عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے دعوؤں کو تسلیم کر لیا

سابق وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد جنرل قمر باجوہ کو عہدے میں توسیع کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چند ہفتے پہلے انکی ایوان صدر میں جنرل باجوہ سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے آرمی چیف کو اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت بننے تک اپنے عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔
عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی اپنے خلاف چارج شیٹ نما پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فوجی افسران نے اپنے ادارے کے غیر سیاسی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک سیاسی پریس کانفرنس کر کے خود ہی اپنے دعوے کی تردید کر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے اس پریس کانفرنس کے جواب میں بولنا شروع کیا تو فوج اور پاکستان دونوں کا نقصان ہو گا اس لیے جواب نہیں دے رہا۔ سینئر صحافی عامر متین کو انٹرویو میں عمران خان کا ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کے مشترکہ پریس کانفرنس کے متعلق سوال پر کہنا تھا کہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن دونوں نے سیاسی پریس کانفرنس بھی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس سکیورٹی پر نہیں بلکہ سیاسی تھی۔
عمران نے دعوی ٰکیا کہ میری تنقید ہمیشہ تعمیری ہوتی ہے، میں چاہتا ہوں پاک فوج کا امیج خراب نہ ہو، لیکن فوج سمیت کوئی ادارہ قانون سے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی کے اس الزام کی تصدیق کی کہ انہوں نے جنرل باجوہ کو توسیع کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہا کہ ’آرمی چیف کی مدمت ملازمت میں توسیع کی بات چل رہی تھی چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ آپ کو توسیع دے رہے ہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں لیکن آپ حکومت تبدیل نہ ہونے دیں۔ لیکن میں بند کمروں میں کوئی ڈیل نہیں کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دن کی روشنی میں جنرل باجوہ پر حملے کرتے ہیں اور انہیں غدار قرار دیتے ہیں لیکن رات کی تاریکی میں ان سے خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ میری موجودگی میں عمران خان نے بطور وزیراعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کے عہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع دینے کی پیشکش کی تھی لیکن جنرل باجوہ نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ایک اور سوال پر عمران خان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے چند ہفتے پہلے جنرل قمر باجوہ سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے ایوان صدر میں عارف علوی کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔ یہ وہی ملاقات ہے جس کے بعد عمران نے جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز دی تھی تا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری نئی حکومت کر سکے۔ لیکن حکومت نے اس تجویز کو رد کر دیا تھا۔ انٹرویو کے دوران عمران کا کہنا تھا کہ ’میں جن لوگوں کو اپنے بہت ہی قریب سمجھتا تھا وہ بدل گئے ہیں، فیصل واوڈا نے ڈرٹی ہیری کی فرمائش پر میرے خلاف پریس کانفرنس کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈرٹی ہیری کون ہے تو انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اسلام آباد میں کون سا شخص گندے کام کر رہا ہے، اس لیے مجھے نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 28 اکتوبر کو سینیٹر اعظم سواتی نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل "سی” میجر جنرل فیصل پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے بعد ان پر جنسی تشدد کروانے میں فیصل اور سیکٹر کمانڈر فہیم کا ہاتھ تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عمران خان بھی میجر جنرل فیصل کو ڈرٹی ہیری قرار دیتے ہیں۔ عمران نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ان کی مسلسل جاسوسی کی جارہی ہے اور اس کے لیے نوکروں کو پیسے دیے جا رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کو پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ جب ڈی جی آئی ایس آئی نے خود پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا تو واضح ہو گیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ یہ پریس کانفرنس فوج کی سینئر قیادت کیخلاف عمران کی زیر قیادت پی ٹی آئی کی کئی ماہ سے چلائی جانے والی توہین آمیز مہم کا منہ توڑ جواب تھا۔ اب تک فوج کی پالیسی یہ تھی کہ عمران کے الزامات اور پی ٹی آئی بالخصوص پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے فوج مخالف بیانیے پر براہِ راست کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرنا۔ لیکن، ساری حدیں اس وقت عبور کر لی گئیں جب عمران خان نے ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت کے معاملے پر فوج کی طرف انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر عمران کی جانب سے چلائی جانے والی مہم اس قدر مذموم تھی کہ اس سے عوام اور فوج کے مابین عدم اعتماد پھیل سکتا تھا۔ چنانچہ ڈی جی آئی ایس آئی کو ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ جس آرمی چیف کو عمران خان مسلسل سراہتے تھے وہی آرمی چیف اچانک انکی حکومت کے ہٹائے جانے کے بعد اُن کے بدترین ہدف بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب جھوٹ تواتر سے اور پراعتماد ہو کر بولا جائے تو ضروری ہے کہ فتنے کے علاج کیلئے سچ کو سامنے لایا جائے۔
