کیا کاٹن بڈز کا اصل استعمال کان کی صفائی ہے؟

آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ عام طور پر کاٹن بڈز کو جس کام کے لیے استعمال میں لاتے ہیں، اس کا اصل مقصد یہ نہیں ہے، کاٹن بڈز سے کان کی صفائی نقصان دہ عمل ہے جبکہ کاٹن بڈز کو 1920 میں نومولود بچوں کی صفائی کیلئے متعارف کروایا گیا تھا۔
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کاٹن بڈز کان کی صفائی کے لیے ایجاد نہیں کیے گئے تھے، جی ہاں! جس سے ہم کان صاف کرتے ہیں اس کا اصل استعمال دراصل کچھ اور ہی ہے، 2019 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جب برطانوی عوام سے سوال کیا گیا تو 62 فیصد لوگوں نے کہا کہ کاٹن بڈز کو کان کی صفائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، جوکہ غلط تصور ہے۔
1920 کی دہائی میں پولش نژاد امریکی لیو گرسٹینزانگ کی ایجاد کردہ، کاٹن بڈ کو اصل میں بچوں کی حفظان صحت کی مصنوعات کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا یعنی کاٹن بڈز کو نومولود کی صفائی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، بچوں کی ناف اس سے صاف کی جاتی تھی، جو اب بھی کچھ خواتین کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ بھی اسے کئی چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ میک اپ سیٹ کرنے، آئی لائنر پھیلنے پر اسے صاف کرنے، نیل پالش ناخن سے باہر نکلے تو اسے صاف کرنے، گھر کی مختلف اشیاء جہاں ہاتھ نہ پہنچتا ہو اس کی صفائی یا آرٹ اور کرافٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
بعدازاں اسے کان صاف کرنے کے لیے لوگ استعمال کرنے لگے اور سمجھنے لگے کہ یہ کان صاف کرنے کے لیے ہی بنے ہیں، بہت سی وجوہات ہیں جن کے باعث آپ کو کانوں میں کاٹن بڈز، چابی یا بالوں میں لگانے والی پن نہیں ڈالنی چاہیے، آئیے ان میں سے کچھ پر نظر ڈالتے ہیں۔ دراصل جسے ہم کان کا میل سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ جسم سے نکلنے والا قدرتی مادہ ہوتا ہے جو حقیقت میں کان کی نازک سطح کی حفاظت کرتا ہے جیسے کہ ائیر ڈرم۔
کان میں جانے والی مٹی ‘ائیر ویکس’ بن جاتی ہے جو کان کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے نہیں دیتی، کچھ کھانے یا بولنے کے دوران یہ ویکس سوکھ کر خود ہی کانوں سے خارج ہو جاتی ہے، ائیر ویکس قدرتی طریقہ ہے جس سے آپ کے کان صاف رہتے ہیں۔
اس سے آپ کے کان میں کوئی انجری ہو سکتی ہے یا آپ قوت سماعت سے محروم بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ کاٹن بڈز یا ہاتھ کی انگلی سے چھوٹی چیز کانوں میں ڈالنے سے ائیر ڈرم متاثر ہوسکتا ہے۔
کاٹن بڈز سے کان صاف کرنے کے بجائے ائیر ویکس کان کے مزید اندر جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں انفیکشن اور دیگر بیماریاں ہو سکتی ہیں، اس کے استعمال سے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ کاٹن بڈ کی روئی آپ کے کان کے اندر نہ پھنس جائے، اسے نکالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

Back to top button