عمران خان کا ‘جھوٹا بیانیہ’ ہاتھوں ہاتھ کیوں بکتا ہے؟

‘سلیکٹڈ وزیر اعظم’ کا خطاب حاصل کرنے والے عمران خان نے ایسے سخت سوالات سے بچنے کے لیے جو ممکنہ طور پر ان کی منافقت اور جھوٹ کو بے نقاب کر سکتے تھے، ہمیشہ مخصوص سامعین اور چنیدہ میڈیا کا استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان کا انٹرویو صرف ایسے مداحوں نے کیا جنہوں نے صحافیوں کا روپ دھار رکھا ہے۔ جہاں صحافی ان سے سخت سوالات پوچھ سکتے تھے، ایسے انٹرویوز سے وہ اٹھ جانے کی دھمکی دیتے رہے ہیں۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب ان سے انٹرویو لینے والوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے یا پھر ان کے سائبر واریئرز کی عمرانڈو بریگیڈ کے ذریعے سے ایسے صحافیوں کو بری طرح سے ٹرول کیا گیا۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے مرتضیٰ سولنگی کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا میں ابھی بھی مٹھی بھر ایسے صحافی موجود ہیں جنہوں نے اپنے سوالوں سے عمران خان کو خاصی مشکل صورت حال میں ڈالا ہے۔ڈی ڈبلیو کے لیے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں تجربہ کار صحافی ٹم سیباسٹین نے بری شہرت کے حامل پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان سے چند سخت سوالات پوچھ کر انہیں شدید مشکل سے دوچار کر دیا۔عمران خان نے اپنے سابقہ معمول کے مطابق سوالات کا رخ موڑنے اور صحافی کو بھٹکانے کی پوری کوشش کی تاہم سیباسٹین اپنے سوالوں سے ذرا برابر ادھر ادھر نہیں ہوئے اور اس کے نتیجے میں عمران خان خاصی پریشانی میں مبتلا ہو گئے اور انہوں نے سوالات کی بوچھاڑ کو روکنے کے لیے بڑبڑانا شروع کر دیا۔
مرتضیٰ سولنگی کے مطابق انٹرویو کے آغاز میں عمران خان نے ایک سفید جھوٹ بولا کہ 70 سال کی عمر میں اب سے پہلے ان کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ سیباسٹین سمیت ہر ایک کو کیلیفورنیا عدالت کے اگست 1997 میں عمران خان کے خلاف سنائے گئے فیصلے کے بارے میں ضرور معلوم ہو گا۔ عمران خان کے خلاف یہ مقدمہ ان کی آنجہانی گرل فرینڈ سیتا وائٹ نے درج کروایا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ان کی اکلوتی بیٹی ٹیریان وائٹ کے والد ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لڑکی اب عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے ساتھ لندن میں ان کے دیگر دو بچوں کے ہمراہ رہ رہی ہے۔
یہاں سے ہم 2014 میں چلتے ہیں جب عمران خان اور ان کے ‘سیاسی کزن’ اور شعلہ بیان مذہبی رہنما طاہر القادری نے پاکستان میں طاقت کے مرکز یعنی شاہراہ دستور پر قبضہ کرنے کے لئے قومی دارالحکومت اسلام آباد پر دھاوا بولا تھا تو اس کے بعد عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ عمران خان نے انٹرویو میں یہ ذکر کرنا گوارا نہیں کیا کہ کس طرح ان کے حمایتی غنڈے پارلیمنٹ کی عمارت اور وزیر اعظم ہاؤس پر چڑھ دوڑے تھے اور کس طرح ان کے ‘تربیت یافتہ دستوں’ نے قومی ٹیلی ویژن سٹیشن پر ‘قبضہ’ کرنے کے بعد جشن منایا تھا اور اس میں توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ اس کی نشریات کو بھی معطل کر دیا تھا۔سابق وزیر اعظم نے یہ بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا کہ کس طرح اپنے ان گرفتار کارکنوں کو پولیس کی حراست سے چھڑانے کے لیے وہ خود اپنے مضبوط کنٹینر سے نیچے اتر آئے تھے اور کس طرح ان کے حامیوں نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو سمیت اعلیٰ پولیس افسران کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور اس ساری کارروائی کے دوران وہ خود کس طرح اپنی تقریروں میں مسلسل پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے تھے۔