عمران خان نے پاکستان کو مسائلستان کیسے بنایا؟


وزیراعظم عمران خان کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس دنیا کی پہلی فلاحی ریاست یعنی مدینہ منورہ اور موجودہ پاکستان میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی مماثلت نہیں ملتی بلکہ آج کا نیا پاکستان درحقیقت مسائلستان بن چکا ہے جہاں نااہل حکمرانوں کی وجہ سے غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور بھوک ننگ کا راج ہے۔ عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ ایسے میں یہ سمجھنا محال ہے کہ وزیر اعظم کس بنیاد پر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا کھوکھلا دعویٰ کر رہے ہیں۔
سنیئر صحافی سید طلعت حسین اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ جو ملک 71 سال کی ٹامک ٹوئیوں کے بعد سال 2018 میں 30 کھرب روپے کا مقروض تھا وہ آج 2021 میں 50 کھرب کے قرضے کندھوں پر اٹھائے پھر رہا ہے۔ لہذا تین سالوں میں پاکستان کی تاریخ کے تمام قرضوں میں 70 فیصد کا مزید اضافہ اب ہماری اگلی نسلوں کو نگلنے کے لیے تیار ہے۔ طلعت حسین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک امریکی سکالر کو انٹرویو دیتے ہوئے قوم کی رہنمائی کی۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان میں ایک انقلاب برپا ہو چکا ہے، اس انقلاب کی مثال انہوں نے فرانس، برطانیہ، روس کے انقلابوں سے نہیں دی بلکہ اس کائنات کی سب سے عظیم شخصیت نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاست مدینہ کے حوالے سے بیان کی۔ عمران خان نے اس انٹرویو میں ایک آسمان کو چھوتا ہوا دعویٰ کیا اور کہا کہ پاکستان بھی کامیابی کے ساتھ ریاست مدینہ بننے کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے۔ یعنی عملاً وہ یہ فرما رہے ہیں کہ ان کے تین سالہ دور میں ایک نئی ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو ایسے نکتے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے بعد نتائج ویسے ہی ہوں گے جیسے ان مقدس مثالوں میں جن کا وہ روانی سے تذکرہ کرتے رہتے ہیں ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ یقیناً قوم کپتان کے اس بیان کے باعث حیرانی جیسی کیفیت سے دوچار ہو گی۔ تسلی اس بات کی کہ ملک کا وزیراعظم جب یہ دعویٰ کر رہا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کر رہا ہو گا۔ خصوصا جب اسے ریاست کے تمام فیصلہ سازوں کی حمایت حاصل ہے۔ تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کو بغیر تعطل کے معلومات فراہم کرتی ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے نمائندگان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ انہوں نے طویل نشستیں کیں۔ ذرائع ابلاغ کے مخصوص نمائندے ان کے ساتھ براہ راست فون پر رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کی سوچ اس تمام عمل سے ہی بنی ہو گی جس میں معلومات بھی ہیں اور دوست قوتوں کی جانب سے کیے گئے تجزیے بھی۔
لیکن پریشانی و حیرانی یہ ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بناتے اور بتلاتے ہوئے اس ملک کے خدوخال کچھ اس طرح متاثر ہو گئے ہیں کہ اب عوام کی آنکھ اپنے ملک کو پہچانے سے قاصر ہے۔
بقول طلعت حسین، ہم اعداد کا شمار دیکھیں تو تصویر خوفناک بنتی ہے۔ قرضوں کا انبار معیشت کو ڈبو رہا ہے۔1947 سے 2018 تک 30 کھرب روپے تک کے قرضے حاصل کیے۔ ان قرضوں کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں پھیلی ہوئی بدعنوانی، لوٹ مار اور قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈاکے مارنے کے تمام الزامات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی عمرانی انقلاب سے پہلے جتنے بھی حکمران گزرے انہوں نے بدترین پلاننگ اور خوفناک ترین کرپشن کے نتیجے میں اس ملک کو 30 کھرب روپے کے قرضوں میں ڈبو دیا۔ عمران خان کی حکومت کے آتے ہی قوم کو بتایا گیا کہ اب ایک سیاسی مسیحا آ گیا ہے جو قرضوں کی دکان کو بند کرے گا۔ ملک کو اپنے وسائل کے بدست اپنے پاؤں پر کھڑا کرے گا اور اس طرح ایک آزاد قوم دوبارہ سے جنم لے گی۔ امید یہ دلوائی گئی تھی کہ 30 کھرب کے قرضے کم کر کے 20 کھرب کیے جائیں گے۔ تو اس طرح 10 کھرب کی بچت ہو گی اور چونکہ نئے قرضے نہیں لینے پڑیں گے تو یہ خطیر رقم عوام کی فلاح پر خرچ کر کے ان کے تمام خوابوں کی تعبیر کر دی جائے گی۔ مگر سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین سالوں میں 20 کھرب روپے کے مزید قرضے لیے گئے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے یہ سمجھ لیجیئے کہ 2018 میں پاکستان کا ہر شہری، بچہ بڑا، بوڑھا، جوان، جھولے میں جھولتا ہوا اور قبر میں ٹانگیں لٹکائے ہوئے فی کس ایک لاکھ 44 ہزار روپے کا مقروض تھا۔ ستمبر 2021 میں ہمارا ہر شہری انفرادی طور پر دو لاکھ 35ہزار روپے کا مقروض ہے۔
طلعت حسین کہتے ہیں کہ اگر یہ قرضے ان چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے جن کا وزیر اعظم ذکر کر رہے ہیں تو ان پر کوئی انگلی نہ اٹھاتا مگر قوم اپنی صلاحیتوں کو نکھرتا ہوا نہیں دیکھ پا رہی۔
طلعت کہتے ہیں حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنی مایوسی کرونا وبا کے بدترین نتائج سے متاثر ہونے کے بعد بھی نہیں پھیلی تھی۔ یعنی اس وقت جب کاروبار تمام نظام زندگی کے ساتھ معطل ہو چکا تھا، عوام کی نسبتا زیادہ تعداد مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی تھی مگر اب مایوسی بلند ترین نکتے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خان اوورسیز پاکستانیوں کیخلاف سازش کررہا ہے

حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ پنڈال جس میں موجودہ حکومت کو دس، بیس سال تک طاقت میں رکھنے کے نعرے لگتے تھے اب مائیک پر پارٹی کارکنان کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کی باتوں سے گونجتے ہیں۔ وہ تمام قوتیں جو چھاتی پر ہاتھ مار کر فخر کے ساتھ 2018 میں انتخابات کو اپنی بہترین کامیابی کی ٹرافی کے طور پر پیش کرتے تھے اب ادھر ادھر چھپتے پھرتے ہیں کہ کہیں ان کو موجودہ نظام کے بارے میں سوالوں کے جواب نہ دینے پڑ جائیں۔ سرویز کے مطابق غربت میں اضافہ، ظالمانہ مہنگائی اور نہ ختم ہونے والی بے روزگاری نے ایک ایسی دلدل بنا دی ہے جس میں قوم مسلسل دھنستی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں سمجھ نہیں آ رہی کہ وزیراعظم ریاست مدینہ کے عظیم انقلاب کی جھلکیاں کس کھڑکی سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ کون سی پہاڑی ہے جہاں سے ان کو اپنے لائے ہوئے انقلاب کا سورج اپنی تمام تابناکیوں کے ساتھ دمکتا ہوا نظر آ رہا ہے؟ اگر یہ پتہ چل جائے تو محترم وزیراعظم کی جانب سے پاکستان اور ریاست مدینہ کی کیفیت میں مماثلت کی مثال سمجھ میں آ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس پھڑ کا سر پیر تلاش کرنا عملاً ناممکن ہے۔

Back to top button