ایران امریکہ امن مذاکرات کیلئے پاکستان ناگزیر کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران امریکا تنازع کے تناظر میں پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، اور سفارتی حلقے اس پیش رفت کو خطے میں امن کیلئے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی و علاقائی کشیدہ صورتحال میں پاکستان واحد ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر واشنگٹن، تہران، بیجنگ اور خلیجی ریاستیں بیک وقت اعتماد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے حالیہ بحران میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی اختیار کی۔ وزیراعظم، عسکری قیادت اور دفتر خارجہ کی سطح پر امریکا، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف جنگ بندی کیلئے ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ مذاکرات کے انعقاد اور ان کے تسلسل میں بھی اسلام آباد کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران اس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں کہ وہ کسی غیر جانبدار اور قابل اعتماد متبادل مقام پر متفق ہو سکیں۔ جنیوا یا دیگر یورپی شہروں کے نام زیر غور ضرور آئے، لیکن واشنگٹن کی جانب سے اسلام آباد کو ترجیح دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی میں خود کو ایک سنجیدہ اور متوازن قوت کے طور پر منوایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران کا پاکستان پر اعتماد کوئی نئی بات نہیں۔ تہران ہمیشہ اسلام آباد کو خطے میں ایک ذمہ دار ہمسایہ اور قابل اعتماد اسلامی ملک سمجھتا آیا ہے۔ یہی اعتماد اب مذاکراتی عمل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان بعض اہم نکات پر ابتدائی اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم انہیں تاحال خفیہ رکھا گیا ہے تاکہ مناسب وقت پر ان کا باضابطہ اعلان کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اپنے ممکنہ دورۂ چین سے قبل ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر پیش رفت چاہتے ہیں۔ اگرچہ مکمل اور جامع معاہدہ فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم ایک محدود یا عبوری معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔ اس ممکنہ معاہدے میں جنگ بندی کے تسلسل، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے بقول آبنائے ہرمز اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ اس کی بندش نے عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکا، خلیجی ممالک اور یورپی طاقتیں اس بات کا ادراک کر چکی ہیں کہ اگر ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔ اسی لئے فریقین اب ایسے قابل قبول فارمولے کی تلاش میں ہیں جس سے نہ صرف سمندری راستے محفوظ بن سکیں بلکہ خطے میں کشیدگی بھی کم ہو۔

چین بھی اس تمام صورتحال میں انتہائی متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ بیجنگ چاہتا ہے کہ امریکی صدر کے دورۂ چین سے پہلے اسلام آباد مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو تاکہ خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان کے سفارتی کردار کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ ماضی میں تہران اور ریاض کے تعلقات میں بہتری کیلئے چین نے اہم کردار ادا کیا تھا اور اب بھی وہ خطے میں مفاہمت کی کوششوں کا حامی نظر آتا ہے۔

پاکستان نے بظاہر خاموش لیکن مؤثر انداز میں مذاکراتی عمل کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں سکیورٹی، رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا بلکہ عالمی سفارت کاری میں اس کی اہمیت بھی مزید بڑھ جائے گی۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسی پوزیشن حاصل کر رہا ہے جہاں وہ مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آنے والے چند روز نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button