پاکستانی میزائل فتح تھری،بھارت کیلئے نیا سٹریٹیجک چیلنج کیوں؟

پاک فوج کی جانب سے حالیہ دنوں میں فتح تھری کروز میزائل کی رونمائی نے نہ صرف دفاعی حلقوں بلکہ عالمی عسکری ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس نئے پاکستانی میزائل کا سب سے زیادہ موازنہ بھارت کے معروف سپر سونک براہموس میزائل کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جسے جنوبی ایشیا کے خطرناک ترین اور جدید ترین میزائل نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم یہاں اصل سوال یہ ہے کہ آخر پاکستانی میزائل فتح تھری میں ایسی کیا خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے اسے انڈین میزائل براہموس کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تشہیری ویڈیو میں پہلی مرتبہ فتح تھری کی تصویر سامنے آئی۔ اگرچہ اس میزائل کی تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک سپر سونک کروز میزائل ہے جو آواز کی رفتار سے تین سے چار گنا زیادہ رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ بنیادی خصوصیت ہے جو اسے براہموس کے قریب لے جاتی ہے۔ دفاعی ماہرین کے بقول فتح سیریز کے میزائل پہلے ہی پاکستان کی روایتی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ فتح ون اور فتح ٹو جیسے میزائل پریسیژن سٹرائیکس کیلئے تیار کیے گئے تھے تاکہ دشمن کے اہم فوجی اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جا سکے۔ تاہم فتح تھری کو اس سیریز میں ایک بڑی تکنیکی چھلانگ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بظاہر پاکستان کا پہلا سپر سونک کروز میزائل ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق فتح تھری میں ’’ریم جیٹ انجن‘‘ استعمال کیا گیا ہے، جو اسے انتہائی تیز رفتار بناتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی بھارت کے براہموس میزائل میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ براہموس اپنی رفتار، کم بلندی پر پرواز اور ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کے باعث دنیا کے خطرناک ترین کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ میزائل ’’فائر اینڈ فارگیٹ‘‘ اصول پر کام کرتا ہے، یعنی ایک مرتبہ لانچ ہونے کے بعد اسے مسلسل کنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

فتح تھری کے ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے کئی ماہرین نے اس کا تعلق چین کے ایچ ڈی ون میزائل سے جوڑا ہے۔ ایچ ڈی ون ایک چینی سپر سونک کروز میزائل ہے جو 2018 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ میزائل 2700 سے 4300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چونکہ پاکستان گزشتہ چند برسوں سے چین کے ساتھ دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے، اس لیے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فتح تھری کی تیاری میں چینی ٹیکنالوجی یا لائسنسنگ کا کردار موجود ہو سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فتح تھری واقعی ایچ ڈی ون کے ایکسپورٹ ورژن پر مبنی ہے تو اس کی ابتدائی رینج تقریباً 280 کلومیٹر ہو سکتی ہے، تاہم پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی میں پیش رفت کو دیکھتے ہوئے اسے مستقبل میں 400 سے 500 کلومیٹر تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی براہموس میزائل تقریباً 290 کلومیٹر یا اس سے زائد رینج رکھتا ہے اور اسے زمینی، بحری اور فضائی پلیٹ فارمز سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ فتح تھری اور براہموس کے درمیان ایک اور اہم مماثلت ان کی ’’پریسیژن سٹرائیک‘‘ صلاحیت ہے۔ جدید جنگوں میں اب صرف بڑے دھماکے نہیں بلکہ دشمن کے حساس دفاعی مراکز، ریڈار سسٹمز، ایئر بیسز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کو تیزی اور درستگی کے ساتھ تباہ کرنا اصل ہدف بن چکا ہے۔ سپر سونک کروز میزائل اسی حکمت عملی کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کی رفتار دشمن کو ردعمل کا کم وقت دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں اب روایتی ٹینکوں اور بھاری فوجی نقل و حرکت سے زیادہ ڈرونز، سائبر حملوں اور میزائلوں کے گرد گھومیں گی۔ روس یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ تیز رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے میزائل جدید جنگی حکمت عملی کا مرکزی ہتھیار بنتے جا رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے بقول پاکستان نے گزشتہ برس راکٹ فورس قائم کر کے اپنے روایتی میزائل پروگرام کو نئی سمت دی۔ اس اقدام کا مقصد جوہری اور روایتی میزائل نظاموں کو الگ کرنا تھا تاکہ جنگی حالات میں فیصلہ سازی تیز اور مؤثر ہو سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فتح تھری جیسے میزائل مستقبل میں پاکستان کی ڈیٹرنس پالیسی کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں میزائل ٹیکنالوجی کی دوڑ مزید تیز ہو سکتی ہے۔ براہموس اور فتح تھری جیسے سپر سونک کروز میزائل نہ صرف طاقت کے توازن کو متاثر کریں گے بلکہ مستقبل کی کسی بھی ممکنہ جنگ کو مختصر، تیز اور انتہائی خطرناک بھی بنا سکتے ہیں۔

Back to top button