عمران خان پاکستان میں سیاسی استحکام کیوں نہیں آنے دے رہے؟

تحریک انصاف نے ملک میں سیاسی استحکام اور ترقی کو عمران خان کی جیل سے رہائی سے مشروط کر دیا ہے۔ جیلوں سے بارہر موجود عمرانڈو رہنماؤں کا ماننا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بغیر ملک میں سیاسی استحکام ممکن نہیں،موجودہ حکومت کا خاتمہ اور پی ٹی آئی مینڈیٹ کی واپسی ہی ملک کے مسائل کا واحد حل ہے۔ یعنی بانی پی ٹی آئی کو رہا کر کے انھیں وزیر اعظم بنا دیا جائے تو ہی ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے۔ اور کے پی کے بعد وفاق اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت قائم کر دی جائے۔

تاہم مبصرین کے مطابق عمرانڈوز کی خواہش موجودہ جمہوریت میں تو ممکن نہیں کیونکہ قومی اسمبلی کا رکن بنے بغیر کوئی شخص وزیر اعظم نہیں بن سکتا اور زمینی حقائق یہ ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نہ صرف نااہل ہو چکے ہیں بلکہ ان پر بے شمار مقدمات بھی درج ہیں جنھیں موجودہ پارلیمنٹ اقتدار دے سکتی ہے نہ عدلیہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے کا حکم دے سکتی ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ ملک میں مارشل لا لگ جائے اور پارلیمنٹ توڑ کر حکومت ختم کر دی جائے تو اس صورت میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی اپریل 2022 کی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے تو ملک میں سیاسی استحکام آ جائے گا۔ پی ٹی آئی کو یہ بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ پی ٹی آئی مخالف تمام پارٹیوں پر پابندی لگا کر تمام حکومتی عہدیداروں کو جیل بھیجا جائے جس کے بعد سیاست میں صرف پی ٹی آئی ہو تو ملک سیاسی طور پر مستحکم ہو جائے گا اور بانی چیئرمین اقتدار میں آ کر ملک کو سیاسی استحکام دیں گے اور ان کو اقتدار میں لانا ملک کی ضرورت ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی رہنما برملا یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ ہمیں پاکستان صرف اس صورت قبول ہوگا جب عمران خان اقتدار میں ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی اقتدار سے محروم کیے جانے کے بعد یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ رجیم تبدیل کرنے سے تو بہتر تھا کہ ملک پر ایٹم بم پھینک دیا جاتا۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو پی ٹی آئی نے 2013 میں دھرنے دے کر سیاسی عدم استحکام سے دوچار رکھا ہے جس کے بعد سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں رہا۔ملک کو دس سال سے پی ٹی آئی نے خود اقتدار میں رہ کر اور اپوزیشن میں رہ کر سیاسی طور پر کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا کیونکہ وہ ایسا سیاسی استحکام چاہتی ہے کہ جس میں صرف پی ٹی آئی کو سیاست کرنے کا اختیار ہو اور وہ اقتدار میں رہ کر اپوزیشن کا وجود ختم کر دے جب کہ جمہوریت میں ایسا ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ ایسا تو ملک میں غیر جمہوری حکومتوں میں بھی ممکن نہیں ہوا تھا۔ پی پی، (ن) لیگ، جے یو آئی و دیگر پارٹیوں نے دور آمریت میں سیاسی جدوجہد بھی کی اور ان کے رہنما اور قائدین جیلوں میں بھی رہے مگر انھوں نے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار نہیں کیا تھا حالانکہ ان کا مقصد بھی حصول اقتدار تھا۔

ملک میں اب سیاسی حکومت ہے آمریت نہیں ہے مگر پی ٹی آئی نے اقتدار سے محرومی کے بعد ملک میںاسٹیبلشمنٹ کو اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار سمجھا پھر ان کے خلاف سانحہ 9 مئی کرایا جس کے باعث تو ابھی بانی پی ٹی آئی کو کوئی سزا ہی نہیں ہوئی ہے ۔ پی ٹی آئی والوں کے ساتھ ابھی تو وہ سلوک ہوا ہی نہیں جو ماضی میں اقتدار میں رہنے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہو چکا ہے اور خود بانی نے اپنی حکومت میں ان دونوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا تھا مگر کبھی دونوں نے ملک دشمنی کی سیاست کی تھی نہ سیاسی عدم استحکام پیدا کیا تھا۔

دونوں سیاسی جماعتوں کی جدوجہد رہائی اور مقدمات کے خاتمے کے لیے نہیں تھی جبکہ آج پی ٹی آئی کی ساری کوشش اپنے بانی کی رہائی، مقدمات کے خاتمے اور اپنے اقتدار کے لیے ہے جس کے لیے وہ ملک دشمنی تک پر اتر آئی ہے اور آئین کے مطابق کچھ کرنا نہیں چاہتی اور اس نے اپنے عملی اقدامات، جھوٹی انا کی سیاست کے لیے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے اور اب آپریشن عزم استحکام کو بھی اپنے مطالبے منوانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے جس سے ملک میں سیاسی استحکام کبھی نہیں آئے گا۔

Back to top button