نوازلیگ ثاقب نثار کی آڈیو عدالت میں پیش کیوں نہیں کر سکتی؟
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو نااہلی کی سزا سنانے والے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ایک فیصلے میں کسی بھی آڈیو یا ویڈیو ثبوت کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے کڑی شرائط طے کر دی تھیں یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نون ثاقب نثار کی کی مبینہ آڈیو ٹیپ کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کرنے سے ہچکچا رہی ہے حالانکہ اس آڈیو ٹیپ سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے ماتحت عدلیہ کے ججز کو نواز شریف اور مریم نواز کو عام انتخابات 2018 سے قبل کسی بھی صورت ضمانت دینے سے منع کیا تھا۔
مطیع اللہ جان نے اپنے ایک حالیہ وی لاگ میں بتایا ہے کہ جب احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی نواز شریف کو اداروں کے دباؤ میں آکر سزا سنانے کی اعترافی ویڈیو سامنے آئی تو تب کے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے یہ معیار مقرر کر دیا تھا کہ کسی آڈیو یا ویڈیو کو کن شرائط کے تحت بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ بطور ثبوت پیش کی جانے والی آڈیو یا ویڈیو کے قابل قبول ہونے کی ایک شرط یہ بھی رکھی گئی تھی کہ ایسی آڈیو یا یڈیو کسی نامعلوم شخص کی پروڈکشن نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ کام اس شخص نے کیا ہو جس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں ایسا کرنا شامل ہو یعنی جو آڈیو یا ویڈیو بطور ثبوت پیش کی جائے اسکے ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ اسے کس فوٹوگرافر یا ویڈیو گرافر نے بنایا ہے۔ لہذا اب خفیہ طور پر بنائی گئی کوئی بھی ویڈیو یا آڈیو کسی بھی عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کی جاسکتی اور یہی وجہ ہے کہ نواز لیگ بھی ایسا کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔
نواز لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ کوئی بھی حساس آڈیو ویڈیو ٹیپس بنانا یا انہیں وائرل کرنا کسی پروفیشنل کا کام نہیں اور انہیں خفیہ طریقے سے بنانے والا بھی اپنی شناخت ظاہر کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے لہٰذا اس اصول کے باعث اب عدالت میں کوئی آڈیو یا ویڈیو ٹیپ بطور ثبوت پیش کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
مطیع اللہ جان کے بقول آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو 2018 کے الیکشن سے پہلے سیاسی منظر نامے سے آؤٹ کرنے کے لیے بغیر ٹرائل کئے پاناما کیس میں سزا دے دی۔ بعد ازاں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے بھی ٹرائل کے ذریعے نواز شریف ان کی بیٹی اور داماد کو مجرم قرار دیا، تاہم اس کے کچھ عرصے بعد ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آگئی جس سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ انہوں نے دباؤ میں آکر شریف فیملی کو سزائیں سنائیں۔ لندن میں مقیم مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ کی جانب سے خفیہ طور پر بنائی گئی ویڈیو میں ارشد ملک اعتراف کررہے ہیں کہ انہیں ان کی ایک قابل اعتراض ویڈیو دکھا کردباؤ میں لا کر نواز شریف کو سزا دینے پر مجبور کیا گیا۔ مطیع اللہ جان کے بقول آصف سعید کھوسہ نے بطور چیف جسٹس آڈیو ویڈیو کے حوالے سے سخت ترین معیار مقرر کر کے دراصل خود کو بچانے کی کوشش کی لہٰذا اب مسلم لیگ نون چاہتے ہوئے بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے عدالت میں بطور ثبوت پیش نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: فوج دفاع کیلئے ہے کاروبار کیلئے نہیں
مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ ایسا کرکے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نہ صرف انصاف کا قتل عام کیا بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی آڈیو ویڈیو ثبوتوں کے ذریعے ریلیف لینے کا راستہ بند کردیا۔ یوں انکے بقول سابق چیف جسٹس کے اس اقدام سے عدلیہ کی ساکھ صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ایسے میں سپریم کورٹ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ واضح ثبوتوں کی موجودگی میں ایک سابق چیف جسٹس کی جانب سے انصاف کے قتل عام پر ان کا احتساب کیا جائے خصوصا جب ایک بین الاقوامی فرانزک لیبارٹری نے تصدیق کردی ہے کہ ان کی آڈیو گفتگو اصلی ہے۔
