عمران خان نے اپنے لیے ایک ارب روپے کے VVIP طیارے خریدے


بطور وزیر اعظم عوام کو بچت اور کفایت شعاری پر لیکچر دینے والے عمران خان نے اپنے دور حکومت میں ایک ارب روپوں سے زائد مالیت کے دو وی وی آئی پی جہاز خریدے حالانکہ وزیراعظم کے استعمال کے لیے پہلے سے ہی دو طیارے موجود تھے۔ جب خان صاحب کی جانب سے عوام کو مہنگائی کیخلاف کمر کسنے کے مشورے دیے جا رہے تھے اور انکو دی گئی سبسڈی ختم کی جا رہی تھی، تب موصوف نے خاموشی سے دو شاندار وی وی آئی پی طیارے خریدنے اور ان کی مینٹی ننس کیلئے ایک ارب دس کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔

تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ راز قومی اسمبلی میں پیش کی گئی بجٹ دستاویزات سے افشا ہوا۔ ایک ارب روپے سے زائد مالیت کے وی آئی پی جہاز پچھلے دور حکومت میں وزیر اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی کے لیے استعمال ہوتے رہے، حالانکہ ان کے استعمال کے لئے پہلے سے ہی جہاز موجود ہے۔ ان کی خریداری کیلئے ضمنی گرانٹ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظور کی تھی اور اسی بات کا ذکر بجٹ دستاویز میں کیا گیا ہے۔ اس کھلی عیاشی کی باضابطہ منظوری پارلیمنٹ سے اب مانگی گئی ہے۔ وی وی آئی پی گلف اسٹریم طیاروں کی خریداری کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت نے 800؍ ملین روپے کی گرانٹ وزارت دفاعی پیداوار کیلئے منظور کی۔ مزید 300؍ ملین ڈالرز دو وی وی آئی پی طیاروں کی مینٹی ننس کیلئے مختص کیے گئے اور بظاہر لگتا ہے کہ یہ وہی طیارے ہیں جو ختم ہونے والے مالی سال میں خریدے گئے تھے۔ ان طیاروں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار وزارت دفاع ہے۔ مختص کردہ رقم ضمنی گرانٹس میں دکھائی گئی ہے۔ یہ وہ رقوم ہوتی ہیں جو بجٹ میں ہر وزارت کیلئے مختص کردہ رقم کے علاوہ ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر ضمنی گرانٹس فوری نوعیت کے پروجیکٹس کیلئے رکھی جاتی ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ جب وزیراعظم کے استعمال کے لیے دو جہاز پہلے سے ہی موجود تھے تو پھر ایک ارب روپے سے زائد کے نئے جہاز خریدنے کی فوری ضرورت کیا تھی۔

دوسری جانب عمران خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے جہاز خریدنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کے پرانے جہازوں کی دیکھ بھال پر بہت زیادہ خرچہ ہو رہا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ نئے جہازوں کی خریداری کی وجہ سے مینٹی ننس کے اخراجات کم ہوئے ہیں۔ انکے مطابق سال 2018-19 میں یہ اخراجات 415؍ ملین روپے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں 2021-22 میں 300؍ ملین روپے کی رقم پچھلی رقم کے مقابلے میں کم ہے۔ لیکن ناقدین عمران خان کے ساتھیوں کی جانب سے پیش کیے گئے اس جواز کو ایک لطیفہ قرار دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ سے ہٹ جانے کے باوجود عمران خان سرکاری وسائل کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے زیادہ عرصہ پشاور میں ہی گزارا ہے جہاں وہ وزیراعلی خیبر پختونخوا کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرتے ہیں اور وزیر اعلی ہاؤس میں قیام پذیر ہوتے ہیں۔

Back to top button