پاکستانی سیلرز کیلئے ایمازون پر کاروبار کتنا منافع بخش ہے؟

دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس ویب سائٹ ایمازون سے اب کئی پاکستانی کاروباری افراد فائدہ حاصل کر رہے ہیں، پاکستان میں ایمازون سروسز کا آغاز 2021 میں کیا گیا تھا۔
ایمازون ایک ایسی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ہے جسے دنیا کی سب سے زیادہ قابل قدر کمپنیوں میں سے ایک جانا جاتا ہے، اس کی بنیاد 1994 میں رکھی گئی تھی اور اب یہ دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جو اربوں ڈالر کا کاروبار کرتی ہے جہاں دنیا بھر سے ہر قسم کے سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
اسلام آباد کے رہائشی منصور علی خان پچھلے 3 برس سے ایمازون کے ذریعے مختلف پراڈکٹس بیچ رہے ہیں جن کے مطابق پاکستان میں رہتے ہوئے ایمازون سے پیسے کمانا آسان نہیں ہے اور اس کی ایک وجہ بیرونی ممالک چیزوں کو بھجوانا ہے اور دوسرا بھاری بھرکم ٹیکسز دینا ہے کیونکہ ایک عام سیلر کے لیے یہ بلکل بھی فائدہ مند نہیں ہے۔
منصورعلی اس وقت یورپ میں ایمازون کے ذریعے بال پین کا بزنس کرتے ہیں اور ان کی مارکیٹ بھی یورپ میں ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پین کی آن لائن خریداری بلک کی صورت میں وہیں سے کرتے ہیں اور وہیں فروخت بھی کرتے ہیں اور یوں وہ اچھا خاصا کما رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں منصور علی کہتے ہیں کہ ان کے لیے پاکستانی مصنوعات بیچنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ وہ پاکستان سے باہر وہ چیز ڈیلیور کیسے کریں گے اگر مجھے بیرون ملک سے ایک آرڈر ملتا ہے جس کی قیمت چند ہزار یا چند سو روپے ہوگی، مگر میرے لیے نقصان ہوگا کیوںکہ اس ملک اور شخص تک اس پراڈکٹ کو پہنچانے میں بہت وقت لگ جائے گا اور اچھی خاصی رقم بھی صرف ہوگی جو مجھ جیسے کسی عام سیلر کے لیے ناممکن سی بات ہے۔
محمد احتشام کا تعلق راولپنڈی سے ہے جو ایک کاروباری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایمازون کی سروسز بھی مہیا کرتے ہیں نے ایمازون کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی مصنموعات ایمازون پر فروخت ہو سکتی ہیں اور یہ وہ لوگ ہی فروخت کر سکتے ہیں جن کی اپنی فیکٹریاں ہوں یا جو بڑے پیمانے پر کاروبار کرتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کپڑے، اسپورٹس کٹ اور اسپورٹس کی اشیا خاصی مشہور ہیں مگر ایک عام شخص کے لیے تھوک میں یہ اشیا خرید کر ایمازون پر بیچنا فائدے کی جگہ نقصان کا سودا ہے کیوںکہ وہ کسی دوسرے ممالک میں ان اشیا کو ڈیلیور ہی نہیں کروا سکے گا۔
محمد ناصر فیصل آباد کے رہائشی ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 15 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے منسلک ہیں اور انہوں نے گزشتہ برس ایک دوست کے کہنے پر ایمازون پر اسٹور بنایا اور وہاں کپڑوں کی تصاویر لگا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہیں انڈیا، امریکا اور سعودی عرب سے ان کپڑوں کی ڈیمانڈ آئی جس سے قبل معلوم نہیں تھا کہ ٹیکسز کے علاوہ بھی پیسے درکار ہوتے ہیں اور ان ممالک تک پاکستانی مصنوعات کو عام فرد کے لیے بھجوانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد ای سیکلز کمپنی کی ٹرینر ماہ نور ثمر کہتی ہیں کہ ایمازون پر کام کرنے کے لیے آپ کو پہلے کمپنی کو لیمیٹڈ لائبلیٹی کمپنی( ایل ایل سی) امریکا سے رجسٹر کروانا ہوتا ہے جس کے تقریبا 1000 ڈالر ایجنٹ کو دینے ہوتے ہیں جس میں رجسٹریشن اور ایجنٹ کی فیس شامل ہوتی ہے اور سارے عمل کے بعد ایمازون پر کمپنی کی پروفائل بنتی ہے جبکہ پرائیویٹ لیبل کو لانچ کرنے کے لیے کم از کم 15 سے 20 ہزار ڈالر کا ہونا ضروری ہے۔ پرائیویٹ لیبل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایمازون پر پاکستانی اشیا کی کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پرائیویٹ لیبل پر کاروبار کرنے والے لوگوں کی اتنی تعداد نہیں ہے جب کہ ایمازون پر پاکستان سے پول سیل کاروبار کرنے والے افراد کی اچھی خاصی تعداد ہے اور اس کی یہی وجہ ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو دوسرے ممالک میں پہنچانے کے لیے ایک طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس کے لیے اچھا خاصا وقت ہی نہیں بلکہ پیسے بھی درکار ہوتے ہیں اور ٹیکسز الگ دینے پڑتے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا میں ای کامرس کی سب سے بڑی ویب سائٹ ایمازون نے 2021 میں پاکستان کو اپنی سیلرز لسٹ میں شامل کیا تھا جسے ایک خوش آئند خبر قرار دیا گیا تھا۔
