادت کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور اسے ہر جانب سے طعنے سننے کو مل رہے ہیں۔ اب یہ سوال اہم ہے کہ لانگ مارچ موخر کرنے کے بعد 4 اکتوبر تک پی ٹی آئی اپنی احتجاجی مہم کا ٹیمپو بنا پاتی ہے یا نہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی قیادت نے باضابطہ طور پر مارچ ختم نہیں کیا بلکہ نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ یوں پارٹی کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے اور احتجاجی مہم کو نئی توانائی دینے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ موخر کروانے میں بنیادی کردار بڑے پیمانے پر کیے گئے سکیورٹی انتظامات کا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کی جانب سے کنٹینر سے لے کر کیلوں تک کے استعمال نے پی ٹی آئی ورکرز کی اسلام آباد پہنچنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ یاد رہے کہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کی جانب سے اسلام آباد جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، پنجاب میں اجتماعات پر پابندیاں عائد کی گئیں اور پنجاب کے کئی اضلاع میں رینجرز تعینات کر دی گئی تھی۔

 

ان اقدامات کا حکومتی جواز امن و امان برقرار رکھنا اور دارالحکومت میں معمولات زندگی متاثر ہونے سے روکنا تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے انہیں اپنے احتجاج کو روکنے کی کوشش قرار دیا۔ یوں مارچ سے پہلے ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ مارچ مؤخر ہونے کے بعد سیاسی بیانیے میں بھی واضح تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ مؤخر کرنے کے فوراً بعد مذاکرات کی پیشکش کی اور کہا کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مسلح گروہ نہیں بلکہ سیاسی جماعت ہے اور وہ اپنے مطالبات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم دوسری جانب حکومت نے مثبت رد عمل دینے کی بجائے لانگ مارچ موخر کرنے کے اعلان کو تحریک انصاف کی بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔

4 اکتوبر کا لانگ مارچ بھی ناکام ہو گا: سہیل وڑائچ کا تجزیہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت خصوصا وزیر اعلی سہیل آفریدی کا اصل سیاسی امتحان اب 4 اکتوبر کو ہو گا۔ اگر پی ٹی آئی تب تک اپنے کارکنوں اور اتحادی جماعتوں کو دوبارہ متحرک کر کے ایک بڑا لانگ مارچ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پی ٹی آئی کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے، لیکن اگر چار اکتوبر کو لانگ مارچ ناکام ہو گیا یا دوبارہ ملتوی کر دیا گیا تو تحریک انصاف کی سیاست لمبے عرصے کے لیے ختم ہو جائے گی۔

Back to top button