عمران خان یہ بتانے میں بھی ناکام رہے کہ کس طرح وزیر اعظم کے طور پر اپنے دور اقتدار میں انہوں نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے خلاف درج تمام مقدمات کو ختم کروانے کے لیے انتظامی اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ان میں سے کسی بھی واقعے کا ذکر گول کر گئے جب وہ سیباسٹین کو یہ لیکچر سنا رہے تھے کہ طاقتور لوگوں کو قانون اور احتساب کے دائرے میں لانے پر وہ کس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے بتایا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا اس کے لیے ان کی پارٹی کے 10 ہزار سے زیادہ کارکنان اور حامیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس سے قبل عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ 9 مئی کو جب ان کی جماعت پی ٹی آئی نے سول اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے تو ان حملوں میں ان کے 25 کارکنان ہلاک ہو گئے تھے۔جب صحافی نے ان سے مرنے والوں کی فہرست فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تو خاموشی ہی وہ واحد ردعمل تھا جو سیباسٹین کو عمران خان اور ان کی پارٹی کی جانب سے ملا۔ متعلقہ حلقوں سے جب عمران خان کے ان دعوؤں سے متعلق دریافت کیا گیا تو سبھی کے جواب سے یہ تاثر ملا کہ عمران خان نے صحافی سیباسٹین کے سامنے اپنے دعوؤں میں تعداد کو تقریباً دوگنا کر کے بتایا ہے۔ عمران خان ایسا ہی کرتے ہیں اور دل کھول کر مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔
مرتضیٰ سولنگی کے مطابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اطلاعات و نشریات کے سیکرٹری جنرل مجیب الرحمان نے سیاست میں آنے کے لئے عمران خان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے خود بھی عمران خان کو سیاست میں آنے کو کہا تھا۔جب 1996 میں عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصافکا آغاز کیا تو اسے انٹر سروسز انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل (ر) حمید گل کے ساتھ مل کر شروع کیا گیا تھا۔ حمید گل بعد میں عمران خان سے الگ ہو گئے تھے۔جب فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کا تختہ الٹا تھا تو عمران خان وہ پہلے سیاست دان تھے جو پرویز مشرف کے ساتھ جا کھڑے ہوئے تھے۔جنرل پرویز مشرف نے اپریل 2002 میں جب ملک میں دھوکہ دہی پر مبنی ریفرنڈم منعقد کیا جس میں 97.97 فیصد لوگوں نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا تو اس ریفرنڈم میں جنرل پرویز مشرف کے چیف پولنگ ایجنٹ عمران خان بنے تھے۔
چھ ماہ بعد جب اکتوبر 2002 میں شدید دھاندلی زدہ انتخابات منعقد ہوئے تو جنرل پرویز مشرف کے پہلے ‘سلیکٹیڈ’ وزیر اعظم بننے کی خواہش میں عمران خان نے ان سے قومی اسمبلی کی 100 نشستوں کا مطالبہ کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور نتیجے کے طور پر ان عام انتخابات میں عمران خان میانوالی میں اپنے آبائی حلقے سے قومی اسمبلی کی محض ایک نشست ہی جیتنے میں کامیاب ہو سکے۔
یہی وقت تھا جب عمران خان نے جنرل پرویز مشرف سے راہیں جدا کر لیں۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ان کا غصہ اسی وقت پیدا ہوا جب وہسکی برانڈ جنرل مشرف نے انہیں اپنا ‘سلیکٹیڈ’ وزیر اعظم بنانے سے انکار کر دیا تھا۔
مرتضیٰ سولنگی کے مطابق2002 کے جعلی انتخابات کے دوران بھی نواز شریف پاکستان میں اچھے خاصے مقبول تھے لیکن چونکہ ان کی پارٹی کو جنرل مشرف نے بے دردی سے توڑ پھوڑ دیا تھا، اس لیے ان کی جماعت یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کی کل 342 میں سے محض 19 نشستیں ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کس قسم کی کارکردگی دکھاتی ہے جبکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی اس حمایت سے محروم ہو چکی ہے جس نے 2018 میں اسے مسند اقتدار پر بٹھانے کا پورا پورا بندوبست کیا تھا۔
