عمران خان صدر علوی سے ناراض، رابطہ ختم کر دیا

نو مئی کے بعد جہاں ایک طرف تحریک انصاف ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی نظر آتی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تحریک انصاف چھوڑنے والوں کی فہرست طویل سے طویل ہوتی نظر آرہی ہے وہیں دوسری طرف سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ناراض ہو کر رابطہ منقطع کر لیا ہے۔
سینئر صحافی زبیر علی خان کی وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ناراضگی کے باعث رابطہ منقطع کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان آخری رابطہ ایک ہفتے قبل ہوا تھا جس کے بعد عمران خان صدر مملکت کے میسجز کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے 9 مئی کے واقعے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرف سے یکے بعد دیگرے پارٹی چھوڑنے پر عمران خان سے گفتگو کی تھی اور موجودہ سیاسی صورتحال میں دفاعی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سپریم کورٹ کے حکم کے نتیجہ میں رہائی کے فورا بعد صدر مملکت نے پولیس لائنز میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ڈھائی گھنٹے کی اس طویل ملاقات کے دوران بھی صدر مملکت نے اداروں کے افسران پر تنقید کرنے سے گریز کرنے اور عسکری حکام کے ساتھ تناؤ کم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا تھا کہ عسکری حکام اور اداروں کے افسران پر تنقید کرنے سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 26 مئی کو سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر ایکٹ پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد قانون نافذ العمل ہوچکا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی نے اس ایکٹ کے حوالے سے بھی عمران خان سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
یاد رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے 29مئی کو سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 2023 پر دستخط کرکے اس کی توثیق کردی تھی، جس کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن گیا۔اس بل کے قانون بننے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر ترین سمیت ان تمام افراد کو اپیل کا حق حاصل ہوگیا جنہیں نااہلی کا سامنا تھا۔
واضح رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اس سے قبل ہونے والی تمام اہم قانون سازی کے بلز پر دستخط سے قبل سابق وزیراعظم سے مشاورت ضرور کرتے رہے ہیں حتی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی تقرری سے قبل صدر مملکت ہنگامی دورے پر لاہور گئے تھے اور زمان پارک میں عمران خان سے مشاورت کی تھی۔
صدر عارف علوی کے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 2023 پر دستخط کرنے کے بعد بعض حلقوں کا خیال ہے کہ صدر عارف علوی نے حکومت کے سامنے ہتھیار پھینک دیے ہیں۔ وہ شہباز شریف کی طرف سے ایک اسمارٹ موو کے سامنے ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
دوسری جانب صدر پاکستان عارف علوی نے پیر کو عدالتوں کے اختیارات سے متعلق ایک قانون پر دستخط کیے تو پاکستانی ٹائم لائنز نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔قانون پر تبصرہ کرنے والے بہت سے افراد نے توقع ظاہر کی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے سابق ساتھی جہانگیر ترین کو اپنی تاحیات نااہلی ختم کروانے کے لیے اس قانون سے فائدہ ملے گا۔
ماریانہ بابر نے اپنے سوالیہ تبصرے میں لکھا کہ ’کیا یہ جلد بازی ہے یا حکومت نے اسمارٹ موو کی ہے۔پاکستانی عدالتوں میں زیر سماعت کیسز اور قانونی امور کی رپورٹنگ سے وابستہ رہنے والے ٹیلی ویژن میزبان مطیع اللہ نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’پرانا قانون عدالت کے آٹھ ججوں کی طرف سے معطل ہونے پر پارلیمنٹ نے نیا قانون منظور کیا اور صدر عارف علوی نے بھی ہتھیار پھینکتے ہوئے اس پر دستخط کر دیئے۔اس حوالے سے سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ بالآخر صدر ڈاکٹرعارف علوی صراط مستقیم پر آگئے ہیں،ان کے ساتھ ساتھکچھ عمراندار ججز بھی ایماندار بن چکے ہیں اور مزید کچھ ہم خیال ججز ایماندار بننے والے ہیں۔
