مریم نواز وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کیسے ہوئیں؟

مسلم لیگ نون میں نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی نعرے گونجنے اور شہباز شریف کے وزیر اعظم کے متبادل وزیر اعظم بننے کے دعوؤں کے بعد مریم نواز وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز کو بطور وزیر اعظم نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار کے طور پر لایا جائے گا جبکہ نواز شریف ہی نون لیگ کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ ملنا مسلم لیگ ن کی بڑی کامیابی ہوگی اور جماعت میں اکثریت کی یہ رائے ہے کہ مریم نواز کو آئندہ انتخابات میں اگر وزیراعلیٰ پنجاب کی امیدوار کے طور پر لایا جائے تو اس سے پارٹی پنجاب میں مزید مضبوط ہوگی اور پنجاب کے عوام بھی ایک ایسا وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں جو عوامی مسائل کا تدراک کر سکے۔
وی نیوز کی ایک ارپورٹ کے مطابق مریم نواز اس وقت مسلم لیگ ن میں سنیئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ مریم نواز نے پارٹی کو متحرک کرنے کے لیے تنظیمی اجلاس، جلسے جلوس کیے اور نہ صرف اب بلکہ عمران خان کے دور میں بھی جب ن لیگ پر برا وقت چل رہا تھا اس وقت اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھتے ہوئے پارٹی کی طرف سے ایک ہی مضبوط آواز بن کر میڈیا کے سامنے آئی وہ مریم نواز ہی تھیں جو پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسے کرتیں تو وہاں کی عوام مریم نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈ آتے۔عمران خان کے دور میں اگرچہ مریم نواز کی پریس کانفرنس، جلسے جلوس میڈیا پر دکھانے پر پابندی تھی لیکن سوشل میڈیا پر اپنے بیانات کی وجہ سے چھائی رہیں۔ مریم نواز نے نواز شریف کی سوچ اور بیانیہ مضبوط بنایا۔
تاہم موجودہ صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز پہلی خاتون چیف منسٹر بن سکیں گی ؟نون لیگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن انتخابی میدان میں ہر حلقے میں اپنے امیدوار بھر پور طریقے سے اتارے گی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ مریم نواز جب وزیر اعلیٰ پنجاب کی امیدوار کے طور پر الیکشن مہم چلائیں گی اور نواز شریف ان کے ساتھ ہوں گے تو نتائج مختلف نظر آئیں گئے کیونکہ عوام میں مریم نواز کا ایک کریز ہے اور امید ہے پنجاب کی صوبائی سیٹوں پر ن لیگ کے 170 سے 175 امیدوار کامیاب ہو جائیں گے جس کے بعد ایک ہی کام ہوگا کہ مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر حلف اٹھائیں گئی اور پہلی خاتون چیف منسٹر بن جائیں گی۔پارٹی ذرائع کا کہنا کہ مختلف پارٹی نے سروے کروائے ہیں جن میں حمزہ شہباز اور مریم نواز کے حوالے سے عوامی رائے لی گئی۔ سروے سے سامنے آیا کہ پنجاب کے تقریبا ہر ضلعے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور عوام چاہتے ہیں کہ مریم نواز کو وزیر اعلیٰ پنجاب ہونا چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دور میں بھی جب حکومتی مشینری ان کے خلاف کام کر رہی تھی اور ہر حربہ مسلم لیگ ن کو گرانے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا اس وقت مسلم لیگ ن نے پاکستان میں ہونے والے تقریباً ہر ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئی تھیں۔ 20 سے زائد حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے تھے اور انتخابی مہم کو مریم نواز نے لیڈ کیا تھا اور سیٹس مسلم لیگ ن لینے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
کچھ عرصہ قبل جب پنجاب میں انتخابات کی باز گشت تھی تو مختلف حلقوں سے کاعذات نامزدگی تقریباً ساری جماعتوں کی جانب سے جمع کروائے گئے تھے مریم نواز نے بھی لاہور کے 2 صوبائی حلقوں سے اپنے کاعذات نامزدگی جمع کروائے تھے جبکہ گوجرانولہ کے بھی ایک حلقے سے مریم نواز نے بطور صوبائی امیدوار کے کاعذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔
کچھ عرصہ قبل جب مریم نواز سے پوچھا گیا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گی تو ان کا جواب تھا کہ پارٹی انہیں جو بھی عہدہ دے اور جس سیٹ کے لیے موزوں سمجھے گی وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں یہ بھی بتایا تھا کہ اگر انہیں پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے طور لایا جاتا ہے تو انہیں خوشی ہوگی کہ پنجاب کی پہلی چیف منسٹر ایک خاتون ہوگی اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس طرح پنجاب کے عوام کو ایک عوامی لیڈر مل جائے گی جو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کا ارداہ رکھتی ہے اور خواتین کی ایک توانا آواز بن کر سامنے آئے گی۔
