عمران خان حکومت کی فراغت کا فیصلہ ہو چکا ہے


معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن پر پنگا ڈالنے کے بعد عمران خان حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے اور اب صرف مناسب موقعے کا انتظار یے۔ ویسے بھی کپتان کے قریبی مشیر انہیں سیاسی شہید بننے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ طاقتور حلقوں کا خیال ہے عمران خان اقتدار سے باہر نکل کر بولیں گے اور جو کہ ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو گا، چناںچہ اس خدشے کا کوئی مناسب حل تلاش کیا جا رہا ہے جو اب زیادہ دور نہیں۔ بقول جاوید چودھری، حال ہی میں منظر عام پر آنے والی نعیم الحق اور مفتی سعید کی تازہ ترین آڈیو ٹیپس اس حل کا ابتدائیہ ہیں اور آگے جاری ہونے والی ویڈیوز اس کا نکتہ انجام ہو گا۔ یہ حل جس دن مکمل ہو گیا اس دن وفاق میں بھی بلوچستان جیسا انقلاب آ جائے گا۔ یعنی پارٹی اقتدار میں رہے گی لیکن لیڈر بدل جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے سابق ملازم اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے موجودہ گورنر رضا باقر کا بنیادی مشن ملکی معیشت کا جنازہ نکالنا ہے اور اسی لیے انہوں نے پاکستانی معیشت کے ساتھ وہی سلوک شروع کر رکھا ہے جو موصوف سال 2017-18 میں مصر کی معیشت کے ساتھ کر کے آئے تھے۔ مصر میں بھی رضا باقر کی ورلڈ بنک اور امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے ڈالر حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا تھا اور پھر روزانہ کی بنیاد پر پرواز کرنے لگا اور یوں معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ رضا باقر دراصل بیرونی طاقتوں کا ملازم ہے اور انہی کا ایجنڈا لے کر چلتا ہے لہذا ایسے لوگوں کے ہاتھوں پاکستانی مفادات کا تحفظ ناممکن ہے۔ رضا باقر 2017-18ء میں مصر میں آئی ایم ایف کا سینئر ریذیڈنٹ ری پریذینٹیٹو تھا‘ اس نے وہاں بھی لوکل کرنسی کی ویلیو گرا کر ملک کا بھرکس نکال دیا تھا۔ باقر اب پاکستان کے ساتھ بھی وہی سلوک کر رہا ہے اور ڈالر کو دو سو روپے تک پہنچا کر رہے گا لیکن موجودہ حکومت کے بڑے اس معاملے پر آنکھیں کھولنے کی بجائے آج بھی اسحاق ڈار کو ڈالر 104 روپے پر رکھنے پر برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ دوسری جانب رضا باقر کو ڈالر 176 روپے تک پہنچانے کے بعد بھی شاباش دی جا رہی ہے، نجانے یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟
جاوید چودھری کے مطابق حکومت کو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان ایک بار پھر طارق باجوہ کے حوالے کر دینا چاہیے جنہوں نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں پاکستانی روپے کو مستحکم کر رکھا تھا۔ طارق باجوہ جیسے ایمان دار اور وژنری شخص نے ملکی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ روپے کی ڈی ویلیوایشن کے خلاف تھے لہٰذا نئی حکومت نے انھیں اس جرم میں مئی 2019 میں عہدے سے فارغ کر کے اسٹیٹ بینک رضا باقر کے حوالے کردیا تھا۔ بقول جاوید چودھرہ اسحاق ڈار حکومت کے دشمن ہی سہی لیکن یہ اپنے دور میں معیشت کا پہیہ ٹھیک چلا رہے تھے۔ حکومت کو چاہیے یہ اسحق ڈار والی معاشی پالیسیوں اپنا لے تاکہ ملک ایک بار پھر سنبھل جائے۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ حکومت کو یہ بھی مان لینا چاہیے یہ برآمدات بڑھانے کے لیے ڈالر کو 176 روپے پر لے آئی لیکن برآمدات بڑھنا تو دور درآمدات میں بھی اضافہ ہو گیا، قرضے بھی بڑھ گئے اور مہنگائی نے بھی ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے لہٰذا پھر عوام کو حکومت کی معاشی پالیسیوں کا کیا فائدہ ہوا؟ حکومت کو اب اپنی اس غلطی کا ادراک کر لینا چاہیے۔ موجودہ حکومت بار بار فارن ایکسچینج ریزروز کا کریڈٹ لیتی ہے۔ پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزروز اس وقت 24بلین ڈالر ہیں اور یہ ریکارڈ ہے لیکن سوال یہ ہے عوام کو اس کا کیا فائدہ ہورہا ہے؟ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح گھر میں کھانے کے لیے روٹی نہ ہو اور گھر کا سربراہ الماری میں نوٹوں کے انبار لگاتا چلا جائے۔ قوموں کو ریزروز بھی بڑھانے چاہئیں لیکن عوام کے ریلیف کا بندوبست بھی کرنا چاہیے اور ہمیں بدقسمتی سے یہ ماننا ہوگا عوام سردست حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔
