شریف خاندان کے اقتدار کا پھل: کرپشن کیسز ختم ہونے لگے

وفاق میں شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے اور پنجاب میں مریم نواز کے وزیراعلیٰ بن جانے کے بعد سے شریف خاندان کے قریبی اہم افراد کو ایک کے بعد ایک مختلف کیسز میں عدالتی ریلیف ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں قائم کیے گئے کئی ہائی پروفائل کرپشن کیسز یا تو ختم ہو چکے ہیں، یا ان میں عدالتوں نے شریف خاندان اور ان سے وابستہ شخصیات کو واضح قانونی ریلیف فراہم کیا ہے۔
ایسے میں سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ان عدالتی فیصلوں کو اقتدار کا “سیاسی پھل” قرار دے رہی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف تمام کیسز جھوٹے تھے اور سیاسی انتقام کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے۔ شریف خاندان کا دعوی ہے کہ وقت بدلنے کے بعد اب عدالتیں میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر ان کیسز کے فیصلے دے رہی ہیں۔
ایک جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے سات کروڑ روپے کے زرِ ضمانت کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی صاحبزادی رابعہ عمران اور داماد علی عمران یوسف کو بھی عدالتوں سے بڑا ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کی وزارت عظمی سے چھٹی کے بعد سے شریف خاندان کے خلاف قائم متعدد بڑے مقدمات یا تو ختم کیے جا چکے ہیں یا ان میں واضح عدالتی ریلیف دیا جا رہا ہے۔
سیاسی اور قانونی حلقوں میں اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا شریف خاندان کو عدالتوں سے مسلسل ریلیف ملتا رہے گا یا مستقبل میں انہیں نئے قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے احتسابی نظام، عدالتی فیصلوں اور سیاسی طاقت کے باہمی تعلق پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ کیس 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد اس وقت شروع ہوا تھا جب قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے منی لانڈرنگ، مشکوک مالی لین دین اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر تحقیقات کا آغاز کیا۔
مریم نواز کو 2019 میں عمران خان کے دور حکومت میں اسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں سیاسی ہلچل پیدا ہوئی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے سخت شرائط کے ساتھ ان کی ضمانت منظور کی تھی، جن میں سات کروڑ روپے کے مچلکے جمع کروانا اور پاسپورٹ عدالت میں جمع کروانا شامل تھا۔ رواں برس احتساب عدالت نے اس انکوائری میں شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے کیس بند کر دیا، جس کے بعد مریم نواز نے اپنے سات کروڑ روپے کے زرِ ضمانت کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں نیب سے مکمل ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، تاہم ادارہ تاحال تمام دستاویزات جمع نہیں کروا سکا، جس کے باعث کیس کی سماعت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور ان کے شوہر علی عمران یوسف کو بھی اہم قانونی ریلیف حاصل ہوا ہے۔ دونوں کے خلاف پنجاب پاور کمپنی اور صاف پانی کمپنی سے متعلق کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات درج تھے۔ عدالتوں میں مسلسل عدم پیشی کے باعث دونوں کو مفرور قرار دیا گیا تھا اور دونوں بیرون ملک چلے جانے کی وجہ سے اشتہاری قرار پائے تھے، تاہم اب عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے انہیں پیش ہونے کا موقع دیا، چنانچہ دونوں نے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے۔
ادھر انسدادِ رشوت ستانی کے ادارے کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رابعہ عمران اور علی عمران یوسف کے خلاف بدعنوانی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے کے دیگر اہم ملزمان، جن میں وزیراعظم شہباز شریف بھی شامل تھے، پہلے ہی مختلف عدالتوں سے بری ہو چکے ہیں۔
اپریل 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد شریف خاندان کے کئی اہم مقدمات منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی سزا کالعدم قرار دی گئی، نواز شریف کو العزیزیہ اور دیگر مقدمات میں نمایاں ریلیف ملا، جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی منی لانڈرنگ، رمضان شوگر ملز اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم جیسے اہم مقدمات سے بری ہو چکے ہیں۔ ان تمام فیصلوں نے پاکستان کے سیاسی ماحول میں احتسابی عمل کی غیرجانبداری پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ان عدالتی فیصلوں کو اقتدار کی تبدیلی کے بعد ملنے والا “سیاسی ریلیف” قرار دے رہی ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر احتسابی نظام واقعی آزاد اور خودمختار ہے تو پھر حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ مقدمات کے نتائج کیوں تبدیل ہو جاتے ہیں؟ ان کے مطابق یہ صورتحال ملک میں احتساب کے نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کا مؤقف بالکل مختلف ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق عمران خان کے دورِ حکومت میں احتسابی اداروں کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا اور شریف خاندان کے خلاف بنائے گئے مقدمات بدنیتی، سیاسی انتقام اور دباؤ کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں اب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے دے رہی ہیں، جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ماضی میں قائم کیے گئے مقدمات کمزور اور سیاسی نوعیت کے تھے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی، کیا مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ چھڑنے والی ہے؟
قانونی حلقوں کے مطابق یہ مقدمات محض عدالتی کارروائیاں نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی نظام، احتسابی اداروں کی ساکھ، عدلیہ کے کردار اور طاقت کے توازن سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے آنے والے مہینوں میں عدالتوں کے فیصلے نہ صرف شریف خاندان کی سیاسی حیثیت بلکہ ملکی سیاست کی مجموعی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
