آبنائے ہرمز میں کشیدگی، کیا مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ چھڑنے والی ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے، تاہم اگر معاملات طے نہ پائے تو ’’پراجیکٹ فریڈم پلس‘‘ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ خطہ کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو نئی تجاویز دی ہیں اور اب تہران کے جواب کا انتظار ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران دانستہ تاخیر کر رہا ہے تو انہوں نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیا کہ ’’ہمیں جلد پتہ چل جائے گا‘‘۔ ٹرمپ کی جانب سے ’’پراجیکٹ فریڈم پلس‘‘ کا ذکر دراصل ایک سخت عسکری اور سفارتی دباؤ کی حکمت عملی تصور کیا جا رہا ہے جس کے ممکنہ اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق دوسری جانب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیج میں حالیہ بحری جھڑپوں کے بعد امریکی سفارت کاری کی سنجیدگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن امن کے بجائے دباؤ کی سیاست کھیل رہا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو جواب بھی اسی شدت سے دیا جائے گا۔

کشیدگی کے اس ماحول میں برطانیہ نے بھی بڑا قدم اٹھاتے ہوئے رائل نیوی کے جنگی جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی مشن کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک نے جنگ کے خاتمے تک اس مشن میں مکمل شمولیت مؤخر کر دی ہے، تاہم برطانوی اقدام نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ عالمی طاقتیں خلیجی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔

اس تمام صورتحال کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ قطر سے پاکستان کیلئے روانہ ہونے والا ایل این جی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے گا، جہاں اس وقت شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں تنازع مزید بڑھا تو پاکستان سمیت کئی ممالک کو تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بھی خطے میں امن کیلئے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران پاکستان کی قیادت میں جاری امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور مستقل امن کیلئے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے کے اہم ممالک کسی بڑے تصادم سے بچنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

ادھر امریکہ نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے 10 افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان افراد اور کمپنیوں کا تعلق چین اور ہانگ کانگ سے ہے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو شاہد ڈرون پروگرام کیلئے خام مال فراہم کیا۔ اس اقدام نے امریکہ اور چین کے درمیان بھی ایک نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

بحرین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک 41 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ ایران کے اندر بھی سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 262 جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں اور متعدد صحافیوں، فنکاروں اور سیاست دانوں پر دشمن سے تعاون کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کنٹرول ’’ایٹم بم رکھنے جیسی طاقت‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہونے والے فیصلے ایران کیلئے ایک بڑی اسٹریٹجک طاقت ہیں۔ اس بیان نے عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

اسی دوران چین میں تعینات ایرانی سفیر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایرانی فورسز نے ایک چینی عملے والے آئل ٹینکر پر حملہ کیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں ایران اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔

دوسری طرف ایران نے جنگ کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والے اس اجلاس میں معاشی صورتحال، شہریوں کے روزگار اور جنگی اثرات پر غور کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اجلاس ایران کی داخلی مشکلات اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا واضح اشارہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک بڑا بحران بنتی جا رہی ہے۔ دنیا کی نظریں اب تہران کے جواب پر مرکوز ہیں کیونکہ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ سفارت کاری کی طرف جاتا ہے یا ایک نئی خطرناک جنگ کی لپیٹ میں آتا ہے۔

Back to top button