جاوید کہتے ہیں کہ حکومت سے جب بھی مہنگائی کے بارے میں سوال کیا جاتاہے تو یہ ضروریات زندگی کی قیمتوں کو عالمی انفلیشن سے کمپیئر کرنے لگتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن حکومت یہ بھول جاتی ہے یورپ میں کم سے کم تنخواہیں کتنی ہیں؟
پاکستان میں مزدور 18 سے 20 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے جب کہ یورپ میں کم از کم اجرت 1500 یورو ہے اور یہ پاکستانی روپوں میں تین لاکھ پانچ ہزار روپے بنتے ہیں اور ہمارے ملک میں فیڈرل سیکریٹری کی تنخواہ بھی اتنی نہیں ہوتی چناں چہ آمدنی یورپ کے مقابلے میں چودہ گنا کم اور قیمتیں یورپ کے برابر یہ کہاں کا انصاف ہے اور عوام یہ ظلم کہاں تک برداشت کریں گے؟
حکومت کو یہ بھی ماننا ہوگا اس کی بیڈگورننس اور مس مینجمنٹ اب ملک کے تمام اداروں کو متاثر کر رہی ہے۔ آج سے تین سال قبل غربت صرف غریب شخص تک محدود تھی لیکن یہ اب امیروں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ امیر بھی اب ملازمین کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ ٹرینڈ خطرناک ہے۔ ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا پاکستانی تاریخ میں پہلی بار حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ فوج کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ لوگ اسلام آباد والوں کی حماقتوں پر راولپنڈی کی طرف دیکھتے ہیں۔
بقول جاوید چودھری وزیراعظم‘ وزراء اعلیٰ اور وزراء سرعام کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی غلطیاں ریاستی اداروں کے کھاتوں میں ڈال دیتے ہیں اور ریاستی اداروں کو اس کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔ عوامی رائے اور معیشت اب انھیں براہ راست متاثر کر رہی ہے اور یہ اب حکومت کو بلاوجہ سپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوتا ہے بلوچستان کی تبدیلی پنجاب اور وفاق پر بھی اثرانداز ہو گی اور حکومت کا ہر آنے والا دن مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وزیراعظم کا ایک سابق معاون خصوصی توشہ خانے کی گھڑی کے ایشو پر وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ اتحادی وزراء ایک ایک کر کے مستعفی ہونے کا سوچ رہے ہیں‘ یہ حکومت کا حصہ رہیں گے لیکن وزارت چھوڑ دیں گے اور یہ سلسلہ اگر ایک بار شروع ہو گیا تو پھر یہ رک نہیں سکے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر بھی انھیں سیاسی شہادت کے مشورے دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹی فکیشن لٹکا کر اس کا بندوبست بھی کر لیا تھا لیکن اداروں اور اپوزیشن نے انھیں یہ موقع نہیں دیا۔ بقول جاوید چودھری اپوزیشن چاہتی ہے اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں۔ عمران خان کو ہٹا کر قومی حکومت بنا دی جائے۔ وہ حکومت ملک کو پٹڑی پر لائے اور 2023 میں غیر جانب دار الیکشن کرا کر اقتدار نئی حکومت کے حوالے کر دیا جائے، لیکن میں اب ایک بار پھر عرض کر رہا ہوں عمران خان کو جتنا اقتدار میں لانا مشکل تھا اس سے کہیں زیادہ مشکل اسے نکالنا ہے۔
طاقتور حلقوں کا خیال ہے عمران خان اقتدار سے باہر نکل کر بولیں گے اور ان کا بولنا ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو گا،چناں چہ اس خدشے کا کوئی مناسب حل تلاش کیا جا رہا ہے اور یہ حل اب زیادہ دور نہیں۔ بقول جاوید چودھری، حال ہی میں منظر عام پر آنے والی نعیم الحق اور مفتی سعید کی تازہ ترین آڈیو ٹیپس اس حل کا ابتدائیہ ہیں اور آگے جاری ہونے والی ویڈیوز اس کا نکتہ انجام ہو گا۔ یہ حل جس دن مکمل ہو گیا اس دن وفاق میں بھی بلوچستان جیسا انقلاب آ جائے گا۔ پارٹی اقتدار میں رہے گی لیکن لیڈر بدل جائے گا۔

Back to top button