کراچی میں عورت مارچ پر حکومتی پابندیاں تنقید کی زد میں

کراچی میں ہونے والے عورت مارچ کیلئے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے مشروط اجازت نامے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خاص طور پر این او سی میں شامل وہ شقیں جن میں ’قابلِ اعتراض لباس‘ سے گریز، مخصوص سیاسی یا سماجی گروہوں کی شرکت پر پابندی اور بعض نعروں و بینرز پر قدغن شامل ہے، سوشل میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔عورت مارچ کی منتظم اور معروف فنکارہ شیما کرمانی نے اس این او سی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ایسی کسی شرط کا ذکر نہیں کیا تھا کہ خواتین کے لباس کا فیصلہ بھی حکومتی ادارے کریں گے۔ ان کے مطابق منتظمین نے ابھی تک اجازت نامے پر دستخط نہیں کیے اور اس حوالے سے باہمی مشاورت جاری ہے۔

خیال رہے کہ کراچی مین عورت مارچ کے انعقاد کا تنازع اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب چند روز قبل کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی آرگنائزرز اور خواتین کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں نے شیما کرمانی کو ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ پولیس افسران کی جانب سے نامناسب زبان کے استعمال اور خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیموں بلکہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی سخت تنقید کی۔

بعد ازاں سندھ حکومت نے واقعے میں ملوث بعض پولیس افسران کو معطل کر دیا، تاہم اس کے باوجود معاملہ ختم نہ ہو سکا۔ اب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے این او سی نے ایک نئی قانونی، سماجی اور سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اجازت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مارچ کے دوران ریاست مخالف، مذہب مخالف یا اشتعال انگیز نعروں اور تقاریر کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسی کے ساتھ ’قابل اعتراض لباس‘ پہننے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، مگر اس اصطلاح کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔ یہی اب سب سے بڑا سوال بن چکا ہے کہ آخر قابل اعتراض لباس کا معیار کون طے کرے گا اور اس کی تشریح کس بنیاد پر کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر کئی سماجی کارکنوں اور دانشوروں نے اس شق کو خواتین کی شخصی آزادی میں مداخلت قرار دیا۔ ناقدین کے مطابق اگر ریاست خواتین کے لباس، نعروں اور اجتماع کے انداز پر شرائط عائد کرے گی تو پھر آزادی اظہار اور پرامن احتجاج کا آئینی حق محدود ہو جائے گا۔این او سی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور جئے سندھ قومی محاذ کا حوالہ بھی دیا گیا، حالانکہ ناقدین کے مطابق ان تنظیموں کو باضابطہ طور پر کالعدم قرار نہیں دیا گیا۔ اسی نکتے پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلاف رکھنے والے گروہوں کو عورت مارچ جیسے سماجی پلیٹ فارم سے دور رکھنے کی کوشش دراصل اختلافِ رائے کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔عورت مارچ لاہور سمیت مختلف شہروں کی تنظیموں نے بھی کراچی کے منتظمین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنے ہی ملک میں سڑکوں پر نکلنے کیلئے اجازت ناموں کی محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق عورت مارچ محض ایک ریلی نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی حقوق، تحفظ اور برابری کی علامت بن چکا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ شہر میں سکیورٹی خدشات اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث ایسی شرائط ضروری ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریلی یا اجتماع کیلئے ضابطہ اخلاق بنانا معمول کی کارروائی ہے اور اس کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا ہے، نہ کہ کسی کی آزادی سلب کرنا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف این او سی کی شرائط کا نہیں بلکہ ریاستی رویے کا بھی ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں اس سے قبل بھی انسانی حقوق، لاپتا افراد، خواتین اور اقلیتی حقوق کیلئے ہونے والے احتجاجوں پر پولیس تشدد اور گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ شہری آزادیوں کیلئے جگہ مسلسل محدود ہو رہی ہے۔

شیما کرمانی نے اپنی رہائی کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ خواتین کو پنک سکوٹر دینے یا نمائشی اقدامات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اگر انہیں بنیادی آزادی، تحفظ اور اظہار رائے کا حق ہی حاصل نہ ہو۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا اور کئی حلقوں نے اسے موجودہ صورتحال کی عکاسی قرار دیا۔کراچی میں عورت مارچ کے این او سی پر پیدا ہونے والا تنازع اب صرف ایک اجازت نامے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ سوال بن چکا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور ریاستی حدود کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے گا۔

Back to top button